گڈانی مشتبہ جہاز معاملہ حساس ادارے حرکت میں آگئے جے آئی ٹی تشکیل

حب(نمائند ہ انتخاب) گڈانی شپ بریکنگ یارڈ دیوان سنز کمپنی مشتبہ بحری جہاز میں 15000ٹن مرکری (پارہ) آلود سلج آئل موجودگی کے انکشاف پر وفاقی اور صوبائی حکومت کے متعلقہ اداروں نے تحقیقات کا آغازکردیا وفاقی سیکرٹری ماحولیات کلائمنٹ چینج اور وزارت دفاعی اُمور نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی جبکہ میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کسٹم سمیت بعض حساس ادارے بھی حرکت میں آگئے ہیں دوسری جانب صوبائی ادارہ تحفظ ماحولیات کی تحقیقاتی ٹیم نے گزشتہ روز اپنے دعوؤں پر یوٹرن لے لیا اور میڈیا کو بتادیا کہ جہاز میں تمام ٹینک خالی پڑے ہیں اِدھر صوبائی حکومت کی جانب سے لسبیلہ انتظامیہ کی افسران پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم نے بھی خاموشی اختیار کررکھی ہے اور بارہا رابطہ کرنے کے باوجود ڈپٹی کمشنر فون اٹینڈ کرنے سے بھی قاصر ہیں انڈیا اور بنگلہ دیش کے انکار کے بعد جہاز کا نام ت تبدیل کرکے دنیا کی تیسری اور پاکستان کی سب سے بڑی شپ بریکنگ یارڈ کے پلاٹ نمبر 60تک پہنچنے والے بحری جہاز کی پس پردہ کہانی پر اسرار رخ اختیار کرنے لگی 27اپریل کو انٹرپول کی پاکستانی اداروں کو آگاہی کے باوجود 30اپریل کو کراچی کے قریب بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کے ساحل پر قائم دنیا کی تیسری اور ملک کی سب سے بڑی شپ بریکنگ یارڈ تک پہنچنے والے بحری جہاز کے حوالے سے گڈانی کسٹم اور ادارہ تحفظ ماحولیات کی خاموشی سے شپ بریکرکو جہاز کی نال کٹائی کی اجازت اور BDAکو لاعلم رکھنے سمیت جہاز کے اندر موجود مبینہ سلج کی جہاز سے باہر منتقلی کے بعد جب انٹر پول اور FIAکے انکشافات پر مبنی رپورٹ میڈیا پر طشت ازبام ہوئی تو متعلقہ صوبائی حکومت کے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئی تو دوسری جانب گڈانی کسٹم حکام کا میڈیا کا سامنا کرنے سے کترانا بعدازاں EPAکی تحقیقاتی ٹیم کے دو روز قبل کے دعوؤں کے بعد ہفتہ کے روز جہاز کے عرشے پر چڑھ کر معائنہ کے بعد میڈیا کو بتایا کہ جہاز کے 6ٹینک خالی پڑے ہیں اس بدلتی ہوئی صورتحال نے مذکورہ مشتبہ جہاز کی کہانی کو مزید پُر اسرار بنادیا ہے مزید برآں ذرائع کے مطابق جہاز کی تحقیقات کیلئے وفاقی حکومت کی جانب سے ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس میں وفاقی وزرات ماحولیات و کلائمنٹ چینج اور وزارت دفاعی اُمور کے ماہرین شامل ہیں ذرائع بتاتے ہیں کہ وفاقی JITایک دو دنوں میں جہاز کا معائنہ کرنے گڈانی پہنچنے گی قبل ازیں میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی سمیت بعض حساس ادارے بھی تحقیقات میں مصروف ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی ادارے کی جانب سے انٹروپول کے دعوے کے مطابق جہاز میں موجود مرکری آلود سلج کی کوئی تجرباتی رپورٹ سامنے نہ آسکی ہے جبکہ جہاز کے مالک رضوان دیوان نے نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایک پرائیوٹ لیبارٹری سے تجزیہ کرایا ہے جس میں جہاز میں موجود سلج میں مرکری پار ہ کی رپورٹ منفی آئی ہے تو پھر ادارہ تحفظ ماحولیات کے دعویٰ کے مطابق جہاز کے ٹینک خالی پڑے ہیں انہیں اتنا بھی مواد نہیں مل سکا کہ اُسے تجزیہ کے نمونے کے طور پر لیا جاسکے ان دونوں دعوؤں میں کھلے تضاد اور لسبیلہ انتظامیہ کی جانب سے تشکیل شدہ انکوائری کمیٹی کی بھی خاموشی کئی سوالوں کو جنم دے رہی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کی انکوائری کمیٹی کا موقف جاننے کیلئے ڈپٹی کمشنر کے فون پر بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کے باوجود رابطہ نہ ہو سکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں