آئی ایم ایف کی 5شرائط

انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ(آئی ایم ایف)کے نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ روایتی بینک نہیں ہے بلکہ اس کے مقاصد کمزور یا بدحال معیشت والے ملکوں کو فنڈز فراہم کرکے ان کی نگرانی کرنا ہے کہ وہ لیا گیا قرض طے شدہ شرائط کے مطابق خرچ کر تا ہے یا اپنی من کرتے ہوئے کسی مختلف فارمولے پر عمل کر رہا ہے۔بعض اوقات اپنے چہیتے حکمرانوں کی غلطیوں کو اپنے نادیدہ مقاصد کے لئے وقتی طور پر نظر انداز بھی کرتاہے۔اس کی مثال یورپی ملک یونان ہے، اس کادرگت حالیہ تاریخ میں آئی ایم ایف کے ریلیف پیکج کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہے۔دوسری مثال پاکستان ہے،پاکستان 2018 میں جس طرح دوست ملکوں سے قرض کی بھیک کے لئے کشکول اٹھائے گھوم رہا تھا سب کے سامنے ہے۔نتیجہ کیا نکلا؟قرض دینے والے دوست ملکوں نے پاکستان کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کو ملائیشیا میں اپنی بلائی گئی مسلم ممالک کی کانفرنس میں نہیں جانے دیا تھا،بلکہ دیا گیا”دوستانہ“قرض بھی قبل از وقت واپس لوٹانے کا مطالبہ کردیا تھا۔(پاکستان نے چین سے قرض لے کر دوست ملکوں کو واپس کیا)۔ آئندہ برس بھی چین سے بھاری رقوم لی جائیں گی تاکہ آئی ایم ایف یا دیگر عالمی مالیاتی اداروں کا زیادہ شرح سود کا واجب الادا (11ارب ڈالر)قرض ادا کر سکے۔بجلی کے نرخوں میں اضافہ آمدنی بڑھانے کا آسان نسخہ ہے جو حکومت پاکستان چار پانچ دہائیوں سے مسلسل آزما رہی ہے۔جب ملکی برآمدات کم اور درآمدات زیادہ ہوں توعوام کی زندگی میں مشکلات بڑھتی ہیں، آسانیاں دور ہوتی چلی جاتی ہیں۔پاکستان ماضی کی انہیں غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔موجودہ حکومت آدھی مدت پوری کر چکی ہے،اس کی کارکردگی راز نہیں رہے گی۔عالمی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے سالانہ رپورٹس شائع کرتے ہیں۔ماہرین معیشت کے لئے رہنمائی کا خاطر خوا معلوماتی ذخیرہ اس میں موجود ہوتا ہے۔پاکستان ابھی اعدادوشمار کی ہیرا پھیری سے نجات حاصل نہیں کر سکا، 2017کی متنازعہ مردم شماری عوام کے سامنے ہے۔سندھ روز اول سے عدم اعتماد کا اظہار کر رہا ہے۔بلدیاتی انتخابات کی نئی حلقہ بندیاں مردم شماری کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔ابھی تک اس کا سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔2021مردم شماری کاسال ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت اسی سال مردم شماری کے لئے تیار ہے۔درست اعدادوشمار قوم کے سامنے نہ ہوں تو منصوبہ بندی نہیں کی جاسکتی۔معذروں کی مردم شماری پہلی مرتبہ ہوگی۔کسی ملک کی معیشت کودرست رکھنا اسی ملک کی حکومت کا بنیادی فرض ہے۔آئیڈیل صورت حال کسی ملک میں نہیں، قریب ترین اہداف کے حصول میں کامیابی کو سراہا جاتا ہے۔پاکستان ابھی بوجوہ اس صف سے باہر ہے۔غیرملکی پاور پلانٹس سے کئے گئے معاہدے عوام کے لئے ناسور بنے ہوئے ہیں۔ گردشی قرضہ آمدنی کا بڑا حصہ نگل جاتا ہے۔آئی ایم ایف گردشی قرض کا خاتمہ چاہتا ہے۔یہ بھی بجلی کے نرخوں میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔پاکستان کے عوام کو یہ حقیقت ہر لمحہ یاد رہنی چاہیئے کہ آئی ایم ایف کوئی خیراتی ادارہ نہیں، اصل میں اسے ایک بینک سمجھاجانا چاہیئے۔بینک کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اس کا دیاہوا قرضہ مع سود اسے واپس مل جائے۔ٹیکس بڑھانے کی شرط اسی لئے رکھی جاتی ہے کہ قرض لینے والے ملک کی آمدنی میں اضافہ ہو۔یہ دیکھنا حکو مت کی ذمہ داری ہے کہ اس کے منفی اثرات اسکی صنعت اور زراعت پر نہ پڑیں۔اشیائے خوردونوش مہنگی نہ ہوں۔سبزی اوردالیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر نہ ہوں، اپنی محدود آمدنی میں متوسط طبقہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکے۔درست پلاننگ سے دنیا کے بیشتر ملکوں نے اپنی معاشی حالت بہتر بنا لی ہے۔چین ان ملکوں میں سے جس نے پاکستان کے بعد آزادی حاصل کی،نامساعد حالات سے گزرا لیکن اپنی حکومت کی صحیح حکمت عملی،عزم، اور مسلسل جدوجہد نے آج اسے دنیا کی ایک ترقی یافتہ قوم بنا دیا ہے اوراس کے مقابلے میں پاکستان آئی ایم ایف کے دروازے پر کشکول لئے کھڑا ہے۔پاکستان کے حکمران سوچیں کہ عوام کو ان مشکلات سے نجات دلانے کے لئے کون سا راستہ اختیار کرناہے؟غیرملکی مالیاتی اداروں کی غلامی سے نکلنا ہے یا اس غلامی کو اپنے عوام کی تقدیر سمجھنا ہے۔پاکستان میں وزیر خزانہ کی بار بار تبدیلی کے پس پردہ یہی خواہش نظر آتی ہے کہ حکومت معیشت کی بہتری کے لئے تگ و دو کر رہی ہے۔ اپوزیشن اسے حکومتی نااہلی کہتی ہے۔اپوزیشن کے پاس اپنے دلائل ہیں، ناپ تول کا اپنا پیمانہ ہے۔لیکن حکومت کے اصل ناقدین ملک کے 98فیصد عوام ہیں جو حکومتی معاشی پالیسیوں سے براہ راست متأثر ہوتے ہیں۔ ابھی عوام کے صبرکی انتہا نہیں ہوئی۔ابھی اس قدر مایوس نہیں جتنا اپوزیشن سمجھ رہی ہے۔اپوزیشن کواچھی طرح یاد ہونا چاہیئے کہ گزشتہ چار دہائیوں میں مرکزی اور صوبائی حکومتیں اپوزیشن کے پاس تھیں۔وزیر اعظم کی کرسی اور وزیراعلیٰ کی کرسیوں پر اپوزیشن میں شامل پارٹیوں کے عہدیدار بیٹھے تھے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے وزیر اعظم کی حیثیت سے 2018میں حلف اٹھا یاہے۔ وفاقی حکومت انہیں پہلی بار ملی ہے۔خیبر پختونخوا کی پانچ سالہ کارکردگی کو عوام نے پسند کیا اور لگاتار دوسری بار کامیابی دلائی جبکہ دوسری بار انہیں دوتہائی اکثریت سے کامیابی ملی۔ایسا خیبر پختون خوا کی تاریخ میں پہلی بار دیکھا گیا۔یہ بھی سچ ہے کہ وفاق اور پنجاب میں پی ٹی آئی کو معمولی سی اکثریت حاصل ہے، اتحادیوں میں سے دو چاراراکین ادھر سے ادھر ہوجائیں،یہ حکومتیں نہیں رہیں گی۔ہر مشکل وقت اتحادی اپنے اتحادی ہونے کا خراج وصول کرتے ہیں۔ آج کل پی ٹی آئی کے اپنے بعض صوبائی اور قومی اسمبلی کا اراکین جہانگیر ترین کے عشائیہ اور عدالتوں میں میڈیا کے روبرواعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ جہانگیر ترین نے دلائی تھی اور اعتماد کا ووٹ بھی انہی کا احسان ہے، لہٰذاوزیر اعظم نیب کو لگام دیں۔مسلم لیگ نون کی دوسرے درجے کی قیادت بھی یہی کہہ رہی ہے پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت جہانگیر ترین کی ایک جیب میں ہے اور پنجاب کی حکومت ان کی دوسری جیب میں۔لیکن وزیر اعظم نے ان ناراض اراکین کو تاحال ملاقات کا وقت نہیں دیا۔گویا وہ (وزیراعظم)سمجھتے ہیں اپوزیشن کا اندازہ درست نہیں۔ابھی جہانگیر ترین اس اعلیٰ و ارفع بلندی پر نہیں پہنچے جہاں وفاقی اور صوبائی ان کی ”جیبوں“ میں سما سکیں۔ابھی اپوزیشن کو صبروتحمل سے تیل اورتیل کی دھار کو دیکھنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں