نئی مردم شماری
2017میں کی گئی مردم شماری صوبہ سندھ نے مسترد کردی،دیگر تین صوبوں نے تسلیم کر لی۔ایم کیو ایم نے مردم شماری کے اعداد و شمار دیکھتے ہی اعتراض کیا تھا کہ کراچی کی آبادی کم کیسے ہوگئی؟جبکہ ملک بھر سے لوگ نقل مکانی کرکے کراچی کا رخ کرتے ہیں۔اسی قسم کا اعتراض سندھ حکومت کو بھی تھا۔2017سے وفاق سے مسلسل مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ مردم شماری زمینی حقائق کے مطابق کی جانی چا ہیے۔ وفاق کو شاید 74برسوں میں ایک لمحے بھی یہ احساس نہیں ہواکہ غلط مردم شماری خود وفاق کے لئے حددرجہ نقصان دہ ہے۔پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وفاق پر سے صوبوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ صوبے اس اقدام سے یہی سمجھتے ہیں کہ وفاق ان کی آبادی کم ظاہر کرکے انہیں سیاسی اور معاشی طور پر کمزور رکھنا چاہتا ہے۔وفاق صوبوں کو جو فنڈز فراہم کرتا ہے وہ آبادی کے تناسب سے کئے جاتے ہیں۔2017کی مردم شماری میں لاہور کی آبادی میں اضافہ دکھایاگیا ہے،اسے کوئی بھی باشعور اور غیر جانب دار شخص بقائمی ہوش و حواس تسلیم نہیں کر سکتا۔اس لئے کہ عید ین کے موقع پر کراچی سے اسپیشل ٹرینیں چلائی جاتی ہیں تاکہ دوسرے شہروں سے روزگار کی تلاش میں کراچی آنے والے شہری عید اپنے خاندان کے ساتھ منا سکیں۔لیکن سارا سال یہ لوگ کراچی میں رہائش رکھتے ہیں۔انہیں روزگار کے مواقع کے علاوہ پینے کے لئے صاف پانی،علاج کے لئے اسپتال،بچوں کی تعلیم کے لئے اسکول و کالج کراچی میں درکار ہوتے ہیں۔ کراچی کی آبادی کم دکھائی جانے کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ یہاں مردم شماری میں شمار نہ کئے جانے والے شہریو ں کو زندگی کی بنیادی ضروتوں کے لئے وفاق کی جانب سے فنڈز نہیں دیئے جائیں گے۔ اسی طرح لاہور میں مردم شماری بڑھا کر ظاہر کرنے کے نتیجے میں لاہور کو ان لوگوں کے فنڈز بھی فراہم کئے جائیں گے جو لاہور میں رہتے ہی نہیں۔یہ کھلی معاشی نا انصافی ہے۔اس کے اثرات آئندہ نسلیں بھی برداشت کرتی ہیں۔دیہاتوں سے شہروں کو نقل مکانی ایک مستقل معاشی اور معاشرتی مسئلہ ہے۔بلکہ اس کا دائرہ بین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔پسماندہ ملکوں سے لوگوں کی بڑی تعداد ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ملکوں میں آباد ہے۔امریکہ اور برطانیہ میں پاکستانی نژادشہری پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہونے لگے ہیں۔بیرون ملک آباد پاکستانیوں کی ترسیلات زرسے پاکستان اپنا تجارتی خسارہ پورا کرتا ہے۔اس سال پی ٹی آئی کی حکومت ہر مہینے یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی محسوس کرتی ہے کہ ماضی قریب میں بیرون ملک آباد پاکستانی بمشکل 20ارب ڈالر سالانہ بھیجتے تھے، رواں سال انہوں نے مارچ تک (9ماہ کے دوران)2.7ارب ڈالر کے حساب رقوم ارسال کی ہیں۔روزگار کی کشش انسان کو کسی بھی شہر اور ملک لے جاتی ہے۔ پاکستان کو کوئی استثناء حاصل نہیں۔جھوٹ کو ایمان کا درجہ نہ دیا جائے، جھوٹوں پر اَللہ کی لعنت ہے۔ جس پر اَللہ کی لعنت ہو اسے دنیا اور آخرت دونوں جگہ رسوائی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ مردم شماری میں ہیرا پھیری کرنے والوں کو احساس ہی نہیں کہ وہ آئندہ نسلوں کے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں۔دنیا میں پاکستان کی شناخت اس مردم شماری کے اعدادو شمار سے ہوتی ہے۔جب آپ اپنے ملک کی نصف سے زائد آبادی کو خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں میں شمار کرتے ہیں تو وہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے ساتھ بھکاریوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔ کراچی کی آبادی اصل سے کم بتانے کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اسٹریٹ کرائم بڑھ جاتے ہیں۔پولیس جرائم کا خاتمہ کرنے کی بجائے ان کی سرپرست کرنے لگتی ہے۔یہ سلسلہ بڑے شہروں سے قصبات تک پھیلا ہوا ہے۔یہ راز نہیں، ہر دوسرے ہفتے ٹی وی چینلز کسی نئے گینگ کو بے نقاب کرتے ہیں۔ مگر کسی کے خلاف کارروائی دیکھنے میں نہیں آتی۔پی ٹی آئی برملا کہتی ہے کہ خیبر پختونخوا والی پولیس اصلاحات پنجاب میں نافذ نہیں کر سکتے،یہاں کے ایم پی ایز کی نفسیات خیبر پختونخوا والوں سے مختلف ہے۔مبصرین اپنی فہم و فراست کے مطابق جو چاہیں تبصرہ کر سکتے ہیں۔پنجاب،بالخصوص قصور میں کمسن بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے جتنے واقعات وقوع پذیر ہوئے اتنے جرائم پاکستان کے دوسرے کسی شہر میں رپورٹ نہیں ہوئے۔یاد رہے جرائم اسی معاشرے میں پھلتے پھولتے ہیں جہاں انہیں قانون کی حکمرانی نظر نہیں آتی۔جہاں تھانے قانون کی پاسداری نہیں کرتے، بااثر افراد کو خوش کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ پاکستان کے بیگناہ شہریوں نے (بلکہ ان کی تین نسلوں نے)یہ وحشیانہ رویہ دیکھا ہے، ان کی خواہش ہے کہ یہ منظر تبدیل ہو۔صوبوں اور وفاق کو چاہیئے کہ مردم شماری شروع کرنے سے پہلے مناسب منصوبہ بندی کی جائے۔مقامی آبادی خود بھی اپنی آنکھیں کھلی رکھے۔ ہر یونین کونسل (UC) خانہ شماری اور مردم شماری کا صاف ستھرا ریکارڈ با آسانی ہر وقت جمع کر سکتی ہے اور اسے ایسا کرنا بھی چاہیئے۔ہر یونین کونسل بچوں کے پیدائشی اور مرنے والوں کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔ کس گھر میں کتنے افراد مقیم ہیں اگرمعلوم کرنے کی خواہش ہو تو کوئی مشکل کام نہیں، کیا جا سکتا ہے۔وفاق کے لئے جھوٹے اعدادوشمار جاری کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ایک
چھوٹا سا معلوماتی فارم جس میں خاندان کے سربراہ سمیت تمام افراد کی عمریں، تعلیم،روزگاراور آمدنی وغیرہ کے حوالے سے یوسی دفتر حاصل کرلے۔ بلکہ وفاق جب چاہے یہ معلومات صوبائی حکومت سے لے سکتا ہے۔کمپیوٹر کا زمانہ ہے۔صرف بھوکوں کا ریکارڈ نہ جمع کیا جائے، دیگر معلومات کے حصول میں بھی دلچسپی لی جائے۔ادارے پہلے ہی موجود ہیں، ان سے کام لیا جائے۔سیاسی پارٹیاں ذمہ دارانہ کردار ادا کریں تو کراس چیکنگ کا بندوبست بھی ہوجائے گا۔ہیرا پھیری کے امکانات بہت کم ہو جائیں گے۔ شکایتیں اور غلط فہمیاں پیداکرنے کی وجوہات دور ہوجائیں تو مفروضوں کی جگہ حقائق سب کے سامنے آجائیں گے۔واضح رہے صاف شفاف مردم شماری اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ملک کا ہر شہری اسے درست بنانے میں دلچسپی نہیں لیتا۔اور عام آدمی کی دلچسپی کے لئے یوسی کا متحرک ہونا کافی ہے۔ہر شہری کا اس سے واسطہ پڑتا ہے۔ بہت کم وقت میں ہر خاندان مطلوبہ معلومات یوسی دفتر میں جمع کرادے گا،مگر یہ معلومات کب مانگی جائیں گی، کون مانگے گا اس کا فیصلہ کون کرے گا؟


