لاپتہ افراد کے مسئلے پر بہت سے لوگ سیاست کر نے کی کوشش کر رہے ہیں،جام کمال
کوئٹہ:وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہاہے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ بہت بڑا اور ایک عرصے سے ہیں ریاست مخالف تحریکوں،پاکستان اور بلوچستان کو ڈی سٹیبلائز کرنے والوں نے بلوچستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے،لاپتہ افراد کے مسئلے پر بہت سے لوگ سیاست کرنے کی کوشش کررہے ہیں،لاپتہ افراد کی اعداد وشمار مختلف کوئی 5ہزار تو کوئی 40ہزار اور کوئی 10ہزار بتا رہاہے،حالیہ بہت سے لاپتہ افراد بازیاب ہوئے ہیں،بلوچستان میں انسانی زندگی میں بہتری نہ ہونے کی وجہ سے دیگر مسائل نے جنم لیاہے،جب بھی بلوچستان کے مسائل کی بہتری کیلئے کوششیں کی جاتی ہیں تو نان ایکٹرزتمام تر مثبت اقدامات کوسبوتاژ کرنے کیلئے فعال ومتحرک ہوجاتے ہیں،سیاسی جگہ اور نمبرز میں کمی کی وجہ سے ہر وزیراعلیٰ سوچتاہے کہ ان کی حکومت کل،پرسوں یا ترسوں چلی جائے گی،سعودی عرب کا پورا بجٹ بلوچستان پر لگایاجائے اگر وہ پیسے کرپشن کی نظر یا انفرادی طورپرخرچ ہورہاہوں تو زندگی بھر پیسے ضائع ہوتے رہیں گے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے نجی ٹی وی 92نیوز کودئیے گئے انٹرویو میں کیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہاکہ بلوچستان میں ہمیشہ صوبائی سطح پر صوبے کے اپنے لوگوں کی حکومتیں رہی ہیں وفاق کے ساتھ تعلقات مختلف رہے جن میں بہت سے ایسے حکومتیں جوپرو وفاق رہی ہیں اور ان میں کوئی ایسی اختلافات نہیں تھا اگر 2013تا2018دیکھاجائے توپروگورنمنٹ جس کے وفاق کے ساتھ اچھے مراسم تھے اس سے قبل نواب محمد اسلم رئیسانی کے آصف علی زرداری کے اچھے تعلقات تھے 8سے10سال پہلے دیکھاجائے تو میرے والد صاحب کے پرویزمشرف کے ساتھ اچھے تعلقات تھے ماضی میں اور بھی حکومتیں تھی،بلوچستان کے مسائل دیکھے جائیں تو مختلف ڈائمنشنز ہیں کوئی ایک چیز بلوچستان کامسئلہ نہیں صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ جن سے دیگر مسائل نے جنم لیاہے وہ اہم وجہ بلوچستان کے لوگوں کی زندگی میں بہتری کانہ ہوناہے بلوچستان ایک وسیع رقبے پر محیط ہے جہاں بہت سے علاقے آج بھی رابطے کی کمی،روڈ،تعلیم،صحت،بجلی سے دور ہیں اور بہت سے فیکٹرز ایسے ہیں جو صوبائی حکومت نے کرنے تھے وفاق نے کرنے نہیں تھے جو نہیں کئے گئے وقت کے ساتھ مسائل میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا جام کمال خان نے کہاکہ اگر سعودی عربیہ کا پورا بجٹ بلوچستان میں غلط خرچ کرے اور یہ کرپشن کی نظر کیاجائے اور ان چیزوں پر پیسہ لگایاجائے جو عوام کیلئے نہ ہوں اور فوکس انفرادیت پر ہو تو زندگی بھر پیسہ ضائع ہوتا جائے گا یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں گورننس کا اسٹریکچر کہ جب کوئی حکومت آئی تو اس نے اس اینگل کو نہیں دیکھابلوچستان میں سیاسی گیمز چلتے رہتے ہیں یہاں مسائل کی وجہ سے ایک مسئلہ پر توجہ دی جائے تو دوسرا مسئلہ کھڑاہوجاتاہے پولیٹیکل سپیس کم اور گیم نمبر چھوٹا ہے کہ ہر وزیراعلیٰ ہمیشہ یہی سوچتاہے کہ آج حکومت گئی یا کل جائے گی یا پھر پرسوں جائے گی،انہوں نے کہاکہ ہم نے جب سسٹم سنبھالا تو مختلف اینگل سے بلوچستان کو دیکھ رہے ہیں اور ترجیحی بنیادوں پرحکومت بلوچستان نے وفاق کے ساتھ بلکل مختلف انداز میں کام کررہاہے وہ انداز یہ نہیں کہ ہم نے چند کاموں کیلئے وفاق کو پرچیاں بھیجنی ہے بلکہ لانگ ٹرم پالیسی پر کام کررہے ہیں،بلوچستان جو چاہتاہے ہم عملی طورپر وہ کرکے دکھائیں گے گوادر میں تین سال پہلے جومسائل تھے ان میں آدھے سے زیادہ کی کمی ہوئی ہے مسائل کے حل میں وقت لگے گاجام کمال خان نے کہاکہ بلوچستان کے لوگ گالف،سعودی،مڈل ایسٹ،یورپ،آسٹریلیا،انگلینڈ ہر جگہ بہت زیادہ ہے یہ بہت بڑا طبقہ ہے جو ایکٹوہے سوشل میڈیاپر بحث اور ڈبیٹ کرتاہے پاکستان میں کہیں جگہ ہے جو یہاں رہتے ہیں بہت بڑا طبقہ جو باہر ہے اور یہاں گراؤنڈ پر نظرنہیں آتے لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے نظرآتے ہیں،چند ایسے سیاسی رہنمایا چند لوگ جو انہیں گمرہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ ان کی باتوں میں آجاتے ہیں جب یہاں آسکتے ہیں تو وہاں آسان ہے،ہم نے بلوچستان میں 2طرح کے لوگوں کی پہچان کی ہے ایک وہ جو بلوچستان کے لوگ ہیں ان کے رشتہ دار ادھری ہے یہاں پیسہ بھیجتے ہیں لیکن ناراض ہیں،کچھ لوگ ایسے ہیں جو بنیادی طورپر ناراض اس حوالے سے ہے کہ انہوں نے ریاست مخالف یا پاکستان وبلوچستان کو ڈی سٹیبلائز کرنے کی کوشش نہیں کی پھر ایک کچھ ایسے لوگ جنہوں نے باقاعدہ ریاست مخالف کرداراداکیاہے بھارت ودیگر کے ہاتھوں استعمال ہوئے ہیں جنہوں نے بلوچستان کے لوگوں کو بڑا نقصان دیاہے،یہاں ہم نے قربانیاں دی ہے،مسائل کو سنسٹیو انداز میں چیزوں کو دیکھ رہے ہیں کیونکہ جہاں بھی ایسی سٹیبلٹی کی بات آتی ہے تو بہت سارے نان ایکٹرز ایکٹو ہوجاتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ہر اچھے اقدام کو سبوتاژ کیاجائے انہوں نے کہاکہ اب معاملات میں بہتری آئی ہے لوگوں کا اعتماد بڑھ گیاہے باہر بیٹھے لوگ بھی پراعتماد ہوگئے ہیں لیکن اس کے باوجود کچھ عناصر ہیں جو نہ بیٹھیں گے اور نہ ہی معاملہ حل ہوگا، جام کمال خان نے کہاکہ لاپتہ افراد کا مسئلہ بہت بڑا مسئلہ جو آج سے نہیں بہت عرصے سے ہیں اس حوالے سے مختلف رائے پائے جاتے ہیں بہت سے لاپتہ افراد جو ہمسایہ ممالک میں سلف ڈیکوریسن کی ہے کیونکہ وہ ایک تحریک کاحصہ رہے ہیں اور پاکستان میں تو انہوں نے خود کو تحریک کاحصہ نہیں بنایا ان میں کچھ ایسے لوگ ہیں اور کچھ ایسے کاموں میں حصہ لیاہے جو سلف مسنگ میں جاتاہے،بہت سارے ایسے لوگ ہیں جن کے نام ان پیرامیٹرز پرآتے نہیں یہاں سرداراخترجان مینگل کی اپنی رائے،ماما قدیر جن کی اس مہم میں بڑا حصہ ہے ان کا اپنی رائے ہیں،یہاں نمبرز میں بہت بڑا فرق ہے 2سے 3ہزار کا فرق ہوتاتو مانی جاسکتی ہے ایک کہتاہے کہ 5ہزارہے کوئی کہتاہے کہ 40ہزار ہے کوئی کہتاہے کہ 10ہزار ہے بہت سے جو جرائم میں ملوث ہیں اور دنیا میں ہر ملک کااپنا قانون ہے حالیہ وقت میں بہت سے لوگ واپس آئے ہیں لیکن بہت سے لوگ لاپتہ افراد کے مسئلے کو سیاسی طورپر استعمال کرتے ہیں کہ ان ہم نے صرف اسی مسئلہ پر اپنی سیاست کرنی ہے چاہے وہ حل ہوں یا نہ ہوں۔


