بلوچستان کی پسماندگی کے ذمہ دار یہاں کی قوم پرست اور مذہب پرست جماعتیں ہیں، نور محمد دمڑ
کوئٹہ:بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء صوبائی وزیر پی ایچ ای، واسا حاجی نورمحمد خان دمڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان کی پسماندگی کا ذمہ دار یہاں کے قوم پرست اور مذہب پرست جماعتیں جنہوں نے اقتدار کے حصول کی خاطر قومیت اورمذہب کانعرہ لگاکر عوام سے ووٹ لے کر اقتدار حاصل کرتے تھے مگر 70 سالوں میں بلوچستان کے حقوق حاصل نہیں کئے لیکن بلوچستان عوامی پارٹی نے مختصر مدت میں صوبے کو ترقی کی راہ پرگامزن کردیا ہے اور وفاق بلوچستان کو اپنے حقوق سے زائد کا حصہ دے رہا ہے صوبے میں بڑے بڑے میگا پروجیکٹ کیلئے اربوں روپوں کی منظوری دی ہے دوسری بار وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ کی چیئرمین شپ بلوچستان کو دیا ہے جوکہ صوبے کیلئے کسی اعزاز سے کم نہیں ہے انہوں نے کہاکہ 70 سال تک بلوچستان اور وفاقی حکومتوں کا حصہ رہنے والے بلوچستان کے قوم پرستوں اور مذہبی جماعتوں نے بلوچستان کی ترقی، احساس محرومی اور پسماندگی دور کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا ہے بلوچستان کی 70 سالہ سیاسی تاریخ میں مفاد پرست قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کا ٹولہ تقریباََتمام حکومتوں کا حصہ رہا ہے اور ذاتی مفادات کی سیاست کرتا رہا ہے جس کی وجہ سے اب صوبے میں نظریاتی سیاست نہ ہونے کے برابر ہے،بلوچستان کی سیاست ہمیشہ سے ہی شخصیتوں کی محتاج رہی ہے اور ان شخصیتوں کے غلط یا صحیح فیصلوں کے اثرات براہِ راست صوبے کے عوام پر پڑتے رہے ہیں اور بلوچستان کی پسماندگی کے زمہ دار یہ قوم پرست اور مذہبی جماعتیں ہی ہیں جس کی وجہ سے 2018 ء کے عام انتخاب میں صوبے کے عوام نے ان مذہبی اور قوم پرست جماعتوں سے بیزار ہوکر بی اے پی کو صوبے کے عوام کی امید وں کی آخری کرن سمجھ کر مینڈیٹ دیا بی اے پی نے مختصر مدت میں صوبے کو ترقی و خوشحالی کی راہ پرکامزن کیا ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ کے ایک مقامی حال میں ضلع زیارت سے ایک مذہبی جماعت سے مستعفی ہوکر بی اے پی میں شمولیت کے موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر جمعیت علماء اسلام کے درینہ رہنماء ٹھیکیدار حاجی نصراللہ کاکڑ،عبدالصمد پانیزئی، سعیداللہ نے اپنے ساتھیوں اور خاندانوں کے ہمراہ جمعیت علماء اسلام سے مستعفی ہوکر صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ کی قیادت میں بلوچستان عوامی پارٹی میں بقاعدہ شمولیت کااعلان کیا اس موقع پر بی اے پی ضلع زیارت کے ضلعی آرگنائزر عبدالستار کاکڑ ودیگر عہدیداران بھی موجود تھے صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہماری 15 سالہ سیاسی جدوجہد اور عوام میں شعوراجاگر کرکے ان نام نہاد مذہبی جماعت کے جنگل سے آزاد کرانے میں کامیابی مل رہی ہے جنہوں نے کئی دیہائیوں سے ضلع زیارت کے عوام کو مذہب کے نام پر ورغلایا گیا لیکن اب حلقے کے عوام میں باشعور ہوچکے ہے انہوں نے کہاکہ نوازشریف کا ساتھ دینے والے پشتون بلوچ قوم پرستوں اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی تھی بلوچستان عوامی پارٹی عوامی مقبولیت کی بدولت پارٹی کاشمار کے بڑے سیاسی جماعتوں میں ہے اور ملک کی 4 بڑی سیاسی جماعت بن کرابھری ہے بی اے پی رنگ اور قوم پرستی، مذہبی سے بالاہے بلوچستان عوامی پارٹی صوبے کے تمام اقوام اور مذہب پر مشتمل ایک گلدستہ ہے بلوچستان عوامی پارٹی میں صوبہ بھر سے خوشی سے جوق درجوق لوگ شمولیت اختیار کررہے ہیں جن جماعتوں نے قوم پرستی اور مذہب کے نام پر نعرہ لگایا انہوں نے بلوچوں اور پشتونوں کو پسماندہ رکھا انہوں نے کہاکہ بی اے پی نے صوبے کے روایات کو دوبارہ زندہ کرلیا ہے امن وبھائی چارگی کو فروغ دیا ہے کیونکہ صوبے میں بسنے والے تمام اقوام ایک دوسرے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہے صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2011 کے بعد سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو بے تحاشا پیسہ ملا اس دوران بلوچستان میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومتیں رہیں، ان کے ساتھ یہاں کی قوم پرست اور مذہب پرست جماعتیں بھی ساتھ تھیں یہ سب پیسہ کہاں گیابلوچستان پر تو ان حکومتوں نے این ایف سی ایوارڈ کا ایک روپے بھی نہیں لگایا،بلوچستان میں قوم پرست اور مذہبی جماعتیں ہمیشہ سے صوبے کی برادر اقوام کو کبھی قوم پرستی کے نام پر، کبھی مذھب کے نام پر اور کبھی پنجاب کی لوٹ مار کے نام پر لڑواتے رہے ہیں اور اور اپنی حکمرانی کرتے رہے اور آج اپنے اپنے مفادات کیلئے یہ مفادپرستوں کا ٹولہ یکجا ہو کرایک منتخب عوامی جمہوری حکومت کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان پر حکمرانی کرنیوالوں نے عوام کو اپنا محکوم رکھنے کے لیے تعلیم اور دوسری سہولیات کو ان سے دور رکھا اور اس طرح سے انہوں نے دوہرا فائدہ حاصل کیا وہ یہ کہ عوام بھی غیر تعلیم یافتہ رہی اور اپنے حق کو پہچان نہ سکی،انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا بنیادی مسئلہ تعلیمی پسماندگی ہے۔ گزشتہ حکومتوں نے کبھی اس صوبے کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی طرف توجہ نہیں دی صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے کہاکہ پوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نا اہل اور مسترد شدہ لوگوں کا ایک ٹولہ ہے،پاکستان کی عوام کو ایک مرتبہ پھر سے بیوقوف بنانے کی کوشش ہے لیکن اب ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا دور ہے، اب پاکستانی عوام جان چکی ہے کہ یہ اتحاد صرف اور صرف چند نا اہل اور کرپٹ سیاستدانوں نے اپنی کرپشن پر پردہ ڈالنے اور احتساب کے عمل سے بچنے کے لیے کیا ہے،صوبائی وزیر نے26 مارچ کو مولانا فضل الراحمن کی جانب سے کوئٹہ سے لانگ مارچ کی قیادت کرنے کو شدید تنقید کانشانہ بنایا صوبائی وزیر حاجی نورمحمد خان دمڑ نے نئے شامل ہونے والے ساتھیوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ ضلع میں پارٹی کی مزید فعالی کیلئے اپنی بھرپور جدوجہد کرینگے۔


