کوئٹہ میں پروفیسر عزیز بگٹی کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد
کوئٹہ(سٹاف رپورٹر) پروفیسر عزیز محمد بگٹی بلوچستان میں عہد حاضر کے وہ واحد سیاسی دانشور تھے جنہوں نے نہ صرف باقاعدہ سیاسیات کا علم حاصل کر رکھا تھا بلکہ اس علم کو درس و تدریس اور اپنے قلم کے ذریعے سماجی تبدیلی کیلئے نہ صرف بھرپور استعمال کیا بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعے سیاسی و سماجی شعور کو بیدار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا،بلوچستان کی ادب، سیاست اور ثقافت کو سمجھنے کے لئے پروفیسر عزیز بگٹی نے جوکام کیاہے وہ ہمیشہ زندہ رہے گا، ان کا شمار ان درویش صفت باعمل شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے دنیا کو اونچے پیڈسٹل سے بیٹھ کر دیکھا اور اپنی حیثیت اور صلاحیت کو اجتماعی خیر کیلئے استعمال کیا۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے کوئٹہ پریس کلب میں زند اکیڈیمی نوشکی کے زیر اہتمام مرحوم پروفیسر عزیز محمد بگٹی کے حوالے سے ہونے والے تعزیتی ریفرنس سے کیا،تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی انور ساجدی، عامر رانا، یارجان بادینی، پروفیسر رحیم مہر، زبرین بگٹی،ڈاکٹر اسحاق بلوچ، نورخان محمد حسنی، وحید زہیر، پروفیسر اے ارداد، پروفیسر طاہر حکیم بلوچ، میجر نذر زمرد،ڈاکٹر عنبرین مینگل، ماہ نور بلوچ، فاروق کبدانی اور عبدالباری بلوچ نے کہا کہ عزیز بگٹی بحیثیت ادیب اور قلم کار اپنے قلم کو بیچنے اور ذاتی منفعت اور شہرت کا ذریعہ بنانے کی بجائے سوسائٹی میں مثبت اقدار کے فروغ اور مجموعی تبدیلی کے خواب کے حصول کا وسیلہ بنایا، مقررین نے کہا کہ عزیز بگٹی نے مشکلیں جھیلیں، سرکاری ملازمت ہوتے ہوئے ناکردہ گناہوں کی پاداشت میں بغیر تنخواہ کے گزارہ کیا، وہ بلوچستان کی جدید تاریخ، سیاست اور سماج پر گہری نظر رکھنے والے دانشورتھے، جنہوں نے سیاسی رجحانات،منفی روئیوں اور قبائلی نظام کے تضادات کے خلاف بھرپور لکھا، وہ شہید نواب اکبر خان بگٹی کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں سے تھے لیکن ان کی سیاسی و پارٹی پالیسیوں پر بھی بلاتردد تنقید کرتے رہے، وہ علمی و ادبی محاز پر بلوچستان کی ایک موثر اور توانا آواز تھے جوہ ہر وقت اپنے علم اور قلم کی طاقت سے بلوچ قوم کے مسائل اجاگر کرتے رہے اور اپنا دانشورانہ فریضہ انجام دیتے رہے، مقررین نے کہا کہ پروفیسر عزیز بگٹی کے کتابوں کو بیرون ملک بطور ریفرنس لیا جاتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے بلوچستان کی سیاست، سماج، ادب اور ثقافت پر تخلیقی اور جامع انداز میں کام کیا اور اب یہ زمہ داری یارجان بادینی سمیت تمام بلوچ ادیب دانشوروں کی ہے کہ وہ پروفیسر عزیز بگٹی کی مشن کو آگے بڑھائے۔


