بی ایس او کی مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کا اجلاس، مختلف ایجنڈے زیربحت

کوئٹہ: بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے اجلاس بمقام بولان میڈیکل کالج (شال) زیر صدرات مرکزی آرگنائزرجہانگیرمنظوربلوچ کے منعقد ہوا۔اجلاس میں مختلف ایجنڈے زیربحث لائے گیے۔اجلاس سے مرکزی آرگنائزر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بی ایس او بلوچ نیشنلزم کے علم کو تھامے نظریاتی جدوجہد کر نے کے ساتھ ساتھ ایک غیر رسمی تعلیمی ادارہ بھی ہے جو بلوچ نوجوانوں کو سیاسی طور پر باشعور کرکے اپنے سرزمین،ساحل وسائل، حق حاکمیت و قومی سوال سے آشنا کرکے ان کے تحفظ کی خاطر جمہوری طریقہ سے جدوجہد کے ساتھ ساتھ طلبا کے اکیڈمک مسائل کے حل کے لیے بھی کردار ادا کر رہی ہے۔ موجودہ ناشک صورتحال میں جہاں ایک طرف سامراج نے خوف کی سیاست کرتے ہوئے بلوچ نوجوانوں اور خصوصاً طلبا رہنماؤں کو دھمکیاں دینے زدو کوب کرنے جسمانی و ذہنی تکالیف دینے لاپتہ کرنے کی پالیسی تیز سے تیز تر کیا ہےایسے حالات میں بی ایس او کے کاروان کو پہلے سے زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھا ئے ہم بی ایس او کو موجودہ دور کےتقاضوں کے مطابق اور قومی نظریات پہ متحرک کرکے بلوچ نوجوانوں کو اپنے سرزمین اور قومی تشخص کی حفاظت کی حقیقی طور پہ جدوجہد کریں۔
اجلاس میں جیمز ٹاؤن نامی امریکی تھنک ٹینک کی حالیہ رپورٹ جہاں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کو مسلح علحیدگی پسند تنظیم قرار دیا گیا تھا کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ بی ایس او ایک پر امن جمہوری تنظیم ہے جس کی کسی قسم کی مسلح تحریک و تنظیموں سے کوئی تعلق نہیں. بی ایس او بلوچ قومی سوال کے حل کے لئے پر امن و جمہوری جدوجہد پہ یقین رکھتی ہے.

اجلاس سے مرکزی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکين نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستکا بلوچ قوم و بلوچستان کے ساتھ نو آبادیاتی رویہ ہے وہ بلوچستان کو ایک کالونی اور تجربہ گاہ کے طور پر چلا رہا ہے. یہاں کے باشندوں کے حقوق ہتھیانے اور ان کے استحصال تسلسل سے کئی دہائیوں سے کیا جا رہا ہے. دنیا بھر کے انسانی حقوق کے تنظیموں اور اقوام متحدہ کا بلوچ جبری گمشدگی کے معمالات میں غیر سنجیدگی ، عدم توجہی اور بے اختیاری سوالیہ نشان ہے۔
بلوچ مائیں اور بہنیں اپنے پیاروں کے بازیابی کےلیے ہر جمہوری طریقہ آزما چکےہیں اور پچھلے سات دنوں سے شہر اقتدار میں نیشنل پریس کلب کے سامنے کیمپ لگا کر اور ڈی چوک پہ دھرنا دیے ہوئے ہیں لیکن گونگے ، بہرے حکمران جنہوں نے صرف ا اقتدار حاصل کرنے کی خاطر اسی جگہ پہ چار مہینے سےزائد دھرنا تو دیا لیکن بلوچ خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لئے پانچ منٹ یہاں بیٹھنا گوارہ کرن تو دور کی بات ان کے زخموں پہ نمک چھڑکنے کے لئے ایکوفاقی وزیر نے ایک تعصب پرستانہ ٹویٹ کرکے اپنی کی بلوچ قوم سے احساسات اور سنجیدگی کی عکاسی کردیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کہ لاپتہ افراد کے بازیابی اوران کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لیے بمورخہ 20فروری 2021 بروز ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ایک روزہ احتجاجی کیمپ کا انعقاد کیا جائیگا۔ 2 مارچ بلوچ قومی ثقافت دن کے طور پر مرکزی پروگرام شال میں بی این پی کے ساتھ مشرکہ طور پہ منایا جائےگا.

اس کے علاوہ تمام زونوں کو مطلع کی جاتی ہے کہ بلوچ قومی ثقافتی دن کو طلباء تنظیموں اور قوم پرست پارٹیوں کے ساتھ مل کر منایا جائے۔مرکزی دوروں کا شیڈول مرکزی سرکولرمیں جاری کیاجائے گا اور مرکزی کونسلرز کا از سر نو جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں