غیر قانونی طور پر چمن بارڈرکے راستے سے داخل ہونے والوں کو گرفتارکیا جائے گا،ضیاء لانگو

کوئٹہ :صوبائی وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ اس وقت افغانستان میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے اشرف غنی کی حکومت گئی اور طالبان کی اقتدار وجود میں آئی ہے جس کے سنگین اثرات پاکستان کے بارڈرز پر پڑینگے 40سال پہلے کا دور ختم ہوگیا ہے کہ افغان مہاجرین چمن بارڈر کے راستے بغیر دستاویزات پاکستان آتے جاتے تھے اب جو بھی غیر قانونی طور پر چمن بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہوگا اس کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کیا جائے گا افغانستان کی سنگین صورتحال کے باعث پاکستانی حکام نے ملک میں آنے والے افراد کے خدشے کے پیش نظر پاک افغان بارڈر پر سیکورٹی کے انتظامات مزید سخت کردی گئی ہے ان خیالات کا اظہار میر ضیاء اللہ لانگو نے (وائس آف امریکہ)سے بات چیت کرتے ہوئے میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد چمن بارڈر پر لوگوں کی آمد ورفت جاری ہے پاکستانی حکام نے افغانستان میں بگڑتی ہوئی سنگین صورتحال کے باعث غیر قانونی طریقے سے پاکستان آنے والے افراد کے خدشے کے پیش نظر پاک افغان بارڈر پر سیکورٹی کے انتظامات مزید سخت کردیئے ہیں انہوں نے کہا کہ 40سال پہلے کا دور ختم ہوگیا ہے افغان مہاجرین ا س وقت پاک افغان سرحد چمن بارڈر کے راستے بغیر دستاویزات پاکستان آتے جاتے تھے اور اب ہم نے اپنے بلوچستان کے تمام بارڈر ایریاز پر بھاڑ لگادیئے ہیں اور بھاڑ کا کام آخری مراحل میں داخل ہوچکا ہے جس سے بلوچستان سمیت پاکستان میں دہشت گردی کی واقعات میں کمی آئی ہے اور سیکورٹی اداروں نے سکریننگ مشینیں بارڈر پر نصب کردیئے ہیں انہوں نے کہا کہ جو بھی غیر قانونی طور پر چمن کے راستے پاکستان میں داخل ہوگا اس کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائیگا اس وقت افغانستان میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے اشر ف غنی کی حکومت گئی اور طالبان کی حکومت وجود میں آئی ہے جس کے اثرات پاکستان پر پڑینگے انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں افغان مہاجرین پاکستان آئے اس کی وجہ سے بلوچستان سمیت ملک بھر میں کلاشنکوف کلچر میں اضافہ ہواہے اس وقت ہماری رپورٹ کے مطابق پاک افغان سرحد پر کاروبار کرنے والے 10سے 15ہزار افراد ہیں ان کے علاوہ کوئی رجسٹرڈ افغان مہاجر نہیں آیا بلوچستان کے اگر کوئی مریض افغانستان سے چمن بارڈر کے راستے پاکستان آتا ہے تو سیکورٹی فورسز اپنی تحویل میں لے کر انسانی بنیاد پر علاج ومعالجے کیلئے اسپتال بھجواتے ہیں اور سیکورٹی ادارے ان کے تمام دستاویزات لے کر اور ان پر کھڑی نگرانی کی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں