اگر سناڑی قبیلے نے معاضے کی ادائیگی نہیں کی تو ہم بھی ایف سی کمانڈنٹ اور کمشنر قلات کے تحریری امن معاہدہ کے پابند نہیں ہونگے۔ رہنماء ذگر مینگل
قلات ":ذگر مینگل قبیلہ کے سرخیل رہنما میر قمبر خان مینگل کے فرزند میر پسند خان مینگل، میر بالاچ خان مینگل نے مینگل ہاوس دشت گوران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سناڑی قبیلہ کی جانب سے بار بار امن معاہدے کی خلاف ورزی جاری ہے، ہمارے نایاب بھیڑ بکریوں کو سناڑی قبیلہ کے افراد نے فائرنگ کرکے گزشتہ روز ہلاک کیاگیا،اگر بھیڑ بکریوں کا معاوضہ ادا نہ کیا گیا تو 30 مارچ کے بعد امن پاسداری کے پابند نہیں ہونگے۔ 30 مارچ کے بعد سناڑی قبیلہ مذکورہ سڑکیں بھی استعمال نہیں کرے، انہوں نے کہا کہ ذگر مینگل اور سناڑی قبیلہ کے مابین دشت گوران میں اراضیات پر جاری تنازعہ میں دو سال قبل ڈپٹی کمشنر قلات و ونگ کمانڈنٹ ایف سی قلات و دیگر سرکاری آفیسران نے دونوں فریقین یعنی ذگر مینگل و سناڑی قبیلہ کے مابین جنگ بندی کرکے تحریری امن معاہدہ کیا۔ جس میں دونوں فریقین کو پابند کیا۔ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے فریق کو پچاس لاکھ جرمانہ ادا کرنے کا بھی پابند کیا گیا۔ تحریری معاہدے پر ذگر مینگل کی طرف سے کوئی بھی خلاف ورزی اس دوران نہیں کی گئی جبکہ دوسرے فریق کی جانب سے بار بار معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی جس کے بارے میں مذکورہ آفیسران و ذمہ داران کو بھی آگاہ کرتے رہے ہیں۔ معاہدے میں علاقے کیلئے دو رابطہ سڑکیں ہیں ان کیلئے آنے جانے کیلئے دونوں فریقین کو اپنے اپنے لئے مشروط طور پر استعمال کی اجازت دی گئی تھی مگر جو راستہ ہم استعمال کررہے ہیں اس راستے پر سناڑی قبیلہ کے افراد اسلحہ کے ساتھ آکر بیٹھ جاتے ہیں، اس کے بعد ہمارے مینگل قبیلہ کے لوگوں کی گاڑیوں کو روک کر ان سے زبردستی ڈیزل اتارتے تھے اس بارے بھی ہم نے ڈی سی سوراب کو اطلاع دی مگر ایکشن نہیں لیا گیا اس سے قبل غیر متنازعہ زمینوں پر ہمارے لوگ ہل چلارہے تھے وہاں بھی سناڑی قبیلہ نے فائرنگ کرکے ٹریکٹرز کو نقصان پہنچایا جبکہ ایک شخص مارا بھی گیا، ان سب کے باوجود گزشتہ دنوں ہمارے نایاب بھیڑ جو قریبی پہاڑ میں ہے سناڑی قبیلہ کے ایریا میں گئے ہیں انہیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا جس کی اطلاع ہم نے متعلقہ ذمہ داران کو دیدی جس پر مذکورہ مخالفین سے معاوضے کی ادائیگی کی بات کی اور فیصلہ طے پایا کہ انکی قیمت معاوضہ مذکورہ ملوث افراد ادا کرنے کے پابند ہے جو کہ پانچ سے چھ روز میں ادا کی جائیگی تاکہ امن معاہدہ متاثر نہ ہو مگر اس پر بھی تاحال عملدرآمد نہیں ہورہا انہوں نے کہا کہ دوسرے فریق کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کے باوجود ہم بار بار معاہدے پاسداری کرتے رہے ہیں جبکہ موجودہ بھیڑ بکریوں کا معاملہ پہلے والے تنازعہ سے الگ ہے اس نقصان کا معاوضہ فیصلہ کے مطابق فوری حل کیا جائے بصورت دیگر آج بروز سموار 22 مارچ کو ہم بذریعہ پریس کانفرنس اعلان کرتے ہیکہ 30 مارچ کے بعد ذگر مینگل قبیلہ معائدے کی پابند نہیں ہوگی، اور یہ واضح کرنا چاہتے ہیکہ مذکورہ رابطہ سڑکیں سناڑی قبیلہ تیس مارچ کے بعد استعمال نہیں کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر گزشتہ دو برس قبل ذگر مینگل و سناڑی قبیلہ کے مابین ڈپٹی کمشنر قلات و ونگ کمانڈنٹ ایف سی قلات نے سرکاری سطح پر طے تحریری امن معاہدہ متاثر ہوا تو ہم ذمہ دار نہیں ہونگے کیونکہ دوسرا فریق اگر پابند نہیں تو ہم بھی تیس مارچ کے بعد مذکورہ معاہدے کے پابند نہیں ہونگے۔


