ملک کے تمام صوبوں کے پسماندہ طبقات کو حقوق ملنے پرہی’پاکستان زندہ باد‘ کا خواب سچا ہوگا، محمود خان اچکزئی

کوئٹہ /لاہور (این این آئی)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئر مین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی، مرکزی سینئر نائب صدر و اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ، جنرل سیکرٹری تحریک تحفظ آئین پاکستان اسد قیصر اور مرکزی ترجما ن اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی ، عمار علی جان ودیگر رہنماﺅں نے لاہور پریس کلب میں یوم مزدور کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں شرکت کی۔ محمود خان اچکزئی نے حقوق خلق پارٹی کے زیر اہتمام یوم مئی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے مزدور بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہوںاور لاہور پریس کلب کے سامنے موجود محنت کشوں کے بیٹوں اور بیٹیوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مزدوروں نے اپنے کام کی زیادتیوں کے خلاف ہڑتالیں کیں۔موجودہ 8 گھنٹے کے اوقاتِ کار ان بہادر مزدوروں کی عظیم قربانیوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں مزدوروں کی تعداد کم ہے۔ یومِ مئی پر ہزاروں مزدوروں کو سڑکوں پر نکل کر اپنے حقوق کی آواز اٹھانی چاہیے تھی۔ یہ سیاسی قیادت کی کمزوری ہے کہ مزدوروں کو صحیح راستہ نہیں دکھایا گیا۔انہوں نے کہا کہ روسی مصنف میکسم گورکی کی زندگی کی جدوجہد ہمارے سامنے ہے۔ گورکی نے کبھی کسی باقاعدہ تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل نہیں کی بلکہ زندگی کے تجربات ان کی اصل یونیورسٹی تھے۔ان کے بچپن کے حالات بہت مشکل تھے، جہاں ان کے نانا سخت مزاج جبکہ نانی ایک رحم دل اور شریف خاتون تھیں۔گورکی کا شہرہ آفاق ناول ‘ماں’ اپ سب کو ضرور پڑھنا چاہیے خاص کر مزدور طبقے کو۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو خبردار کرنا چاہتا ہوں اور ہوشیار رہنے کی تدبیر دینا چاہتا ہوں۔ عمران خان کو جیل میں رکھ کر انہیں سیاست سے باہر (مائنس) کرنے کی پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں۔ بات کرتے ہیں دنیا کی کوئی طاقت عمران خان کو سیاست سے مائنس نہیں کر سکتی عمران خان پاکستان کی عوام کے دلوں میں بستے ہیں۔عوام کو باخبر اور ہوشیار رہنے کی تلقین کرتا ہوں تاکہ وہ ملکی حالات پر نظر رکھ سکیں۔ عمران خان کو قید میں رکھ کر انہیں سیاست سے باہر (مائنس) کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ عمران خان کو مائنس کرنے کا عمل کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ اپنی پارٹی پاکستان تحریک انصاف سے ہو یا باہر یعنی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ سے، عمران خان کے خلاف اس گناہ میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عمران خان نے کوئی ایسا جرم یا گناہ نہیں کیا جس کی انہیں یہ سزا دی جائے۔ اختلاف اور تنقید سب کا حق ہے، لیکن عمران خان کی مقبولیت ایک حقیقت ہے۔عمران خان اس وقت پاکستان کا سب سے مقبول اور طاقتور ترین لیڈر ہے۔ پسِ پردہ ایسی باتیں ہو رہی ہیں جن کا مقصد عمران خان کے بغیر سیاسی نظام چلانا ہے۔ میں خبردار کر رہا ہوں اگر باقی سب رہا ہو جائیں اور صرف خان جیل میں رہیں، تو یہ ناانصافی ہوگی۔ ہمیں عمران خان کی رہائی چاہیے اور عمران خان ہی پاکستان کا مستقبل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی اور سیاسی کردار ایک سہولت کار (Facilitator) کا ہے۔سامراجی نظام کو ایک ایسا دیو ہے جس کی جان مختلف طبقات میں چھپی ہے۔ سامراج کی طاقت یہاں کے سرمایہ داروں، سیٹھوں اور وڈیروں کے قبضے میں ہے۔بیوروکریٹس، سردار اور پشتون خان جیسے بااثر طبقات بھی اسی استحصالی نظام کا حصہ ہیں۔ جب تک ان ظالم طبقات کو پیچھے نہیں دھکیلا جائے گا، تب تک تبدیلی ممکن نہیں۔ ان درندوں کے خاتمے کے بعد ہی اصل مزدور کی حکمرانی اور باری آئے گی۔ ملک میں اشرافیہ اور بااثر لوگ کوئی تعمیری کام نہیں کرتے۔صرف غریب ہاری محنت کرتا ہے، مگر وہ اس قدر مجبور ہے کہ اپنے بچوں کا پیٹ بھی نہیں پال سکتا۔ موجودہ طریقہ کار سے پاکستان کو مزید نہیں چلایا جا سکتا، ملک کی بقا صرف سب کے لیے برابر آئین اور قانون کی حکمرانی میں ہے۔قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان ایران اور دیگر قوتوں کے درمیان پیغامات کی منتقلی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔خطے کے مسائل کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی سربراہی میں مذاکرات کی تجویز دیتا ہوں۔ ان مذاکرات میں روس، چین، فرانس، برطانیہ اور امریکہ جیسے بڑے ممالک کو شامل ہونا چاہیے۔ عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلا¶ کو روکنے اور مساوی قوانین کی ضرورت ہے۔ اگر سنجیدہ مذاکرات نہ ہوئے تو یہ صورتحال ایک خطرناک جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ صرف نعرے لگانے سے پاکستان کی بقا اور ترقی ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اصل مضبوطی غریب عوام (پنجابی، سندھی، بلوچ اور پشتون) کی خوشحالی میں ہے۔ملک کے تمام صوبوں کے پسماندہ طبقات کو حقوق ملنے پر ہی ‘پاکستان زندہ باد’ کا خواب سچا ہوگا۔قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک کے معاشی وسائل پر قابض کرپٹ عناصر خزانوں پر بیٹھے کالے سانپ ہے۔ مسائل کے حل کے لیے ایک ٹھوس حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔پاکستان کے قیام کو 75 سال گزرنے کے باوجود جبری اور مفت تعلیم کے نفاذ نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے؟ سرکاری خرچ پر ایسا تعلیمی نظام ہو جہاں امیر اور غریب کا بچہ ایک ساتھ پڑھے۔ نجی تعلیمی ادارے اور سرکاری تعلیمی اداروں میں فرق ختم ہونا چاہیے امیر اور غریب کو اکٹھے پڑھنا چاہیے۔ملک کی بقا اور ترقی کو حقیقی جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی سے مشروط ہے۔ عدلیہ، پریس اور فوج سمیت تمام اداروں کو اپنے آئینی حدود میں رہنے کی گزارش کرتا ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Logged in as Bk Bk. Edit your profile. Log out? ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے