اعتماد کی بحالی اولین ضرورت ہے

اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اس بنیادی مغالطے کو دور کیا جانا چاہیئے جودونوں کے درمیان دوری اور فاصلے کم کرنے میں ممد و مددگار ثابت ہو۔دہائیاں گزر جائیں اورفاصلے برقرار رہیں تو تشویش لاحق ہونا فطری امر ہے۔مقتدرہ کو اس بارے یقینا فکر ہوگی مگر یوں لگتا ہے کہ وہ کسی وجہ سے مطمئن ہے اور سمجھ رہی ہے کہ رنے کی بات نہیں یہ مخاصمت دھیرے دھیرے خود ہی کمزور ہوتے ہوئے تحلیل ہو جائے گی، تشویشناک صورت حال اختیار نہیں کرے گی۔لیکن تاریخ کا بغور مطالعہ کرنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ رنجشیں کبھی بھی از خود کم نہیں ہوا کرتیں،انہیں دور نہ کیا جائے تو بتدریج بڑھتی چلی جاتی ہیں جیسے تما م زخم ایک جیسے نہیں ہوتے۔بعض اوقات سطح پر زخم کی علامات مٹ جاتی ہیں مگر سطح کے نیچے زخم موجود رہتا ہے۔اپنے گرد ایک ایسا دفاعی حصار قائم کرلیتاہے جسے پار کرکے دوا کے لئے زخم تک پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔میڈیکل سائنس ایسی بیماری کو کینسر کہتی ہے اور جب اس کی تشخیص ہوتی ہے تب تک اتنا توانا ہو چکا ہوتاہے کہ قابل علاج نہیں رہتا، ڈاکٹر لواحقین کو دعاکا مشورہ دینے لگتے ہیں۔ایسے مناظر معاشروں میں بھی دیکھے جاتے ہیں۔معاشرے کے مختلف حصوں میں پرورش پانے والی رنجشوں کا بروقت ادراک نہ کیا جائے،یا وقتی طور پر تدارک کی کوشش کی جائے، دیرپا اور مستقل حل سے گریز کیا جائے تو عدم اعتماد کوفروغ ملتا ہے،دل و دماغ میں جگہ بنالے تو اس کی جڑیں گہری اور تواناہو جاتی ہیں،دور کرنا ممکن نہیں رہتا۔دانا کہتے ہیں اعتماد کودھچکانہیں لگناچاہیئے، یہ شیشے کی طرح نازک ہوتاہے ایک بار اس میں بال آجائے تو کبھی دور نہیں ہوتا۔ غور سے دیکھاجائے تو پاکستان کا سب سے بڑا اوردیرینہ مسئلہ بد اعتمادی ہے۔اسے دور کیا جائے۔دور کرنے کاایک ہی طریقہ ہے؛جو وعدہ کیا جائے اسے پورا کیا جائے۔اس حقیقت کو تسلیم کیاجانا چاہیئے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔قانون سازی کا عمل گزشتہ تین سال سے سست روی کا شکار ہے۔ قومی اسمبلی میں منظور ہوجائے تو سینیٹ میں ر ک جاتا ہے، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کی نوبت آجاتی ہے۔انتخابات میں دھاندلی کی شکایت ملک کی تمام سیاسی جماعتیں کرتی رہی ہیں۔ عوام نے سیاسی رہنماؤں کو انتخابی نتائج کے جاری ہوتے انہیں دھاندلی زدہ کہتے سنا ہے۔دھاندلی کے لئے ”چمک“، انجنیئرڈ“،”آر او زدہ“جیسی اصطلاحیں استعمال کی جاتی رہیں۔اپوزیشن آج کل ”سلیکٹڈ“کہہ کر حکومت کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتی ہے۔وفاق نے دھاندلی روکنے کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین(ای وی ایم) تیار کر لی ہے۔مگر اپوزیشن کو اعتماد نہیں کہ یہ مشین کہیں اور جگہسے کی جانے والی دھاندلی کو روک سکے گی بلکہ اپوزیشن پورے وثوق سے دعوی کرتی ہے کہ یہ مشین صرف اور صرف دھاندلی کے لئے بنائی گئی ہے۔الیکشن کمیشن نے بھی اس مشین پر 37اعتراضات لگائے ہیں۔دیکھتے ہیں حکومت انہیں دور کرنے میں کتنا وقت لے گی؟اس میں شک نہیں کہ صاف، شفاف،آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا نعقاد الیکشن کمیشن کی بنیادی اور آئینی ذمہ داری ہے۔مگر 74 سالہ تاریخ میں صرف ایک بار کرائے گئے انتخابات کو شفاف کہا جاتا ہے لیکن ان نتائج کو بد قسمتی سے تسلیم نہیں کیا گیا اور ملک دو لخت ہوگیا۔اتنے بڑے سانحے کے بعد انتخابات کے غیرشفاف انعقاد کو روایت کا درجہ حاصل ہو گیا۔ دھاندلی کی ہر قسم اور ہر طریقہ آزمایاگیا۔ایک ووٹر کی جانب سے 70 بار ووٹ ڈالنے کی نشاندہی ہوئی، اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔الیکشن کمیشن کی جانب سے ریکارڈ نہیں پیش کیا گیا عدالت میں ریکارڈ کے بوروں سے ردی اخبارات نکلے، قانون حرکت میں نہیں آیا۔وفاقی وزیرداخلہ نے ہرانتخابی حلقے میں 40،50ہزار جعلی ووٹ ڈالے جانے کا اقرار کیا۔مگرقانون نے اپنی آنکھیں اور کان بندرکھے۔قومی اسمبلی کا ریکارڈ دھاندلی کمیشن کافیصلہ بدترین دھاندلی کا ثبوت ہے۔مذکورہ شواہد سے بھرپور واقفیت کے باوجود دھاندلی ختم کرنے کے اراکین پارلیمنٹ بالخصوص اپوزیشن دھاندلی کے سدباب کے لئے تجاویز پیش نہیں کر رہی، صرف خدشات کااظہار کیا جاتا ہے۔ عام آدمی دھاندلی زدہ انتخابات کو عوام دشمنی اور غیر آئینی رویہ سمجھتا ہے۔اس کی خواہش ہے کہ وہی امیدوار پارلیمنٹ میں جائے جسے عوام ووٹ دیں۔اپوزیشن کے پاس اچھا موقع ہے، اسے ضائع نہ کرے۔ انتخابات کو صاف، شفاف، آزادانہ اور منصفانہ بنانے کے لئے ضروری قانون سازی میں دلچسپی لے۔ لفظوں کی دیوار کے پیچھے چھپنے سے اس کی نیک نامی کو نقصان پہنچے گا۔اپوزیشن کو کسی عام آدمی کے مقابلے میں زیادہ علم ہونا چاہیئے کہ آج مشکل ترین حالت سے گزر رہی ہے۔اسے عوام کی حمایت ماضی سے زیادہ درکارہے۔مستقبل میں قانون شکنی آسان نہیں ہوگی۔جدید ٹیکنالوجی عملی زندگی کا تیزی سے حصہ بنتی جا رہی ہے۔حکومت کے پاس قانون سازی کے لئے دو سال ہیں۔اس مدت کے دوران مطلوبہ قانون سازی ہو سکتی ہے،ہو جائے گی۔اپوزیشن اپنے خدشات دور کرنے کے لئے قانون سازی میں حصہ لے۔ دوسرا کوئی راستہ نہیں۔اور معاشرے میں پائی جانے والی بداعتمادیکا ازالہ بھی ایک ایسی پارلیمنٹ کر سکتی ہے جس کیاراکین میں ایسا کوئی رکن شامل نہ ہو، جو ایوان میں کھڑے ہوکر با آوازِ بلند کہے:
”مجھے چیئرمین سینیٹ پر اعتماد نہیں“
مگر خفیہ رائے شماری میں ایوان کے معزز فلور پر چند منٹ قبل کئے گئے زبانی اقرار کے برعکس رویہ اختیار کرے۔ ایسے اراکین سے مستقل بنیادوں پر نجات حاصل کرنے کا طریقہ ایک ہے، اسی کو اختیار کیا جائے اور وہ طریقہ دھاندلی کامکمل خاتمہ ہے۔اگرالیکٹرانک مشین ساری دنیا کے بینک اکاؤنٹس میں دھاندلی کو روکے ہوئے ہے۔تمام ایم این ایز، ایم پی ایز اپنی دولت بینک میں رکھتے ہیں،کاروبار بینک کے ذریعے کرتے ہیں۔ایسا کرتے وقت انہیں کسی دھاندلی کا خدشہ نہیں ہوتا، تو وہ صاف الفاظ کہیں کہ ان کے اصل خدشات کیا ہیں۔مفروضات سے کام نہیں چلے گا۔یہ نہیں مانا جائے گا کہ ان کے حلقے میں صرف اسی وقت دھاندلی ہوتی ہے، جب وہ خودہارتے ہیں، جیت جائیں تومٹھائی تقسیم کرتے ہیں۔ان کے خیال میں الیکشن صاف،شفاف، آزادانہ اور منصفانہ قرار دیئے جاتے ہیں۔اس تناطر میں یہی مناسب ہے کہ انتخابی عمل میں مشین کے استعمال سے خوف زدہ نہ ہوں،مشین میں پائی جانے والی خامیاں دور کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں