بیلہ، نرگ ہنجری تقسیم گاہ پر تعمیراتی کام میں من مانیاں

بیلہ:نرگ ہنجری تقسیم گاہ پر جاری اربوں روپے کے تعمیراتی کام میں من مانیاں جاری کروڑوں روپے آب برد عوامی پیسے ضاع ہونے سے بچائے جائیں نرگ ہنجری کے زمینداروں کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق پورالی بیسن پروجیکٹ نرگ ہنجری تقسیم گاہ پر 14 ارب کی خطیر رقم سے جاری کام آخری مراحل میں داخل ہے پورالی بیسن پرجیکیٹ میں ایگریکلچر لایواسٹاک اور فورسٹ بھی شامل ہے جن پر کام جاری ہونے والا ہے جبکہ نرگ ہنجری تقسیم گاہ پر جاری کام میں نرگ ہنجری کے زمینداروں نے اپنے خدشات ظاہر کرتے ہوئے آن لائن اور نیشنل پریس کلب بیلہ کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورالی بیسن پروجیکٹ کے ڈاریکٹر اپنی من مانیاں جاری رکھتے ہوئے اپنی منشا کے مطابق کام کررہے ہیں اور زمینداروں سے پوچھتا تک نہیں ہے زمینداروں نے کہا کہ نرگ ہنجری تقسیم گاہ پر فیضو والا ڈورہ اور بدوزی کی بند کی پیچینگ نہیں کی گی جس کی وجہ بند آب برد ہوگئی اور زمینداروں نے فیضو والا ڈھورہ اور بدوزی ڈھورہ سے چند گز آگے سپر لگانے کا پروجیکیٹ ڈاریکٹر سے مطالبہ کیا تھا لیکن زمینداروں کے مطالبے پر کوی عملدرآمد نہیں کیا جارہا سپر نہ لگانے سیسیلابی پانی ضاع ہورہا ہے اور نرگ ہنجری کو پانی کا حصہ نہیں مل رہا ہے اور فیضو والا ڈھورہ کا تعمیر کیا گیا بند جو آپ برد ہوگیا جس سے کروڑوں روپے ضاع کردیے گئے ہیں نرگ ہنجری کے زمینداروں نے وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان عالیانی چیف سیکریٹری بلوچستان سے مطالبہ کیا ہے عوامی پیسہ ضاع کرنے کی تحقیق کی جائے اور پورالی بیسن پروجیکیٹ کے ڈاریکٹر کے خلاف قانونی کاروای عمل میں لا کر اور زمینداروں کی امنگوں کے مطابق کام کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں