بلوچستان کو پیپلزستان بنائیں گے، نواب ثناء اللہ زہری
کوئٹہ:چیف آف جھالاوان سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے کہا ہے کہ بلوچستان کو پیپلزستان بنائیں گے، نواز شریف کی فطرت میں وفا نہیں ہے، نواز شریف سے ہمیشہ عزت کا تقاضہ کیا مگر میر ے بچوں کے قاتلوں کے کہنے پر ہمیں بے عزت کیا گیا بلاول بھٹوزرداری سے کہتاہوں کہ مبارک ہو آپکو آج سے ثناء اللہ آپکا ہوا ہمیں صرف عزت چاہیے پیپلز پارٹی سے یہی توقع ہے کہ وہ ہمارے ساتھ وہ نہیں کریں گے جو نواز شریف نے کیا، را فنڈڈ لوگوں نے جتنے بھی بلوچستان کے لوگوں کو شہید کیا ہم انکے وارث ہیں،بلوچستان میں امن قائم کرنے کا کریڈٹ مجھے جاتاہ ہے آج سے باقاعدہ پیپلز پارٹی کا حصہ اور جیالہ ہوں۔یہ بات انہوں نے اتوار کو جتک ہاؤس کوئٹہ میں پیپلز پارٹی میں شمولیت کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہی اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زراری، فیصل کریم کنڈی، سردار لطیف کھوسہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، پیپلز پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری روزی خان کاکڑ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات سردار سربلند جوگیزئی، صابر بلوچ، میر صادق عمرانی،حاجی علی مدد جتک، غزالہ گولہ سمیت دیگر بھی موجود تھے۔چیف آف جھالاوان سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا کہ نواز شریف میرے گھر آئے اور انہیں کہا کہ ہمیں پنجاب سے کچھ نہیں چاہیے ہمیں صرف عزت چاہیے نواز شریف نے کہا کہ وہ ہمیں عزت دیں گے لیکن سب نے دیکھا کہ میرے بچوں کے قاتلوں کے کہنے پر بے عزت کیا گیا انگریز دور سے آج تک ہم نے اپنی عزت کے لئے سر کٹوائے مگر سر نہیں جھکائے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ نواز شریف نے کبھی کسی کے ساتھ وفا نہیں کی نواز شریف میں وفا نہیں ہے جب مسلم لیگ(ن) کا صدر بنا اور کام 2013میں جیت ہم رہے تھے اور حکومت قوم پرستوں کی دی جارہی ہے جس پر لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ رائیونڈ گئے اور اس متعلق پوچھا تو نواز شریف نے کہا کہ میں جیت رہا ہوں پاگل ہوں جو انہیں حکومت دونگا لیکن بعد میں نواز شریف نے تیسرے نمبر پر آنے والی جماعت پر اپنے 22ارکان کو ترجیح دی اور وزیراعلیٰ بنایا حکومت کے قیام کے بعد ڈاکٹر مالک سے حکومت نہیں چلی اتحادیوں میں اختلاف ہوا اور ڈھائی سالہ معاہدہ کیا گیا اگر نواز شریف کا بس چلتا تو وہ اگلے ڈھائی سال کے معاہدے پر عملدآمد نہیں کرتے انہوں نے کہاکہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے 1988سے بے نظیر بھٹو شہید اور آصف علی زرداری کے ساتھ رہے ہیں وہ میرے مزاج کو جانتے ہیں ہمیں پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹوزرداری سے یہی توقع ہے کہ وہ ہمارے ساتھ وہ نہیں کریں گے جو نواز شریف نے ہمارے ساتھ کیا انہوں نے کہا کہ میں اور بلاول بھٹو زرداری شہداء کے وارث ہیں اسی لئے اس جماعت میں شامل ہوا ہیں آج سے ہم پیپلز پارٹی کا باقاعدہ حصہ ہیں ہمیں کچھ نہیں چاہیے ہم ایک ورکر کی حیثیت سے کام کریں گے اور مسلم لیگ(ن) کے لئے جتنا کام کیا اور قربانیاں دیں اس بڑھ کر کام کرونگا کیونکہ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو یہ میری شہید بہن، بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کی جماعت ہے جسے میں اپنا خون پسینہ ایک کر کے آگے لیکر جاؤنگا انہوں نے کہا کہ 2013میں نواز شریف کو بلوچستان سے 6نشستیں دی تھیں آئندہ عام انتخابات میں بھی قومی اسمبلی 6سے7سیٹیں جیتیں گے اور ہماری خواہش ہوگی کہ مستقبل کا وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری ہوں انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میرے والد نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کام کیا اور آج میں اپنے والد کی جماعت میں آگیا ہوں انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں تقریر میں کہا تھا کہ ہم ایک ہزار سال تک کشمیر کے لئے لڑیں گے ہم شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ کشمیر کے موقف سے پیچھیں نہیں ہٹیں گے پیپلز پارٹی شہداء کی جماعت ہے بلوچستان میں را فنڈڈ لوگوں نے جتنے بھی لوگوں کو شہید کیا ہے ان سب کو میں اپنا شہید بیٹا سکندر سمجھتا ہوں ہم ان شہداء کے وارث ہیں جو را فنڈڈ لوگ ہیں پہلے بھی انکا خاتمہ کیا ہے آج جہاں پر ہم کھڑے ہیں یہاں ایک زمانے میں یہاں لوگ نہیں آسکتے یہ علاقہ غزاء کی پٹی کہلاتی تھی یہ کریڈٹ مجھے جاتا ہے کہ آج ہم یہاں کھڑے اور جلسہ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا جو منشور ہے کشمیر سمیت تمام مسائل پر من و عن پارٹی کی ہدایت پر چلیں گے آج سے مجھ سمیت بلوچستان بھر سے شامل ہونے والے بلاول بھٹو کے جیالے ہیں آج سے بلوچستان پیپلز ستان ہے اور بلاول بھٹو کے ساتھ ہے بلوچستان کے کونے کونے میں جئیے بھٹو کے نعرہ لگے گا انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا مبارک ہو آپکو آج سے ثناء اللہ آپکا ہوا


