حکومت نے علم کے حصول کو شجر ممنوعہ قرار دیاہے، نیشنل پارٹی

کوئٹہ :نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان نے جاری بیان میں طلبا پر بدترین تشدد لاٹھی چارج گرفتاری اور مقدمات کو تعلیم دشمن سرکار و حکومت کی سفاکیت درندگی اور بربریت کی انتہا قرار دیتے ہوئے شدید الفاظ میں مذمت کی۔بی ایس او پجار کے چیرمین زبیر بلوچ سمیت 75 کے قریب طلبا کو گرفتار کرکے حکومت نے علم کے حصول کو شجر ممنوعہ قرار دیا گیا۔مستقبل کے معماروں کو ڈنڈوں سے شدید تشدد کا نشانہ بنانا حکومت کی سیاسی اخلاقی پستی کو اجاگر کررہی پے۔جب پولیس گردی سے طلبا محفوظ نہیں تو عام شہری تو دور کی بات ہے۔بیان میں کہا گیا کہ طلبا کا بی ایم سی انٹری ٹیسٹ میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنا آئینی و قانونی حق ہے۔حکومت کو چائیے تھا کہ اپنے صوبے کے طلبا کی حمایت کرتے ہوئے انٹری ٹیسٹ میں پی ایم سی کی جانب سے بے ضابطگیو ں اور غلطیوں کے خلاف آواز اٹھاتا۔اور طلبا کے مستقبل جو درحقیقت بلوچستان کا مستقبل اس کو محفوظ بناتا ہے لیکن عوام مخالف حکومت کی ترجیحات بلوچستان ہی نہیں۔بیان میں کہا گیا کہ طلبا پر تشدد کرنے کا اقدام پہلا واقع نہیں اس پہلے بھی طلبا استاتذہ اور دیگر پر تشدد اور گرفتاریوں کو عمل میں لیا گیا ہے۔جام حکومت بضد ہے کہ وہ بلوچستان میں گورننس نہیں بلکہ تشدد اور مارڈار کی گورننس کرنا چاہتے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان حکومت ہر عمل سے بے خبر رہتا ہے اور اس کا نوٹس لیتا ہے پولیس گردی کا مظاہرہ ہوتا ہے اور اسکے بعد بیان اجاتا ہے کہ پولیس نے از خود تشدد کیا ہے۔درحقیقت مسلط شدہ نمائندوں و حکومت کو اختیار حاصل نہیں کہ وہ حکومت کرسکے۔بیان میں کہا گیا کہ نیشنل پارٹی طلبا کے ساتھ ہے اور ان کی تحریک کو آگے بڑھانے میں جمہوری کردار ادا کریگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں