منصب سنبھالتے ہی کرسی بے وفانظر آنے لگی
بلوچستان کے نو منتخب وزیر اعلیٰ میرعبدالقدوس بزنجونے اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پندرہ دن میں اپنی پالیسی ایوان میں پیش کریں گے۔جس کے چیدہ چیدہ نکات بیان کردیئے۔کوئٹہ میں فوری طور پر صفائی مہم شروع کرنا، دسمبر تک تمام خالی اسامیاں پر کرنا، صحت اور تعلیم کے انڈو منٹ میں دو ارب روپے کا اضافہ شامل ہے۔انہوں نے صوبے کی تقدیر بدلنے کے عزم کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کرنے اور نئے منصوبے لانے کا اعلان بھی کیا۔انہوں نے صوبے کے وسائل کی کمی کا اعتراف کرتے ہوئیان سے عوام کی اتنی خدمت نہیں کی جاسکتی جتنا ان کا حق ہے۔صوبے کے بارڈرکے مسائل پر اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کا عندیہ دیا۔انہوں نے آئی جی پولیس کوہدایت کی ہے کہ ان کی آمدورفت کے دوران شہر کی شاہراہیں بند نہ کی جائیں۔انہوں وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباددینے والوں سے کہاہے کہ آج وصول نہیں کریں گے،بلکہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے اور کامیابی کا نتیجہ آنے کے بعد مبارکباد وصول کروں گا۔انہوں نے ماضی میں کام نہ ہونے کی وجہ بیوروکریسی کی جانب سے تعاون نہ ہونا قرار دیاہے۔اس کا حل انہوں نے یہ بتایا کہ آئندہ عوام اور بیوروکریسی کی مدداور تعاون سے یہ خامی دور کر دی جائے گی۔اس موقع پر انہوں نے یہ مشکل اور حیران کن اعلان بھی کیا ہے کہ ان کے دور میں ہر حلقے کا رکن اسمبلی اپنے حلقے کاوزیرِ اعلیٰ ہوگا۔میر دوسرے صوبوں اور وفاق سے تعاون کی اپیل کریں گے۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے مسائل اور مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے فنڈز فراہم کئے جائیں۔ ترقیاتی بجٹ 200ارب روپے ہے مرکز کے تعاون کے بغیر مکمل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بڑی فراخدلی سے اس تلخ حقیقت کا اظہار کیا کہ بی اے پی اسٹریٹ پارٹی نہیں ہے۔یہ مختصر سا جملہ وسیع معانی سمیٹے ہوئے ہے۔سیانے اس اختصاری رویئے کو دریا کوزے میں بند کرنا کہتے ہیں۔مورخ ”اسٹریٹ پارٹی“جیسی اصطلاح کی تشریح ضخیم کتابوں میں کریں گے۔واضح رہے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد افتتاحی خطاب میں اپنی پارٹی کے بارے میں یہ انکشاف آسان کام نہیں۔عام آدمی کو بھی وزیراعلیٰ نے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ صوبے کی دیکھ بھال بھی اسی انداز میں کی جانی چاہیئے جیسے اپنے گھر کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ انہوں نے ٹریفک میں روانی برقرار رکھنے کے لئے آئی جی کو تمام غیر ضروری چیک پوسٹ ختم کرنے کی ہدایت بھی کی۔یاد رہے اگرعوام کے سامنے سچ بولا جائے اور ان سے حقائق نہ چھپائے جائیں تو عوام بھی بلا وجہ ناراضگی کا اظہار نہیں کریں گے۔چھوٹی موٹی رنجشیں نظر انداز کی جائیں معاملہ چند افراد تک محدود ہوتا ہے لیکن اجتماعی تکالیف سے آنکھیں بند رکھنا نقصان دہ اور غیر دانشمندانہ رویہ ہے۔جو معاشرے اجتماعی مفادات سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں ان کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ماضی کے مزار بن جاتے ہیں۔نو منتخب وزیر اعلیٰ ترقیاتی فنڈز کا مطالبہ کرنے اسلام آبادجائیں تواپنے ساتھ صوبائی بیوروکریٹس سے قابل عمل اور منفعت بخش منصوبوں کی تازہ فیزیبلٹی رپورٹس بھی ساتھ لے کر جائیں۔ خالی ہاتھ نہ جائیں ورنہ خالی ہاتھ واپس آنا پڑے گا۔بیوروکریٹس کو بہانوں کا موقع نہ دیں۔اپنا ہوم ورک مکمل کرنا ضروری سمجھیں۔بیوروکریٹس اگر میرٹ پر بھرتی ہوئے ہیں تو وہ یقینا پڑھت لکھے اور قوانین سے واقف ہوں گے۔ ان سے وہی وزیر اعلیٰ اپنا مطالبہ منوا سکتا ہے جو باخبر ہو، منصوبے کی تمام باریکیوں سے واقف ہو۔ہر سوال کا جواب دے کر انہیں مطمئن کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔یاد رہے سارے بیوروکریٹ راشی اور مفاد پرست نہیں، وہ بھی ایک بیوروکریٹ تھا جس نے سمندری حدودکا مقدمہ جیتا اور آج ہماری سمندری حدود 200کی بجائے500ناٹیکل میل ہے۔یہ اعزاز اسی بیوروکریٹ کو جاتا ہے جس کی بدولت پاکستان یہ مقدمہ پہلے جیتا تھا جبکہ روس نے اسی نوعیت کا مقدمہ بعد میں جیتا تھا۔جان لیں نامکمل فائل لے کر جائیں گے تو بغیر منظوری واپس آئیں گے۔ایف اے ٹی ایف کی تلوار پاکستان کے سر پر لٹک رہی ہے، کوئی بیوروکریٹ اپنی گردن میں پھندا دیکھنا پسند نہیں کرتا۔زیادہ پرانی بات نہیں،ایک صوبائی سیکرٹری خزانہ قانونی تقاضے پورے کئے بغیرصوبائی وزیر خزانہ کی خوشنودی کے لئے فائل پر دستخط کرنے کی پاداش میں جیل جا چکا ہے۔ دوسرے چوکنا ہوگئے ہیں۔ وفاقی سیکرٹری بلوچستان کی ادھوری فائل کیسے منظور کرے گا؟ایک اہم مشورہ وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس نے ایوان میں بیٹھے معزز اراکین کو دیا ہے کہ اپنے بچے ”سرکاری اسکولوں میں داخل کرائیں جہاں غریب کے بچے پڑھتے ہیں“۔مشورہ اچھا ہے، مفید ہے، اور دور رس نتائج کا حامل ہے۔لیکن یہ مشورہ قبل از وقت ہے۔ابھی بلوچستان میں جمہوریت نے برطانیہ جتنا فاصلہ طے نہیں کیا۔ ایسا کام برطانیہ میں ممکن ہے، بلوچستان میں سرکاری اسکولوں کی حالت برطانوی اسکولوں جیسی نہیں۔یہاں کثیر تعداد میں اساتذہ اسکول جانا پسند نہیں کرتے، صرف تنخواہ وصول کرتے ہیں۔گھوسٹ اسکولوں کی موجودگی سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔اساتذہ کی قابلیت کا یہ عالم ہے کہ وہ قابلیت کے کسی ٹیسٹ میں بیٹھنے کو تیار نہیں۔ان کی ایسوسی ایشنز ہڑتال کی کال دینے میں تاخیر نہیں کرتیں۔سرکاری اسکولوں میں معیار تعلیم ناقابل یقین حد تک پست ہے۔اسے بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ مایوسی کی بات نہیں، مگر ابھی وہ منزل دور ہے جب ایم پی ایز اپنے بچوں کوسرکاری اسکولوں میں پڑھانے پر فخر کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں خود ہی کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں مستقل مزاجی کا فقدان ہے، جن چیزوں کو بہتر کیا گیا وہ بھی مستقل مزاجی نہ ہونے کی وجہ سے پہلے جیسی ہو گئیں۔مسائل جوں کے توں ہیں۔انہوں نے درست نشاندہی کی ہے کہ گوادر کے مسائل ایک سے زائد ہیں۔، سمندر میں غیر ملکی ٹرالر مچھلیاں پکڑتے نظر آتے ہیں، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیئے۔مقامی ماہی گیروں کے مسائل حل کرنے کے لئے اقدامات کا انہوں نے وعدہ کیا ہے۔توقع کی جانی چاہیے یہ وعدہ پورا کیا جائے گا۔ٹرالر مافیا کے خلاف بھرپور لڑائی لڑنا ہوگی،زبانی مطالبات بے نتیجہ رہیں گے۔سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک اس راز سے واقف ہیں۔ان کی معلومات سے استفادہ کیا جائے۔ البتہ وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی اس رائے سے اختلاف کی گنجائش نہیں کہ وزیر اعلیٰ کی کرسی بہت بے وفا ہے، کسی کی نہیں ہوتی۔ کابینہ کا ہر وزیریہ جملہ جلی حروف میں لکھوائے، فریم کرائے اور اپنے دفتر اور گھر کی دیوار پرآویزاں کر لے۔جب موقع ملے پڑھ لیا کرے، اس عمل سے شایداس کی کارکردگی بہتر ہوجائے!


