انضمام کے خلاف نہیں مگر باتیں کرنے والے اقتدار میں آکر سب بھول جاتے ہیں، اسد بلوچ
کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)بلو چستان نیشنل پارٹی (عوامی)کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر اسد اللہ بلو چ نے کہا ہے کہ ہم انضما م کے خلا ف نہیں لبتہ انضمام کی با تیں کر نے والے اقتدار میں آ کر سب بھو ل جا تے ہیں ہم انضمام کیلئے تیار ہیں پر ہر پانچ سال کے بعد کونسل سیشن کے انعقاداورپارلیمان میں نئی قیادت کو موقع دینا ہو گا۔بلو چستان کے نا م پر لئے گئے قرضے یہاں کی عوام کے مفاد کیلئے خرچ نہیں ہو ئے، پا رٹی میں شمولیتیں خوش آئند ہیں۔ان خیا لا ت کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز کو ئٹہ پریس کلب میں قبا ئلی رہنما ء یاسر مینگل کی بی این پی عوامی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ پریس کا نفرنس سے خطا ب کر تے ہو ئے کیا۔اس سے قبل قبا ئلی شخصیت یا سر مینگل نے اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت بی این پی (عوامی) میں شمولیت کا اعلان کیا اور کہا کہ اس وقت بی این پی (عوامی) ہی واحد جما عت ہیں جو بلوچ قوم اور صو بے کے تما م با سیوں کی حقیقی نما ئندگی کر رہی ہے،انہوں نے کہا کہ ہم نے کا فی سوچ بچار کے بعد اس جما عت کے پلیٹ فا رم سے جدو جہد کا فیصلہ کیا ہے نا صرف اس جما عت کے پیغام کو صوبہ بھر میں عام کر نے کیلئے تمام تر توانا ئیاں برو ئے کا ر لا ئیں گے بلکہ آخری دم تک اس سے وفا بھی کریں گے۔اس موقع پر بی این پی (عوامی) کے مرکزی سیکرٹری جنرل و رکن صو با ئی اسمبلی میر اسد اللہ بلو چ نے نئے شامل ہو نے والے کو خوش آمدید کہا اور امید ظا ہر کی کہ اسے پا رٹی مزید مستحکم ہو گی انہوں نے کہا کہ مو جو دہ صورتحال میں پا رٹی میں شمولیت اس با ت کی غما ز ہیں کہ بی این پی (عوامی) کی بے با ک لیڈر شپ عوام کی امید کی آخری کرن ہے۔انہوں نے کہا کہ بی این پی (عوامی) کی منزل پسہ ہوا طبقہ ہے ہم 25سال سے میدانوں، پہاڑوں، اور شہروں میں اس طبقے کیلئے آواز بلند کر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم بلو چستان کے لو گوں کی حقوق کی پا ما لی اور ان کے استحصال کی مذمت کر تے ہیں جمہوریت کے نا م پر بننے والے ملک میں جمہوری اقدار کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بلو چستان کے نا م پر لئے گئے قرضے یہاں کی عوام کے فلاح و بہبود پر خرچ نہیں ہو تے، سی پیک منصو بے میں بھی اخلا ص نظر نہیں آیا ہم صو بوں کی وسائل کی منصفا نہ تقسیم چا ہتے ہیں کیو نکہ کو ئی بھی ملک اور صو بہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک اس کی معاشی و اقتصادی حالت بہتر نہ ہو، انہوں نے کہا کہ سال 2018ء کے انتخات میں پارٹی رہنما ؤں میر ظفر زہری، میر اسرار اللہ زہری نے کا میا بی حاصل کی اس وقت مجھے ایک چھوٹا سا محکمہ دیا گیا ہے جسے چیلنج کے طور پر قبول کیا ہے اب تک 7بڑی بیما ریوں کا علا ج کر رہے ہیں جن کے علاج معالجہ پر 60ہزار روپے سے لیکر 80لا کھ روپے تک خرچہ آتا ہے ہما ری کو شش ہے کہ بے رونق چہروں پر رونق کو دوبا رہ لو ٹا یا جا ئے۔انہوں نے کہا کہ انضمام،انضمام کر نے والے اس وقت سب کچھ بھو ل جا تے ہیں جس وقت وہ اقتدار میں ہو تے ہیں اقتدار کے بعد انہیں پھر انضمام یا د آ تا ہے ہم انضمام کے حق میں ہیں لیکن چا ہتے ہیں کہ ہر جما عت کا پانچ سال کے بعد کونسل سیشن ہو اور پا رلیمان میں جو لو گ آئے انہیں پا نچ سال پورے کر نے کے بعد نئی قیادت کو پا رلیمان کے لئے لا نا ہو گاہم سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے لئے بھی تیار ہیں، انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کو اقتدار ملا لیکن عوام کو کچھ نہیں ملا ہم بت تراشتے ہو ئے سجدہ نہیں کر سکتے،ہم غریب عوام کو منزل تک پہنچا نے کے عزم کو مقدم رکھیں گے، میر اسد للہ بلو چ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے لئے گئے قرضے عیا شیوں پر خرچ ہو ئے،آ ج ہما را جی ڈی پی گروتھ افغانستان سے بھی کم ہے اگر لئے جا نے والے بیرونی قرضے درست انداز سے خرچ کئے جا تے تو ملک ضرور ترقی کر تا، انہوں نے کہا کہ 21ویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ہمیں غلط پا لیسیوں کو ترک کر نا ہو گا انہوں نے کہا کہ بزنس کے شعبے میں غلط پا لیساں ہی ہما رے لئے نقصان دہ ثا بت ہو ئی ہیں، انہوں نے کہا کہ ترقی کیلئے ضروری ہے کہ عوام کو ساتھ لے کر آ گے بڑھا جا ئے چین اس وقت اس لئے دنیا کی معشت پر قابض ہیں کہ اس نے اپنے عوام کو ساتھ لیکر آ گے بڑھنا شروع کیا اس وقت وہ پوری دنیا کیلئے ایک مثا ل ہیں۔


