پر امن الیکشن ممکن ہے

ڈسکہ میں 360پولنگ اسٹیشنزپرضمنی الیکشن کسی ہلڑ بازی کے بغیر پر امن طور پر منعقد ہوئے،نون لیگ کی امیدوار نوشین افتخارنے ایک لاکھ 10ہزار75ووٹ لئے اور جیت گئیں جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار اسجدملہی کو93ہزار433ووٹ ملے، ہار گئے، فریقین نے اپنی ہار اور دوسرے کی جیت تسلیم کر لی۔دھاندلی کے روایتی الزامات اس مرتبہ سنائی نہیں دیئے۔حالانکہ وہی الیکشن کمیشن تھا جس نے اسی حلقے میں دو ماہ قبل انتخابات کرائے تھے، عوام نے 20 پریزائیڈنگ افسران کوووٹوں کے بیگ سمیت‘اپنی جان بچانے کے لئے کسی ”محفوظ“ جگہ منتقل ہوتے انتخابات کیتاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھا۔دن بھرحلقے میں فائرنگ کے واقعات بھی رونماہوئے،بعض افراد قتل اوربعض زخمی ہونے کے مقدمات درج کئے گئے،فریقین نے نتائج نہیں تسلیم کئے۔10اپریل کوسب نے دیکھاکہ مقررہ اوقات میں ووٹرز نے اپنی پسند کے امیدواروں کو ووٹ دیا۔ اسلحے کی نمائش اس بار بھی ہوئی مگر 9افراد کو اسلحہ سمیت موقع پر گرفتار کر لیاگیا۔چنانچہ دوسرے غنڈہ عناصر سامنے آنے کی ہمت نہیں کر سکے۔رات گئے نتائج کا اعلان ووٹرز تک پہنچ گیا۔جیتنے والوں نے حسب استطاعت جشن منایا اور ہارنے والوں نے خاموشی سے رات بسر کی۔ اس مرتبہ یہ تبدیلی اس لئے دیکھنے کو ملی کہ اس کے پیچھے سپریم کورٹ کی گائیڈ لائن اور کڑی نگرانی موجود تھی۔متعلقہ افسران جانتے تھے اگر انہوں نے اپنی من مانی کی تو اس کاخمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا۔سزاکا خوف جاتا رہے تو ہر شخص خود کوبادشا ہ سمجھنے لگتا ہے۔الیکشن کمیشن پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ بادشاہ بنارہا۔جیتنے والے کیسے جیتے؟اور ہارنے والے کیسے ہارے؟ یہ فیصلہ پولنگ اسٹیشن سے دور آسمانی مخلوق کی کرتی تھی۔فروری میں جو کچھ الیکشن کمیشن نے کیاوہ پرانی عادت کے زیر اثر تھا،بگڑی ہوئی عادتیں آسانی سے نہیں جاتیں، دیرتک تعاقب کرتی ہیں۔صرف الیکشن کمیشن نے من مانی نہیں کی تھی،پولیس اور حکومتی لاڈلے بھی برابر کے شریک تھے۔سب اپنے ہمدردوں کو خوش کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ عوام کی خوشی کے لئے کوئی کام نہیں کر رہا تھا۔آئین اور قانون کسی کو یاد نہیں تھا۔آئین اور قانون کی بالا دستی کے لئے بہت محنت درکار ہے۔اس میں طویل وقت لگتا ہے،کوئی شخص تنہانہیں کرسکتا۔وزیراعظم عمران خان نے بھی گزشتہ دنوں عوام سے ٹیلی فون پر رابطے کے دوران تسلیم کیاتھا:”پاکستان کو چاروں طرف سے مافیاز نے جکڑا ہواہے،میں تنہا کچھ نہیں کر سکتا، عدلیہ میراساتھ دے“۔انہوں نے سچ کہا تھا،اس کا ثبوت یہ ہے کہ10اپریل کو عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن نے فریقین کے لئے قابل قبول الیکشن کرا دیئے۔ مجرمانہ ذہن کو درست کرنا عدالت کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔قانون اور آئین کی بالا دستی قائم کرنا عدلیہ کا اولین فریضہ ہے۔عدلیہ نہ کہے توپاکستان میں برسوں بلدیاتی انتخابات بھی منعقد نہیں ہو تے۔آج کل نون لیگ پنجاب حکومت کو یاد دلا رہی ہے اگر سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کیا تو یوسف رضا گیلانی کی طرح توہین عدالت کی سزا میں وزات عظمیٰ ہاتھ سے جاتی رہے گی۔ادھر لاہور ہائی کورٹ نے بھی وزیر اعظم کے ٹیلفونک رابطے کی ریکارڈنگ طلب کر لی ہے جس میں وزیر اعظم نے کہو تھا کہ عدلیہ نے نواز شریف کو بیماری کی بناء پر 7ارب روپے کے ضمانتی بانڈ کی جگہ ذاتی مچلکے پر باہر بھیجنے کا حکم دیا تھا اوراس رعایت کا نتیجہ یہ نکلا کہ نوازشریف نے لندن میں نہ علاج کرایا اور نہ ہی دی گئی مدت میں پاکستان واپس آئے۔قانون کی بالادستی کا خیال ہوتا تو ایسے مناظر دیکھنے کو نہ ملتے۔اول تو نواز شریف کو علاج کے لئے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیئے تھی،انہیں یاد دلایا جاتا کہ آپ کی اہلیہ لندن کے اسپتال میں طویل عرصہ زیر علاج رہنے کے باوجود پاکستان زندہ نہیں آئیں۔ملک کے معروف سیاست دان اور روحانی پیشوا پیر پگارا بھی لندن علاج کے لئے لے جائے گئے تھے، انہیں لندن کے ڈاکٹر موت سے نہیں بچا سکے تھے۔لند ن کے ڈاکٹر ملکہ برطانیہ کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ کو مرنے سے نہیں بچا سکے، جمعہ کے روز بکنگھم پیلس کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے:”ملکہ برطانیہ کے شوہر شہزادہ فلپ نہیں رہے“۔معزز ججز کو یقینا علم ہوگا کہ قرآن میں لکھا ہے:”ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے“۔نیزسابق وزیر اعظم نواز شریف کی والدہ مرحومہ کا جسد خاکی بھی لندن سے تابوت میں بھجوایا گیا تھا۔میڈیا پر ایسی افواہیں گشت کر رہی ہیں کہ نون لیگ کی نائب صدر مریم نواز بھی مستقبل قریب میں ”علاج کی غرض سے“ لندن جانے والی ہیں۔نون لیگی قیادت عوام کو یقین دلا رہی ہے کہ اگر وہ چلی جاتی ہیں تو انہیں حق حاصل ہے،والد کے علاج (کسی متوقع آپریشن کے موقع پر)تیمارداری کے لئے جائیں گی اور پھر واپس آجائیں گی۔اس کی مثال وہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی پیش کرتے ہیں جو اپنے بہنوئی کی عیادت یا تیمارداری کے لئے امریکہ گئے تھے اوربراستہ لندن واپس آگئے تھے۔ پاکستان میں آئین کا احترام اور قانون کی بالادستی صرف غریب شہریوں کے لئے ہے جوبقول وزیر اعظم، مرغی چوری جیسے معمولی جرائم میں جیلوں بند ہیں۔اربوں روپے کی چوری کرنے والوں پر عدالتوں میں پیشی کے موقع پر پھول نچھاور کئے جاتے ہیں۔ ایم این ایز اور ایم پی ایز ان کے گرد جمع ہوکر وزیر اعظم کو ان کی پارٹی اور حکومت سازی کے حوالے سے ملزم کی بھاری خدمات یاد دلاتے ہیں۔لیکن اس عمل کے رسیاؤں کو جس دن یہ علم ہوا کہ کسی ارب پتی ملزم کو اربوں روپے چوری کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی اور ایسے ہی دوسرے مالدارملزموں کو سزا دیئے جانے کا یقین ہوگیا اسی روز پھول نچھاور کرنے والوں کی بھیڑ چھٹ جائے گی۔نواز شریف کے ہمدرد اقامہ کی سزاکوپانامہ کی سزا نہیں مانتے،وہ پانامہ کیس میں عدالتوں سے سزاکی امید لگائے بیٹھے ہیں۔تاہم عام شہری کے لئے ڈسکہ کے ضمنی انتخابات کاپرامن انعقاد بھی تازہ ہوا کے جھونکے سے کم نہیں۔ سیانے کہتے ہیں: جب حبس حد سے بڑھ جائے تولوگ” لُو“ کی دعائیں مانگنا شروع کر دیتے ہیں۔ دعا کرنی چاہیے کہ ایسا وقت آنے سے پہلے ہی ریاستی ادارے اپنا منصبی فرض ادا کرنے لگیں۔اورپرامن انتخابات کا انعقاد صرف ڈسکہ تک محدود نہ رہے، ملک کے ہر کونے میں الیکشن کمیشن اور دیگر ادارے ذمہ دارانہ کردار اداکرتے دکھائی دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں