نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی جانب سے ایران سے متعلق کوئی انٹیلی جنس معلومات امریکا کے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد (آن لائن) دفترخارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ابراہیمی معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مو¿قف مستقل، واضح اور غیر متزلزل ہے، پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت دریائے چناب پر اپنے حقوق کی حفاظت کرے گا، بھارت سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کا پابند ہے۔ جبکہ فلسطین کے مسئلے پر پاکستان 1967 سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کی حمایت جاری رکھے گا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واشنگٹن میں اپنے حالیہ خطاب کے دوران بھی پاکستان کا یہی دیرینہ مو¿قف دہرایا۔ انہوں نے بتایا کہ اسحاق ڈار اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ملاقات میں مشرق وسطیٰ، خلیجی خطے، علاقائی امن و استحکام اور سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ترجمان نے بھارت کی جانب سے چناب کے پانی کو بیاس نظام کی طرف منتقل کرنے کے منصوبے اور ریاسی میں سلال ڈیم کی مجوزہ سلٹ فلشنگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات سندھ طاس معاہدے اور بین الاقوامی آبی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ ترجمان کے مطابق بھارت کا چناب کے پانی کا رخ موڑنے کا منصوبہ پاکستان کے آبی حقوق، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات اور آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔ترجمان نے جموں و کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ تنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی بین الاقوامی شخصیت کا دورہ مقبوضہ علاقے کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔ ترجمان نے بعض میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار کی جانب سے ایران سے متعلق کوئی انٹیلی جنس معلومات امریکا کے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی قیاس آرائیاں جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ فلسطین اور مقبوضہ بیت المقدس کی صورتحال پر پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کمی اور خطے میں امن کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا مو¿قف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ اختلافات کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارت کاری ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے چین، برطانیہ، یورپی یونین اور دیگر اہم عالمی شراکت داروں کے ساتھ بھرپور سفارتی رابطے کیے ہیں، جن کا مقصد علاقائی امن، عالمی تعاون اور مشترکہ چیلنجزسے نمٹنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان نے 23 سے 26 مئی کے دوران چین کا اہم دورہ کیا جس میں چینی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے چین سے واپسی پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی فورم میں شرکت کی اور عالمی حکمرانی میں اصلاحات اور مشترکہ عالمی مسائل کے حل پر مختلف ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں پرتگال، کولمبیا، کوسٹا ریکا، کیوبا اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک شامل تھے۔ ترجمان نے کہا امریکی قیادت نے خطے میں امن کی کوششوں خصوصاً ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے اقدامات پر بات چیت کی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے نیک نیتی پر مبنی کوششیں کی ہیں اور مختلف دوست ممالک کے ساتھ مل کر سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ خطے کا استحکام مشترکہ ذمہ داری ہے اور تمام فریقین کو تحمل اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ترجمان نے کہا حالیہ دنوں میں مصر، ویتنام، ایران اور یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی ٹیلیفونک رابطے ہوئے جن میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کا آٹھواں دور بھی منعقد ہوا جس میں تعاون کے مختلف شعبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ترجمان نے کہا میں کہا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے آٹھویں دور کی مشترکہ صدارت نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور نے کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان منظم اور اعلیٰ سطحی سیاسی رابطوں کا اہم پلیٹ فارم ہے۔ترجمان کے مطابق اس اجلاس میں دونوں فریقین نے باہمی تعلقات میں پیش رفت، تعاون کے فروغ اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈائیلاگ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ سطحی سیاسی روابط کو برقرار رکھنے اور مزید مضبوط بنانے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اجلاس کے دوران خطے کی صورتحال، بالخصوص مشرق وسطیٰ کے معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر متعدد علاقائی ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا۔مشترکہ بیان میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی، جبکہ مسجد اقصیٰ اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا گیا۔ بیان میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے اشتعال انگیزی اور مقدس مقامات کی حیثیت متاثر کرنے کی کوششوں کی بھی مذمت کی گئی۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا مسلسل نشانہ بن رہا ہے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے قانونی اور جائز اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ترجمان نے صومالیہ میں یرغمال بنائے گئے 10 پاکستانی شہریوں کے حوالے سے بتایا کہ ان کی رہائی تاحال ممکن نہیں ہو سکی، تاہم پاکستانی حکام جہاز کے چینی مالک اور متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستانی شہریوں کی محفوظ رہائی کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں