مناسب پلاننگ درکار ہے

مناسب پلاننگ کے بغیر تو چار پانچ افراد پر مشتمل چھوٹا سا گھر نہیں چل سکتا،22،23کروڑ آبادی والا ملک کیسے چلے گا؟ اور ایسا ملک جسے سدھارنے کی کئی دہائیوں سے سنجیدہ کوشش نہ کی گئی ہو اس کی حالت اور خرابی کا اندازہ لگانے کے لئے معمولی سوجھ بوجھ کافی ہے۔تمام بڑے شہروں میں بدبودار کچرے کے ڈھیر، گٹروں سے ابل کرسڑکوں اور گلیوں میں بہتا غلیظ پانی،ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، مچھروں کی بہتات،مریضوں کی کثرت،اسپتالوں کی قلت اور اتائیوں (جعلی ڈاکٹروں، حکیموں) کے ہاتھوں ہلاکت پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیئے۔دو دن قبل ملتان میں تین بچوں کی ہلاکت اسی بدنظمی کا نتیجہ ہے۔لاہور کے بڑے اسپتال میں سیکیورٹی گارڈ ایک 80سالہ خاتون کا آپریشن کرنے کے الزام میں گرفتار ہے، جبکہ خاتون کی جان بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پونے دو کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے،مہنگائی پر قابو پانے کے دور دور تک آثار دکھائی نہیں دیتے۔ایسے میں ایک ہمسایہ ملک کی کوشش پاکستان کے کام آگئی کہ اس نے پاکستان میں ہر قسم کے جرائم کی بے تحاشہ افزائش کی شکایت فنانشل ایکشن ٹاس فورس(ایف اے ٹی ایف) سے کردی۔اور مطالبہ کیا کہ اس کا نام بلیک لسٹ میں ڈالا جائے۔ایف اے ٹی ایف نے براہ راست بلیک لسٹ میں ڈالنا مناسب نہیں سمجھا، گرے لسٹ میں ڈال دیااور27شرائط پوری کرنے کی ہدایت کی۔اطلاعات کے مطابق پاکستان 26شرائط پوری کر چکا ہے۔ایک شرط ملکی قانونی پیچیدگیوں کے باعث بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ شرط یہ ہے کہ ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے سات کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے گرفتار شدہ تمام ملزمان کو سزائیں دے اور ان کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدا ضبط کرے۔ابھی تک یہ تناسب 42فیصد ہے۔آئندہ ماہ(جون) کے تیسرے ہفتے میں اجلاس اس بارے میں فیصلہ کرے گا۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ اگر ایف اے ٹی ایف کا دباؤ نہ ہوتا تو ہمارے ملک میں منی لانڈرنگ جیسے جرائم کی شرح کس بلندی پر ہوتی۔حکومت کہتی ہے اپوزیشن اس ضمن میں تعاون نہیں کرتی اور تعاون کے بدلے این آراو مانگتی ہے۔حکومت ایک دستاویز ثبوت کے طور پر میڈیا کے روبرو پیش کرتی ہے۔عام آدمی بھی اسی نتیجے پر پہنچتا ہے کہ کچرے کے ڈھیروں کی بہتات اور لاقانونیت کے فروغ کی ذمہ دار یہی قانون شکن ذہنیت ہے۔ گزشتہ پچاس سال میں کوئی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا گیا،سستی بجلی کی بجائے پیٹرول اور گیس سے مہنگی بجلی کے پلانٹ لگائے، گردشی قرضہ ملک پر مسلط کیا۔آج پینے کا پانی بھی شہریوں کو میسر نہیں۔غیر معیاری پانی ”منرل واٹر“کے نام پر گلی کوچوں میں بیچا جارہا ہے۔کوئی پوچھنے والا نہیں، سب محکمے بھتہ خوری میں لگے ہیں۔آج کل سندھ وفاق پر پانی چوری کا الزام لگا رہا ہے، کل یہی الزام بلوچستان حکومت سندھ پر لگا رہی تھی۔جس پانی سے اربوں ڈالرسالانہ کمائے جا سکتے تھے،زراعت کو فروغ ملتا، اسے ہر سال سیلاب کی شکل میں سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے۔ شہری آبادی میں تباہی اس کے علاوہ برداشت کرنا پڑتی ہے۔ سڑکیں اور پل بہہ جاتے ہیں۔پاکستان کے مسائل زدہ عوام اس بوجھ سے نجات چاہتے ہیں۔انہیں سکھ کی زندگی بسر کرنے کا موقع ملنا چاہیئے۔ ان کے بچے تعلیم سے محروم ہیں، ہنر مند اور تعلیم یافتہ بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔اساتذہ کو صرف اپنی تنخواہ سے غرض ہے، اپنے فرائض کی ادائیگی سے اکثریت لاتعلق ہے۔کئی بار انکشاف ہو چکا ہے کہ بڑی تعداد میں گھوسٹ اسکول قائم ہیں۔ اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ گھوسٹ اسکولوں میں گھوسٹ اساتذہ ہی تعلیم دیتے ہیں۔تعلیمی بجٹ کا بڑا حصہ اس طرح لالچی اور خود غرض افسران ملی بھگت سے ہڑپ کر لیتے ہیں۔یہ گھناؤنا کاروبار کئی دہائیوں سے جاری ہے۔پونے دو کروڑ بچوں کا اسکول سے محروم ہونا اس سنگین جرم کا واضح ثبوت ہے۔ایف اے ٹی ایف کی گرے لسسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے کے معنے اس کے علاوہ نہیں ہو سکتے کہ پاکستان میں رائج قوانین جرائم کی روک تھام اس لئے نہیں کرسکتے کہ ان میں خامیاں ہیں۔ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ کے گرفتار شدہ100ملزمان میں سے صرف 42کو سزا ملتی ہے 58بچ جاتے ہیں۔قوانین کو بہتر بنانے کی شرط پاکستان تمام تر کوشش کے باوجود تا حال پوری نہیں کر سکا۔دیکھیں جون کے تیسرے ہفتے میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس کیا فیصلہ سناتا ہے؟ لاقانونیت کا جڑ سے خاتمہ ضروری ہے۔حکومتی مشیروں اور وزیروں کا نام راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل میں شامل ہیں۔قانون شکن ذہنیت کے حامل افراد وزیر اعظم کے کیمپ میں بھی موجود ہیں۔جہانگیر ترین کے ہمدردوں کا مطالبہ بھی یہی ہے کہ ہاتھ ہلکا رکھا جائے۔ دھمکی دی جا رہی ہے کہ حکومت نے وعدے پورے نہ کئے تو اپنے حشر کے لئے تیار رہے۔کھلی دھمکیاں بلا سبب نہیں، یہ لب و لہجہ اشارہ ہے کہ آنے والے ہفتے ہنگامہ خیز ہوں گے،حکومت کی ان ڈور تبدیلی یا نئے انتخابات میں سے کوئی آپشن حکومت استعمال کر سکتی ہے۔جہانگیرترین کے با آسانی عدم اعتماد کی تحریک لا سکتے ہیں۔البتہ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حکومت اسے ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ایسے اراکین بھی ایوان میں بیٹھے ہیں جو اپنے سوئے ہوئے ضمیر کے جاگنے کا انتظار کر رہے ہیں،ضمیر کے جادتے ہی وہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں اپنی رائے دینے میں کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ماضی میں یہ کام ایک سے زائد بار دیکھا گیا ہے۔شہباز شریف نے کچھ دیکھ کر رہی بلیک لسٹ سے اپنا نام نکلوانے کی تمام درخواستیں واپس لی ہیں۔ ستاروں کا حال جاننے والوں کی پیش گوئیاں بھی گردش میں ہیں۔ سب جانتے ہیں ستارے اپنے برج مسلسل تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ہر برج کا مزاج مختلف ہوتا ہے۔اور مزاج کی تبدیلی حکمرانوں کے لئے بعض اوقات بھاری پڑتی ہے۔اسی لئے جمع کی عید منانے سے گریز کیا جاتا ہے تاکہ دو خطبوں کے اثرات سے بچ سکیں۔ستارے گردش میں ہوں تو یہ تدبیر بھی ناکام ہو جاتی ہے۔ایسے حالات میں مبصرین محتاط انداز میں بلکہ اشاروں کنایوں میں گفتگو کرنے لگے ہیں۔جب کھل کر رائے دینے سے گریز کا وقت قریب آجائے تو ملک میں بڑی تبدیلی سے انکار مشکل ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دوسری طرف یہ خبر بھی دی جا رہی ہے وزیرخزانہ الیکشن بجٹ تیار کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں