سینیٹ الیکشن، بلوچستان سے غفور حیدری ،عبدالقادر، اورقاسم رونجھو کامیاب
سینیٹ الیکشن کا معرکہ ، پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں خفیہ بیلٹ سےعبدالغفور حیدری11ووٹ ، قاسم رونجھو9ووٹ اور عبدالقادر 11ووٹ لیکر کامیاب ہوئے
سینیٹ الیکشن کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا، ایوان بالا کی 37 نشستوں کا فیصلہ ہونے میں کچھ دیر کا مزید انتظار ہے۔
اسلام آباد کی 2 نشستوں، سندھ اسمبلی کی 11 ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان اسمبلی کی 12،12 نشستوں پر امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کچھ دیر میں ہوگا۔
قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے مولانا عبدالاکبرچترالی کے سوا تمام 340 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔ بیلٹ پیپر پر دستخط کی وجہ سے شہریار آفریدی کا ووٹ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔
بلوچستان اسمبلی میں تمام 65 اراکین نے ووٹ ڈال دیے۔ سندھ اسمبلی میں 168 میں سے 167 اراکین نے ووٹ ڈالا، جماعت اسلامی کے رکن عبدالرشید نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔
ووٹ ڈالنے کےبعد دوبارہ بیلیٹ پیپر جاری نہیں کیا جاسکتا، ذرائع الیکشن کمیشن
خیبرپختونخوا میں پولنگ سست روی کا شکار رہی اور وہاں اب بھی پولنگ جاری ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اب تک 96 اراکین نے ووٹ کاسٹ کرلیے ہیں ، پی ٹی آئی کے 79، جے یو آئی 9 ، بلوچستان عوامی پارٹی کے 2 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے، 2 جماعت اسلامی اور مسلم لیگ ن کے 2 ممبران نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا جبکہ 2 آزاد اراکین نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
سینیٹ کی 37 نشستوں پر الیکشن کے لیے صبح 9 بجے سے 5 بجے تک پولنگ جاری رہی۔
الیکشن کمیشن کے اسٹاف نے اسمبلیوں کا کنٹرول سنبھالا ہوا تھا، قومی اسمبلی کے عملے کا ایوان میں داخلہ بند تھا اور ہال میں صرف الیکشن کمیشن کے عملے اور ارکان ووٹر کو داخلے کی اجازت تھی جب کہ میڈیا کے بھی پریس گیلری میں فون لے جانے پر پابندی عائد تھی۔
سینیٹ الیکشن: خرم شیر زمان اسمبلی میں موبائل لے آئے، آر او نے باہر نکال دیا
پولنگ کے آغاز پر قومی اسمبلی میں ریٹرننگ افسر نے ووٹ کاسٹ کرنے سے متعلق اعلان کیا اور ووٹ مسترد تصور ہونے سے متعلق بھی بتایا۔
ریٹرننگ افسر ظفر اقبال نے کہا کہ خفیہ ووٹنگ کے ذریعے انتخاب ہو رہا ہے ، کوئی بھی شخص ووٹ پر نشان درج نہ کرے ورنہ ووٹ مسترد ہو جائے گا جب کہ دو لوگوں کو پہلی ترجیح دینے پر بھی ووٹ مسترد ہو جائے گا۔
غیرسرکاری نتیجے کے مطابق سینیٹ انتخابات میں بلوچستان سے آزاد امیدوار عبدالقادر کامیاب ہوگئے ہیں۔
بلوچستان سے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کےامیدوار مولاناعبدالغفورحیدری بھی کامیاب ہوئے ہیں۔
سینیٹ کے الیکشن کے لیے قومی اسمبلی میں پہلا ووٹ پی ٹی آئی کے میاں شفیق آرائیں اور دوسرا ووٹ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کاسٹ کیا۔
سندھ اسمبلی میں سب سے پہلا ووٹ میر شبیر بجارانی نے کاسٹ کیا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ الیکشن کے لیے پہلا ووٹ جے یو آئی (ف) کے رکن ہدایت الرحمان نے کاسٹ کیا۔
بلوچستان اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے لیے پہلا ووٹ صوبائی وزیر آبپاشی نوابزادہ طارق مگسی نے کاسٹ کیا۔
پنجاب کی تمام 11نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جب کہ آج اسلام آبادکی 2، خیبر پختونخوا کی 12، سندھ کی 11 اور بلوچستان کی 12 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے۔
سینیٹ انتخابات کا سب سے دلچسپ اور بڑا معرکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جنرل نشست پر ہےجہاں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔
حکومتی اتحاد کے پاس 181 جب کہ اپوزیشن نشستوں پر موجود جماعتوں کے پاس 160 نشستیں ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ارکان قومی اسمبلی کے لیے ہدایت نامہ لگایا گیا جس میں کسی کو بھی پولنگ اسٹیشن میں موبائل یا کیمرا لے جانے سے منع کیا گیا۔
ہدایت نامے میں کہا گیا کہ پابندی کا اطلاق ووٹر، امیدوار اور پولنگ ایجنٹ سمیت سب پر ہوگا۔
ہدایت نامے میں بتایا گیا ہےکہ ارکان کو بیلٹ پیپر حاصل کرنے کے لیے اسمبلی سے جاری شدہ کارڈ دکھانا ہوگا، عام نشست کیلیے بیلٹ پیپر سفید اور خواتین کی نشست کے لیے گلابی بیلٹ پیپر جاری ہوگا۔
ہدایت نامے کے مطابق بیلٹ پیپر پر ووٹر کی شناخت کا نشان لگنے پر ووٹ مسترد تصور ہوگا۔


