اگر ہمارے علاقے میں باہر کے لوگوں کو زمین الاٹ ہوئی تو ہم پہاڑ پر بھی جاسکتے ہیں، مولوی نوراللہ

کوئٹہ(این این آئی) بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں لیویز فورس ترمیمی قانون سمیت تین قوانین جبکہ گبد بارڈر کو سہولیات کی فراہمی، صوبے میں وویمن ٹیکنیکل ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کے قیام کی قرارداد یں منظور، صوبے کے ساحل کا نام بحرہ بلوچ رکھنے کی قرارداد ڈیفر، حلقہ پی بی 29کو پی ایس ڈی پی کے تحت فنڈز کی فراہمی ، قلعہ سیف اللہ میں دو کمپنیوں کو لیز کی الاٹمنٹ کے توجہ دلاﺅ نوٹسز نمٹا دیئے گئے ۔جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کے دوران بی این پی کے رکن میر اسد اللہ بلوچ نے توجہ دلاﺅ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر برائے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کروائینگے کہ مالی سال 25-2024 کے PSDP میں بلوچستان کے 64 اراکین اسمبلی کے لئے ترقیاتی فنڈ مختص کئے گئے۔ تاہم میرے حلقہ انتخاب 29-PB پنجگور کے لئے مالی سال 5-2024 کے PSDP میں کوئی ترقیاتی فنڈز مختص نہیں کئے گئے تھے۔ اس نا انصافی پر میں نے عدالت عالیہ بلوچستان سے رجوع کیا جس پر عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں واضح ہدایات جاری کئے کہ پی پی 29 پنجگور کے لئے بھی مالی سال 25-2024 کے ترقیاتی فنڈ مختص کئے جائیں۔ لیکن عدالتی احکامات کے باوجود پی بی۔ 29 پنجگور کے لئے مالی سال 25-2024 کے ترقیاتی فنڈ ز تا حال جاری نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے علاقے کے عوام میں شدید بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے۔لہذا وزیر موصوف از راہ کرم مطلع فرمائیں گے کہ 29-PB پنجگور کے لئے مالی سال 25-2024 کے ترقیاتی فنڈز جاری نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں۔ تفصیل فراہم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں احساس محرومی کی بڑی وجہ ناانصافی ہے میں نے ذات کیلئے نہیں عوام کے لئے فنڈز مانگے ہیں، صوبائی وزیر میر ظہو ر بلیدی نے جواب دیا کہ میں وزیر اعلی سے سفارش کرتا ہوں کہ آئندہ بجٹ میں پی بی 29 پنجگور کوفنڈز دیں۔اسپیکر نے رولنگ دی کہ پنجگور کے فنڈز کے حوالے عدالت کا فیصلہ چیف سیکرٹری کو بھجوایا جائے جبکہ چیف سیکرٹری عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرائیں۔اجلاس میں رکن اسمبلی مولوی نور اللہ نے توجہ دلاو نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر برائے محکمہ معدنیات و ترقی کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کروایئنگے کہ کیا یہ درست ہے کہ قلعہ سیف اللہ میں سال 2025-26 کے دوران بی ایم آرایل (BMRL) کو تقریباً 379.50 کلومیٹر جبکہ ویسٹرن (Western) کمپنی کو تقریباً 350 کلومیٹر زمین الاٹ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے اسکے علاوہ مذکورہ الائمنٹ میں لوگوں کو پہلے سے الاٹ شدہ ایریا (ML) اور (PL)کو بھی اس میں شامل کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے مقامی مائن اونرز اور علاقے کے عوام میں سخت تشویش پائی جارہی ہے۔ اگر جواب اثبات میں ہے تو پہلے سے الاٹ شدہ ایریا (MIL) اور (PL) کو کس ضابطے کے تحت باہر کے لوگوں کو الاٹ کی جارہی ہے مکمل تفصیل فراہم کی جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے علاقے میں باہر کے لوگوں کو زمین الاٹ ہوئی تو ہم پہاڑ پر بھی جاسکتے ہیں بھوک سے مرنے سے بہتر ہے ہم حق کیلئے قربانی دے دیںہم مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کو تسلیم نہیں کرتے ۔بعدازاں توجہ دلاﺅ نوٹس کو نمٹا دیا گیا ۔اجلاس میں حق دو تحریک کے رکن مولانا ہدایت الرحمن نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ گبد بارڈر ایک قانونی بارڈر ہے اور اس سے کاروباری لوگ ماہانہ چار سے پانچ ارب روپے ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ وہ بارڈر جہاں سے ماہانہ اربوں روپے کی آمدن ہوتی ہے لیکن وہاں پانی ، بجلی سٹرک اور انٹرنیٹ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس کی وجہ سے قانونی کاروبار کرنے والے انتہائی اذیت کا شکار ہیں اس کے علاوہ انہیں نہ تو جان کا تحفظ حاصل ہے اور نہہی بنیادی سہولیات میسر ہیں۔لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ گیر ہارڈر پر پینے کے صاف پانی ، بجلی ، انٹر نیٹ اور رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے لئے فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائے۔ مزید براں گیر بارڈر کو مکمل طور پر فعال کیا جائے تا کہ سرحدی تجارت ، آمد ورفت اور مقامی آبادی کو معاشی اور سماجی فوائد حاصل ہو سکیں۔قرارداد پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات میر ظہور بلید ی نے کہا کہ وفاق نے 13 بارڈر مارکیٹس بنائی ہیںوفاق نے گبد میں تمام سہولیات فراہم کرنے کاکہاتھا،ایران میں جنگ کی وجہ سے کچھ مسائل ہیں،حکومت بلوچستان تاجروں کو فائدہ دینے کیلئے اقدامات کرے گی۔ ایوان نے مولانا ہدایت الرحمن کی گبد بارڈر کو ترقی دینے کی قرارداد منظور کر لی۔اجلاس میں وویمن پارلیمانی کاکس کی اراکین کی جانب ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی فنی تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم صوبہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، غربت کے خاتمے، روزگار کے فروغ اور خواتین کی معاشی خود مختاری کے لئے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ چونکہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع خصوصاً دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں خواتین کے لئے معیاری ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل تعلیمی اداروں کی سہولیات ناپید ہے جس کے باعث خواتین اپنی صلاحیتوں کے مطابق ہنر اور مہارت حاصل کرنے کے مواقع نہ ہونے کے باعث معاشی سرگرمیوں میں بھر پور کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں حالانکہ مناسب تربیت کی فراہمی سے وہ مقامی صنعت ، دستکاری، آئی ٹی صحت تعلیم اور گھر یلو صنعتوں میں موثر کردار ادا کرسکتی ہیں۔ لہذا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے بلوچستان کے ہر ڈویڑنل ہیڈ کوارٹر کی سطح پر خواتین کیلئے علیحدہ ویمن ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے قیام کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائے۔ تاکہ صوبہ کے خواتین کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ فنی تعلیم ، ہنر مندی ، آئی ٹی ، دستکاری صنعتی معارتوں اور کاروباری تربیت کے مواقع فراہم کئےجاسکیں۔ایوان نے قرارداد منظور کرلی ۔ اجلاس میں نیشنل پارٹی کے میر رحمت صالح بلوچ کی صوبے کے ساحلی علاقوں کو بحرہ بلوچ قراردینے کی قرارداد محرک کی ایوان میں عدم موجودگی کی بناءپر موخر کردی گئی ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے بلوچستان لیویز فورس کا ترمیمی مسودہ قانون ایوان میں پیش کیا تو اپوزیشن اراکین نے مسودہ قانون قائمہ کمیٹی کو بھجوانے پراصرار کیا اس دوران اپوزیشن کی جانب سے کورم کی نشاندہی بھی کی گئی جبکہ اسپیکر نے نماز مغرب کے لئے 15 منٹ کا وقفہ کردیا اجلاس دوربارہ شروع ہوا تو لیویز فورس کا ترمیمی مسودہ قانون منظور کرلیا۔ جبکہ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو نے بلوچستان جیلوں اور قیدیوں کی اصلاحی سروس ، بلوچستان کنٹرول منشیات کے مسودات قوانین پیش کئے جنہیں ایوان نے منظور کرلیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں