ٹرمپ اور چینی صدر کے درمیان اہم ملاقات، تائیوان کے معاملے پر چین نے دو ٹوک موقف پیش کردیا
بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم ملاقات۔ بعد دونوں رہنماو¿ں نے بیجنگ میں 600 سال پرانی تاریخی جگہ ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ بھی کیا، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ان مذاکرات کو ”بہترین“ قرار دیا۔ تاہم، ٹرمپ نے اس حوالے سے پوچھے گئے مزید سوالات کا جواب نہیں دیا کہ آیا ان کے درمیان تائیوان کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے یا نہیں۔ تاہم، چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماو¿ ننگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ”بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کر دیا ہے کہ تائیوان کا معاملہ چین امریکا تعلقات میں سب سے زیادہ حساس اور اہم حیثیت رکھتا ہے۔“ بیان کے مطابق، ”چینی صدر کا کہنا تھا کہ اگر اس مسئلے کو صحیح طریقے سے حل کیا گیا تو دونوں ملکوں کے تعلقات مستحکم رہیں گے، لیکن اگر اس میں کوتاہی برتی گئی تو دونوں ممالک کے درمیان ٹکراﺅ اور بڑے تنازعات جنم لے سکتے ہیں جس سے پورے تعلقات خطرے میں پڑ جائیں گے۔“ ماو¿ ننگ کے مطابق، صدر شی جن پنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان کی آزادی اور آبنائے تائیوان میں امن دو ایسی چیزیں ہیں جو آگ اور پانی کی طرح ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنا ہی چین اور امریکا کے درمیان سب سے بڑا مشترکہ نکتہ ہونا چاہیے۔


