ڈاکٹر صبیحہ کے بھائی اور کزن کی جبری گمشدگی طلباء سیاست پر قدغن لگانے کے مترادف ہے، آصف بلوچ
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری آصف بلوچ نے کوئٹہ میں تنظیم کے چیئرپرسن ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے بھائی اور کزن کی جبری گمشدگی کے خلاف بلوچستان کے طلباء تنظیموں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شاہ میر بلوچ کو چار مہینے کا عرصہ بیت چکا ہے مگر انہیں اب تک بازیاب نہیں کیا گیا ہے جبکہ شاہ میر کی بازیابی کے بجائے تنظیم کے چیئرپرسن ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے کزن مرتضی بلوچ کو بھی لاپتہ کرکے تنظیم کے چیئرپرسن پر مزید دباؤ بڑھا رہے ہیں۔ آصف بلوچ نے صبیحہ کے بھائی اور کزن کی جبری گمشدگی کو بلوچستان میں سیاست پر قدغن لگانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ صبیحہ کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنانا اور انہیں سیاست سے دور رکھنے کیلئے اس طرح کے اقدامات کا بنیادی مقصد بلوچ طلباء کو سیاست سے دور رکھنے کی کوشش ہے اگر آج صبیحہ ہے اس کے نشانے پر ہے تو کل کوایسا وقت کسی اور تنظیم اور اس کے چیئرمین پر آ سکتا ہےاس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ آج بلوچستان کی سب تنظیمیں متحد ہوکر تنظیم کے چیئرپرسن کے خلاف اس سازشوں میں تنظیم کے جدوجہد کا حصہ بنیں، آصف بلوچ نے کہا کہ اگر صبیحہ بلوچ کے بھائی اور کزن کو رہا نہیں کیا گیا تو ہمارا احتجاج صرف ریلی تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ریلی دھرنے کی شکل اختیار کر سکتی ہے جبکہ ہم بھوک ہڑتال کی جانب بھی جا سکتے ہیں ۔ انہوں نے بلوچستا ن سے باہر تعلیمی اداروں میں موجود کونسلز سے بھی درخواست کی کہ وہ ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کرکے سیاسی جدوجہد کا آغاز کریں۔ آصف بلوچ نے کہا کہ صبیحہ بلوچ بلوچستان میں طلباء سیاست کے مرکزی کردار ہیں انہوں نے ہر وقت طالب علموں کے مسائل پر سنجیدگی سے جدوجہد کی ہے جس کے بنا پر آج انہیں اس اذیت میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔


