گوادر باڑ شہریوں کو ایک دوسرے سے دور کر دے گی، رپورٹ

کوئٹہ:گوادرباڑ جو شہریوں کو ایک دوسرے سے دور کر دے گی،کراچی سے گوادر کا سفر ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوا۔ پی آئی اے کے اے ٹی آر طیارے نے ساحل پر بنے رن وے کو چھوا تو کھڑکی سے باہر کے مناظر میں سادہ طرز پر بنے اس چھوٹے سے ائیرپورٹ کی حدود کے گرد لگی خاردار باڑ نے میرے ذہن میں گوادر میں باڑ لگنے کی خبر کو ایک بار پھر تازہ کر دیا۔گوادر کی خوبصورتی، ترقی کی جھلک، ماہی گیری کی صنعت، پاکستان چین بندرگاہ، ایران سے جڑا بارڈر اور خوبصورت ساحلوں کو دیکھنے کی خواہش کے ساتھ ساتھ مجھے اس باڑ سے جڑے معمے کو بھی سمجھنا تھا۔میں دیکھنا چاہتی تھی کہ باڑ آخر صوبہ بلوچستان کے علاقے گوادر کو کیوں اور کیسے تقسیم کر رہی ہے اور اب اس مسئلے کے حل کے لیے بلوچستان ہائی کورٹ میں سماعت کے بعد صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کیا کر رہی ہے؟پختہ میرین ڈرائیو کے ساتھ یہ گوادر کا مغربی ساحل پدیزر ہے یہاں سکیورٹی چیک پوسٹ پر پاکستانی پرچم لہرا رہا ہے۔ہمیں انتظامی امور کے سربراہ ڈپٹی کمشنر سے طے شدہ انٹرویو چینی کونسل جنرل کی آمد کی وجہ سے اگلے روز تک ملتوی کرنا پڑا۔27 جنوری کو وہاں کی بڑی خبر بھی یہی تھی کہ چین نے گوادر پولیس کے لیے 40 موٹر سائیکلوں، 10 لیپ ٹاپ اور چیک پوسٹوں کے لیے 10 سکیورٹی کیبنیٹ دی ہیں۔ جن چیک پوسٹوں کو اب تک میں نے کراس کیا تھا ان کی تعداد تین سے چار تھی۔گاڑی میرین ڈرائیو سے نکل کر اب سرکاری عمارتوں سے ہوتی ہوئی شہر کے مضافات میں نیول ہاسنگ سکیم سے گزر رہی تھی۔ ساتھ ہی آنکاڑہ نامی علاقہ ہے یہاں سڑک کے دائیں جانب تقریبا 12 فٹ اونچے لوہے کے کھمبے واضع دکھائی دیے۔ یہ وہی کھمبے ہیں جن پر ممکنہ طور پر باڑ لگائی جائے گی۔باڑ لگانے کا معاملہ دسمبر میں سامنے آیا جب نیشنل پارٹی کے سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی نے گوادر سیف سٹی کے منصوبے میں اس اقدام کی مخالفت کی۔بی بی سی کے مطابق بلوچستان ہائی کورٹ میں درخواست میں کہا گیا کہ گوادر میں باڑ لگانے کا فیصلہ مکینوں کے بنیادی انسانی حقوق جو آرٹیکل 15 میں واضح ہیں، کی خلاف ورزی ہے۔سورج ڈھل رہا تھا، باڑ لگائے جانے والے علاقے کو مکمل طور پر دیکھنے اور وہاں کے مقامی افراد کی اس کے بارے میں رائے لینے کے لیے میں نے صبح یہاں پھر سے آنے کا ارادہ کیا۔مقامی لائبریری اور گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر اور دیگر ادارے، اداروں کی وسیع اور بہترین عمارتوں کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک دیوار پر لکھا تھا دل دل پاکستان جان جان بلوچستان، میرے لیے یہ ایک نیا نعرہ تھا۔بلوچستان نیشنل پارٹی سے منسلک ڈاکٹر عبدالعزیز بلوچ سرکاری نوکری سے ریٹائرمنٹ کے بعد نیو ٹان میں اپنے گھر کے احاطے میں ہی بنے دو کمروں پر مشتمل کلینک میں مریضوں کو دیکھ رہے تھے۔یہاں ہر دوسری گلی میں آپ کو مکانات کی تعمیر ہوتی دکھائی دے گی۔ مشینوں کی آوازیں دور دور تک سنائی دے رہی ہیں۔ یہاں ایک 1000 گز کا پلاٹ ایک کروڑ روپے میں بک رہا ہے۔لیکن ڈاکٹر عزیز اپنے گھر کی چھت سے سمندر کا منظر دکھاتے ہوئے مجھے کہنے لگے گھر بیچ دیا یا بلڈنگ بنا کر بیچ دی یہ ترقی تو نہیں۔ یہ چیزیں جو آپ کو نظر آ رہی ہیں یہ سطحی چیزیں ہیں اس سے معاشی ترقی کا کوئی تعلق نہیں۔وہ گوادر میں سکیورٹی چیک پوسٹوں اور اب ممکنہ طور پر لگنے والی باڑ سے شدید نالاں اور مایوس دکھائی دیے۔انھوں نے کہا چیک پوسٹوں کو پانچواں چھٹا سال ہے، پہلے تو لوگ آزاد تھے۔ ابھی تک تو چینی شہر میں نہیں آتے ابھی وہ حصار میں ہیں۔جن اداروں نے اس سے پہلے سکیورٹی کے انتظام کیے تھے وہ کیا کم ہے۔ ہر فرلانگ پر انھوں نے سکیورٹی رکھی ہے ہر آدمی کو پوچھتے ہیں اور چیک کرتے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا ہوں کہ اس سے بڑی سکیورٹی (باڑ) ہونی چاہیے۔ڈاکٹر عزیز نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر باڑ لگا کر اس میں بجلی دوڑائی جاتی ہے تو اگر کسی سادہ لوح دیہاتی نے اسے کراس کرنے کی کوشش کی تو اس کی زندگی کو نقصان ہو سکتا ہے۔ کلینک میں موجود ایک خاتون کہنے لگیں یہ ساحل سمندر، یہاں کا شاہی بازار ہم یہاں پہلے آزاد گھومتے پھرتے تھے مگر اب سب بدل رہا ہے۔میں کل اپنی تین برس کی بیٹی کو ہسپتال لے جا رہی تھی جلدی میں شناختی کارڈ بھول گئی لیکن مجھے چوکی کراس کرنے کی اجازت نہیں ملی۔شام تک باہر کے دو چکر لگا کر مجھے بھی یہ اندازہ ہو چکا تھا کہ یہاں سکیورٹی کسی چھانی سے بھی زیادہ ہے۔ اسے آپ ہائی ملٹری زون کہیں یا ریڈ زون، تو یہ غلط نہیں ہو گا۔کہاں جا رہے ہیں، کہاں سے آ رہے ہیں، کیا کرتے ہیں آپ لوگ اپنا شناختی کارڈ دیں؟ ایک ہی سڑک پر جاتے ہوئے اگر آرمی والے چیک کریں گے تو واپسی پر اسی مقام پر مخالف سمت میں کھڑے دو طرفہ سڑک پر لیویز اہلکار ان ہی سوالوں کے ساتھ آپ کا استقبال کریں گے۔لیکن میں نے دیکھا کہ یہاں سکیورٹی کا جدید نظام اتنے برسوں میں بھی نہیں آ سکا نہ سکینرز ہیں نہ کیمرے نصب ہیں۔ یہ باعث حیرت ہے کہ آخر اتنی دیر ہوئی ہی کیوں اور اب چینی امداد سے ملنے والے چند موٹر سائیکل۔ کیا ہمارے پاس معاشی مرکز کے لیے اتنا بھی نہیں۔جنوری سنہ 2016 میں کوئٹہ اور گوادر کے لیے سیف سٹی پلان کی مد میں 10 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ تب کہا گیا تھا کہ 465 کیمرے شہر کے 136 مقامات پر لگائے جائیں گے۔ وائر لیس ٹاور لگیں گے، یہ کیمرے لیزر کیمرے ہوں گے۔ آٹو میٹک نمبر پلیٹ ریڈرز اور ریڈیو فریکوینسی آئیڈینٹیفکیشن سسٹم (آر ایف آئی ڈی)لگایا جائے گا۔تحصیل گوادر کی کل آبادی 138438 افراد پر مشتمل ہے۔ یہاں فی مربع کلومیٹر 115 افراد بستے ہیں۔اب مجھے باڑ کے لیے مختص تقریبا 25 کلومیٹر پر پھیلے اس علاقے کو شروع سے آخر تک دیکھنا تھا۔ گوادر شہر کے مرکز سے اگر آپ اس کی تحصیل پشوکان کی جانب بڑھیں تو کوئی 30 کلومیٹر دوری پر زیرو پوائنٹ آئے گا جہاں سے ایک سڑک پاکستان ایران سرحد اور دوسری جیونی کی جانب جاتی ہے اور زیرو پوائنٹ پر بنا تیسری سڑک آپ کو واپس گوادر شہر میں لے جاتی ہے۔اس شاہراہ پر جسے بلوچستان براڈ وے روڈ کہتے ہیں، مڑتے ہی چوکی سے چند قدم آگے ہی لوہے کے وہی کھمبے دکھائی دیے جو مجھے یہاں سے چند کلومیٹر دور گذشتہ شام دکھائی دیے۔اس باڑ نے اندر اور باہر والی آبادی کو تقسیم کیا ہے۔ جیسے سرحد کسی ملک کو تقسیم کرتی ہے۔کچھ آگے پہنچ کر پکی سڑک سے اتر کر میں ایک گھر میں گئی۔ کھلے صحن کے بیچوں بیچ لکڑیوں کے سہارے ایک سٹینڈ سا بنا ہے جس پر سٹیل کے برتن دھوپ میں چمک رہے ہیں۔ رہائش کے لیے الگ کمرے تھے۔ وہاں موجود خواتین نے میرا استقبال کیا اور مسکراتے ہوئے مجھے چاول کھانے کی پیشکش کی۔گھر کے سامنے باڑ کے لیے لگے کھمبے صحن سے صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کنبے کے سربراہ نے بتایا کہ یہ کھمبے ایک ماہ پہلے لگنے شروع ہوئے تھے لیکن چار پانچ مہینے پہلے فوجی آئے تھے اور انھوں نے ہمیں بتایا تھا کہ یہاں باڑ لگے گی اور راستہ بند ہو جائے گا۔میں نے ان سے پوچھا کہ باڑ لگنا کیسا ہے آپ سب کے لیے جو اندر ہیں اور باہر ہیں؟ تو وہ کہنے لگے کہ مشکل ہو گی بہت تنگی آ جائے گی، بکری چرانا مشکل ہو جائے گا۔ لوگ بول رہے تھے ایک گیٹ پشوکان پر لگے گا دوسرا زیرو پوائنٹ پر۔ ایک جانب سات کلومیٹر دور ہے دوسرا دس کلو میٹر۔۔۔میں نے بھی احتجاج کیا تھا۔ میں چاہتا ہوں پیچھے پہاڑوں کی طرف باڑ لگائیں۔۔۔ جیونی، پِشوکان پلیری، نگور دشت، سر بندن

سب اس کے اندر آ جائیں۔ یہ باڑ کے اندر خالی گوادر چھوٹا شہر ہے۔ میرے بھائی بہن سب باڑ کے اندر کے علاقے میں ہیں، باڑ لگ گئی تو مشکل ہو جائے گی۔میں نے ان سے پھر سوال کیا کہ حکومت تو کہتی ہے کہ باڑ لگنے سے چیک پوسٹیں تو ختم ہو جائیں گی تو وہ کہنے لگے کہ ہو سکتا ہے کہ اندر کچھ ختم ہو جائے لیکن اس طرف تو (چیک پوسٹیں) لگے گیں۔ ابھی بھی ہم لمبی قطار میں لگے ہوئے ہوتے ہیں اگر باڑ لگ گئی تو گیٹ پر موٹر سائیکلوں، گاڑیوں سے لمبی قطاریں لگ جائیں گی۔اس 25 کلومیٹر کے علاقے کا آخری مقام وشیں ڈور ہے جہاں مسجد کا امام ایک جانب تو مقتدی دوسری جانب ہے، سکول ایک جانب تو گھر دوسری جانب ہیں۔باڑ لگانے کا کام دراصل دونوں جانب سے شروع ہوا تھا اس لیے جب عوامی احتجاج کے بعد وزیر اعلی بلوچستان کے حکم پر روکنا پڑا تو بیچ کے چند کلومیٹر میں کھمبینہیں لگے۔ لیکن اسی شاہراہ پر سینکڑوں کھمبے سڑک سے تھوڑے کنارے پڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ساتھ واچ ٹاور میں سکیورٹی اہلکار مستعد کھڑا ڈیوٹی دیتا ہے۔ان کھمبوں کو دیکھ کر یہی خیال ذہن میں آتا ہے کہ کام رک تو گیا ہے مگر باڑ لگانے کا فیصلہ ابھی واپس نہیں لیا گیا۔کچھ کلومیٹر کے فاصلے پر اگر گوادر شہر جسے اولڈ سٹی کہتے ہیں کے بازار میں داخل ہوں تو آپ کو یہاں مچھلی کی انواع و اقسام کی خریدو فروخت ہوتی دکھائی دے گی۔ مچھلیوں کی تصاویر لیتے ہوئے میری بات چند مقامی افراد سے بات ہوئی۔میں نے ان سے بھی باڑ کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں رہتے ہیں؟ باڑ کے اندر کے علاقے میں یا باہر؟سید محمد جذباتی انداز میں کہنے لگے صحیح ہے ہم نے احتجاج کیا باڑ کا کام فی الحال رکا ہوا ہے لیکن یاد رکھیں آج میں کہہ رہا ہوں یہ باڑ لگے گی، یہ لگائیں گے باڑ۔ انھوں نے جو کام بولا ہے کریں گے تو وہ کریں گے لیکن یہ ہمارا نقصان ہے ہمارے دیہات ہیں، جب باڑ لگے گی تو ہمارے دیہات گوادر سے کٹ جائیں گے۔وہ کہنے لگے کہ صرف مقامی لوگ رہ جائیں گے دیہات کٹیں گے تو وہ غریب لوگ کیسے کمائیں گے۔وہاں ہمارے بھائی رہتے ہیں، بہن رہتی ہیں صرف میں یہاں رہتا ہوں، باقی سب لوگ باہر ہیں، آنے جانے میں بہت دشواری ہوتی ہے۔ لائنوں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، ایک گھنٹہ دو دو گھنٹے۔۔۔ پھر سکیورٹی چیک کرتے ہیں اور پھر آپ کو جانے دیتے ہیں۔یہاں اس چھوٹے سے شہر میں لوگ میڈیا سے کم ہی بات کرنا چاہتے ہیں زیادہ تر شناخت کے بعد سکیورٹی والوں کی جانب سے ممکنہ پوچھ گچھ کی وجہ سے کتراتے دکھائی دیے۔ یہاں پبلک ٹرانسپورٹ شہر کے اندر نہ ہونے کے برابر ہے۔ رکشے چلتے ہیں اور موٹر سائیکل من پسند سواری ہے۔اس سارے معاملے پر منتخب نمائندے ایم پی اے میر حمل کلمتی تو انٹرویو دینے کے لیے کئی بار رابطہ کرنے کے باوجود دستیاب نہیں ہوئے۔ تاہم انھوں نے بلوچستان اسمبلی میں گوادر کی صورتحال پر کھل کر بات کی اور کہا کہ پہلے تو آپ چیک پوسٹیں لگا کر پوچھ رہے تھے اب آپ باڑ لگا رہے ہیں۔۔۔بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ گوادر کے لیے قانون پاس کیا گیا تھا؟ باڑ کیوں لگائی۔۔۔۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جانور نہ آئیں۔۔۔۔۔ کیا ہم جانور ہیں۔دوسری جانب وزیر اعلی جام کمال بھی صوبائی اسمبلی میں امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر باڑ لگانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہ چکے ہیں کہ خلیجی ممالک میں جائیں تو آپ کو وہاں بھی الگ سسٹم ملے گا۔بازار سے چند کلومیٹر کی دوری پر ساحل پر بنے خوبصورت پارک میں مقامی بچے کھیل رہے ہیں اور کنٹینر میں بنی چھوٹی سی لائبریری میں کچھ بچے کتابیں پڑھنے میں مشغول ہیں۔ ساتھ ہی علاقے کے منتظم ڈپٹی کمشنر کا دفتر ہے۔آج کل اس عہدے کی ذمہ داری میجر ریٹائرڈ کبیر خان زرکون کے پاس ہے۔ عوامی احتجاج کے بعد ڈی سی گوادر نے باڑ اور دیگر مسائل سننے کے لیے کھلی کچہری کا انعقاد بھی کیا تھا۔ لوگوں کا شکوہ تھا کہ ہمارے گھر کے سامنے باڑ لگانے کا کام شروع ہوا اور ہمیں بتایا ہی نہیں گیا کسی نے کہا کہ یہ باڑ ہمارے امن کو خراب کر رہی ہے۔ ہمیں یہ باڑ قبول نہیں۔۔۔۔ ہم دہشت گردی نہیں کرتے۔انٹرویو کے دوران ڈی سی گوادر نے مجھے بتایا کہ باڑ لگانے کے کام کی رفتار تو کافی اچھی تھی لیکن جیسے ہی ہمیں پتہ چلا کہ عوام کو تحفظات ہیں تو ہم نے دور کرنے کی کوشش کی پھر صوبائی حکومت کا وفد آیا اور وزیر اعلی کے حکم پر ہم نے اسے روک دیا۔ڈی سی گوادر کا کہنا تھا کہ جب یہاں پر لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے تو انھیں بہت زیادہ دشواریاں ہوتی ہیں کیونکہ انھیں چیک کیا جاتا ہے۔ اس کا حل ہم نے یہ نکالا گیا کہ باڑ کا پہلے ہی ماسٹر پلان میں ذکر ہے اور اس کی منظوری بھی ہے اس پر عمل کریں تاکہ اس علاقے میں ہم باڑ لگائیں اور اندر سے تمام سکیورٹی چیک پوسٹوں کو ختم کر دیا جائے۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق ابھی ابتدائی طور پر تو ہم صرف شہر یا اس کے کچھ مضافاتی علاقے میں، جو 20 سے 25 کلومیٹر کا علاقہ بنتا تھا، باڑ لگا رہے ہیں اور مستقبل کے پلان میں پوری تحصیل گوادر کو باڑ کے اندر ہونا چاہیے۔ابھی گوادر میں آنے کے صرف تین راستے ہیں جبکہ انتظامیہ نے باڑ میں گیارہ راستے تجویز کیے ہیں۔کیا باڑ ماسٹر پلان کے مطابق اسی مقام پر لگنی ہے جس کی تجویز کی گئی تھی؟ اس کے جواب میں ڈپٹی کمشنر نے کہا یہ گوادر سیف سٹی کا حصہ ہے، سب کو پتہ ہے کہ باڑ اس کا حصہ ہے، علاقے پر ہم بحث کر سکتے ہیں۔۔۔ نزدیک لگ رہی تھی دور لگ رہی تھی وہ قابلِ بحث ہے۔انھوں نے تصدیق کی کہ صوبائی 

اپنا تبصرہ بھیجیں