طالبان ہر کمرے میں مجھے ڈھونڈ رہے تھےاشرف غنی

5 اگست 2021 کو طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد ملک کو چھوڑ نے والے افغان صدر اشرف غنی نے قوم سے خطاب کیا ہے۔متحدہ عرب امارات نے آج اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اشرف غنی اور ان کے اہل خانہ امارات میں ہیں اور انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملک میں پناہ دی گئی ہے۔اشرف غنی کی امارات میں موجودگی کی تصدیق اب فیس بک پر اشرف غنی نے قوم سے خطاب کیا ہے۔ اشرف غنی کے آفیشل فیس بک پیج پر جاری ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ دشمن کابل آکر مجھےایک سے دوسرے کمرے میں تلاش کررہے تھے، مجبوری میں افغانستان سے گیا ہوں۔اشرف غنی نے مزید کہا کہ ہم سے پہلے بھی بہت سے لیڈر افغانستان سےگئے، پھر واپس آئے، چاہتاتھا کابل میں خونریزی نہ ہو، میری زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ کتاب ہے۔انہوں نے کہا کہ پر امید ہوں نا امیدی و مایوسی کی یہ راتیں جلد ختم ہوجائیں گی، افغانستان ایک بار پھر آزاد اور ترقی کی جانب گامزن ہوگا۔اشرف غنی کا کہنا تھاکہ میں پرامن طریقے سے طالبان کو اقتدار منتقل کرنا چاہتا تھا لیکن مجھے میری مرضی کے خلاف افغانستان سے نکالا گیا۔
ملک سے فرار کے معاملے پر سابق صدر کا کہنا تھاکہ طالبان کےساتھ حکومت سازی سے متعلق کام میں مصروف تھا کہ دوپہرکو اچانک میرےسکیورٹی اہلکار آئے اور مجھے وہاں سے نکالا، مجھے مجبوراً افغانستان سے نکالاگیا تاکہ خونریزی نہ ہوجائے۔ان کا کہنا تھاکہ میں اپنی عوام کے ساتھ ہوں، خون بہانہ نہیں چاہتا اور سب کو معلوم ہے میں عزت کے ساتھ مرنے سے نہیں ڈرتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں