بانک کریمہ کی پہلی برسی کے موقع پر شال میں پروگرام منعقد کیا جائے گا, بلوچ وومن فورم

بلوچ وومن فورم کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان کہا کہ خواتین کسی بھی سماج کے اہم جزو ہیں ۔جو سماج کے اندر ہونے والے اہم تبدیلیوں میں باصلاحیت کردار ادا کر سکتی ہیں مگر نوآبادیاتی سماج میں خواتین سمیت دوسرے طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیےتعمیرِ معاشرے میں تخلیقی کردار ادا کرنے میں رکاوٹ کھڑے کیے جاتے ہیں۔
بلوچستان میں سترسالوں سے بلوچ خواتین کو دانستہ طور پر ہر شعبہ جات میں نہ صرف پیچھے رکھنے کی کوشش کی گئی ہے مختلف ہتھکنڑوں کے ساتھ قبائلی نظام اور مذہبی انتہاپسندی کے نام پر انہیں پسماندہ رکھنے کی بھر پور کوشش کی گئی۔مگر انہی مشکل حالات میں بلوچ سرزمیں نے کریمہ بلوچ جیسی شیرزال بیٹی کو جنم دیا جس نے بلوچ خواتین کو معاشرے میں آگے آنے میں ہمت ، جذبہ اور اپنا قومی و معاشرتی زمہ داریاں نبھانے کا حوصلہ دیا۔
ترجمان نے مزید واضح کیا کہ بانک کریمہ ایک باہمت خاتون تھی جنہوں نے تمام مشکلوں اور دشواریوں کے باوجود ایک ایسے علاقے میں اپنے قدم باہر نکالے جہاں عورتوں کا گھر سے باہر نکل کر سماج کے اندر متحرک کردار ادا کرنے کو معیوب سمجھا جاتا تھا۔جہاں زندگی کا ہر شعبہ جات خصوصًا سیاست میں خواتیں کا شرکت ایک انوکھا چیز خیال کیا جاتا تھا۔ مگر بانک نے بہادری سے نہ صرف سیاست میں ایک خاص مقام بنا کر قومی اور انسانی زمہ داریاں نبھائے بلکہ اپنی قابلیت اور صلاحیت کے اعتبار سے سخت حالات میں طلبہ سیاست کی قیادت کی۔
بلوچ وومن فورم کے ترجمان نے مزید کہا بانک کریمہ کے سیاسی جدوجہد نے بلوچ خواتین کو اپنا قومی فریضہ ادا کرنے کا شعور عطا کیا۔ آج بلوچ سماج میں جو خواتین سیاست یا سماجی کارکن کی حیثیت سے با صلاحیت کردار ادا کر رہی ہیں وہ بانک کریمہ کے سیاسی کردار کی مرہون منت ہیں۔
بلوچ وومن فورم کے ترجمان نے جاری کردہ بیان کے آخر میں کہا کہ بانک کریمہ کا کردار بلوچ خواتین کے لیے مشعل راہ ہے جن کی جدوجہد کو بلوچ سماج کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ بلوچ وومن فورم انکی پہلی برسی پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کوئٹہ میں پروگرام منعقد کریگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں