عوامی زمینوں کی قبضہ گیریت کو کسی صورت قبول نہیں کرے گے،نیشنل پارٹی
کوئٹہ:صوبائی حکومت کا 1967 سیٹلمنٹ ایکٹ کے تحت بلوچ پشتون مشترکہ قبائل کے غیر آباد زمینوں کی رجسٹریشن منسوخ کرکے سرکاری تحویل میں لینا احمقانہ منصوبہ ہیں جو قبائلی رنجشوں میں اضافہ اور فائدہ لینڈ مافیاز کو ہوگی
نیشنل پارٹی کے صوبائی سوشل میڈیا سیکریٹری سعد دہوار نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بلوچستان میں زمینوں کی سیٹلمنٹ کا معاملہ گزشتہ 6 دہائیوں سے ہنوز جاری ہیں جب 1959 میں اس وقت کے فوجی آمر جنرل ایوب خان حکومت کی لینڈ ریفارمز ہو یا 1972 میں اس وقت کے صدر ذولفقار علی بھٹو کی لینڈ ریفارمز یا اس سے آگے کی حکومتی فیصلے ہو جس میں سیٹلمنٹ کے نام پر ایک مخصوص پیمائش پر صرف زرعی آباد زمینوں کو مقامی خاندان یا قبائل کے نام پر رجسٹری اور انتقال کے اختیارات دئیے گئے جب کہ اس سے کئی گناہ زیادہ مشترکہ قبائل کی لاکھوں ایکڑ پر محیط زمینیں جن میں چراگاہیں، پہاڑ، میدان، دریا وغیرہ جو غیر آباد تھی انہیں سرکاری تحویل میں لیا گیا ان اقدامات سے سب سے زیادہ متاثر بلوچستان ہوا جہاں مختلف بلوچ اور پشتون مشترکہ قبائل کی زمینیوں کی پیمائش پاکستان بننے سے بھی سیکنڑوں سال قبل ریاست قلات دور میں قبائل کے درمیان تقسیم ہوچکی ہیں جسے انگریز حکومت نے بھی تسلیم کیا۔
مگر موجودہ صوبائی حکومت نے جاری سیٹلمنٹ کے مسئلے کو حل کرنے کی بجائے بدیانتی پر مبنی ایک احمقانہ فیصلے کے تحت بلوچستان کے تمام کمشنرز کو ہدایت نامہ جاری کیا ہیں کہ 1967 ایکٹ تحت تمام unsettled زمینوں کی رجسٹریشن کو منسوخ کر کے انہیں سرکاری تحویل میں لیا جائے۔ 1967 کے لینڈ سیٹلمنٹ ایکٹ میں قبائلی زمینیوں کی تقسیم ہمیشہ سے متنازعہ رہی ہیں جسے بارہا ہر فورم حتی کے پارلیمان میں بھی زیر بحث لایا گیا۔ کیونکہ اس سے ہمیشہ قبائلی رنجشوں نے جنم لیا ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ اس ایکٹ کے تحت فیصلے سے صوبے میں بہت بڑا بحران جنم لے سکتا ہیں جو قبائل کے درمیان رنجشوں کا بھی خدشہ پیدا کرسکتا ہیں، جس کا فائدہ صرف اور صرف بڑے بڑے طاقتور لینڈ مافیاز کو ہی ہوسکتا ہیں۔
ہم اس متنازعہ فیصلے کے تحت عوامی زمینوں کی قبضہ گیریت کو کسی صورت قبول نہیں کرے گے، ہم اس ہدایات نامہ کی بھرپور الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس ہدایت نامہ کو واپس لے کر بلوچستان کی زمینوں کی سیٹلمنٹ کے لیئے ڈویژنل سطح پر کمشنرز کی سربراہی میں تمام قبائلی سربراہان اور مالکان کو اعتماد میں لیکر ایک مخصوص کمیٹی بنائے تاکہ باقی ماندہ زمینوں کی سیٹلمنٹ اور تقسیم کو خوش اسلوبی سے نمٹایا جا سکے اور 1967 کے ایکٹ میں موجود مشترکہ قبائلی زمینوں کی سیٹلمنٹ اور تقسیم کے حوالے سے پایا جانے والا سقم کو بھی ختم کرنے لیئے قانون سازی کریں۔


