قرض کوئی بھی دے، سود پر دے گا
عام آدمی بچپن سے یہ دعا مانگتا ہے:”یا اَللہ!مجھے صرف اپنا محتاج رکھنا، کسی دوسرے کا محتاج نہ ہونے دینا!“۔۔۔۔قرض کو اَللہ کی طرف سے اپنے اعمال کی سزا سمجھتا ہے، اس کی حتی الامکان کوشش ہوتی ہے کہ اَللہ کے سوا کسی دوسرے کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے۔مگر ہمارے ماہرین معیشت پی ٹی آئی کی حکومت کو روزِ اول سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں: ”آئی ایم سے قرضہ لینے میں تاخیر کیوں کی؟“، لگاتار سوال پوچھے جانے پر وزیر اعظم عمران خان نے بھی تسلیم کر لیا کہ تاخیر کرنا ان کی غلطی تھی، اور انہیں پہلے دن ہی آئی ایم ایف کے پاس جانا چاہیئے تھا۔موجودہ حکومت سے پہلے پی پی پی کی حکومت آئی ایم ایف سے9بار قرض لے چکی تھی۔مسلم لیگ نون کی حکومت بھی 4بار آئی ایم ایف سے قرضہ لینے جا چکی تھی۔8بار دوسری حکومتوں نے آئی ایم سے قرضہ لیا تھا۔پی ٹی آئی کی حکومت نے 22ویں بار آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو ایسی بدحال معیشت ورثے میں کیوں ملی؟کہ چند مہینوں کی تاخیر بھی اس کی بھیانک غلطی ٹھہری!یہ حقیقت فراموش نہ کی جائے کہ عام آدمی کو مہنگائی کے عذاب سے قیام پاکستان سے آج تک،74برسوں میں کبھی مہنگائی سے نجات نہیں ملی، 60کی دہائی میں غربت کا یہ عالم تھا کہ عام آدمی 13 روپے من آٹا بمشکل خریدتاتھا،امریکہ سے بھیجی گئی امدادی مکئی(پیلے رنگ کی، پھپوند لگی) مکئی ٹھیلوں سے خرید کرکھانے پر مجبور تھا۔چینی ڈیڑھ روپے سے بڑھا کر پونے دو روپے فی کلو کی گئی تو عوام کی چیخیں نکل گئی تھیں۔ عام آدمی سڑکوں پر نکل آیا تھا۔امریکہ سے بھیجا گیا خشک دودھ اور ڈالڈا گھی پرائمری اسکول کے بچوں کو مفت فراہم کیا جاتا تھا تاکہ ان کی غذائی کمی دور ہو سکے۔دیہاتوں میں بھی صورت حال اس سے ملتی جلتی تھی۔ لوگ 13روپے من گندم نہیں خرید سکتے تھے، 11روپے والی مکئی پر گذارا کرتے تھے۔ صنعتی مزدور کی تنخواہ ایوب خان کے بعد آنے والے جنرل یحییٰ خان کے دور میں 140روپے ماہانہ مقرر کی گئی تھی۔یاد رہے ان دنوں پولیس کانسٹبل کی تنخواہ ان دنوں میں 125 روپے تھی۔بھٹو دور میں اپوزیشن نعرے لگاتی تھی کہ ایوب خان نے تربیلا بند بنایا،منگلا بند بنایا۔ جبکہ اس کے دور میں آٹا بند، اور چینی بند ہو گئی۔آج صوبہ سندھ میں پی پی پی کی حکومت نے صنعتی مزدوروں کی کم سے کم تنخواہ 25ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے۔مہنگائی کی پیمائش قوت خرید کے تناسب سے کی جانی چاہیئے۔ امریکہ میں کم از کم تنخواہ 2ہزار ڈالر ماہانہ ہے تو وہاں بریڈ ڈیڑھ ڈالر میں ملتی ہے۔اس حساب سے پاکستان میں بریڈ کی قیمت کرنسی ریٹ(170روپے فی ڈالر) دیکھتے ہوئے 255روپے ہونی چاہیئے، مگر اس سے آدھے ریٹ سے بھی کم پر دستیاب ہے۔}واضح رہے یہ قیمت ڈبل روٹی کی ہے، تندوری روٹی کی نہیں {۔ اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ امریکہ میں آج اگر کوئی شخص2ہزار ڈالر ماہانہ کماتا ہے تو اس کے ماہانہ اخراجات بھی ڈالر میں لکھے اور مانے جائیں۔ وہاں رشوت نہیں دینی پڑتی، جرم کی سزا کاٹنی پڑتی ہے۔جعلسازی کوئی بھی کرے اسے جعلساز کہا جاتا ہے۔مہذب ملکوں میں کوئی مجرم ”مجھے کیوں نکالا؟“کے نعرے نہیں لگاتا۔ججز بھی وزیر اعلیٰ کے فون سن کر اس کی فرمائش کے مطابق فیصلے نہیں کرتے۔مسائل وہاں بھی ہیں۔ گورا پولیس افسر سیاہ فام ملزم کی گردن پر گھٹنا رکھ کر اسے سب کے سامنے قتل کر دیتا ہے، مگر سزا سنائی جاتی ہے، ماڈل ٹاؤن پولیس اہلکاروں اور افسران کی طرح ترقی نہیں دی جاتی۔پاکستان میں خرابیاں بکثرت ہیں، اس لئے کہ حکمرانوں نے اپنی پسند کی پرورش کی ہے۔آج ان خرابیوں کے نتائج سامنے آرہے ہیں،پکڑ دھکڑ ہورہی ہے، جرائم پیشہ افراد کے جتھے سکڑ گئے ہیں۔کل جن سیاسی پارٹیوں نے نالوں،پارکوں، اسکولوں، ااسپتالوں، اور ریلوے کی زمین پر قبضہ کیا، غیر قانونی دستاویزات جاری کیں، آج اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کو تسلیم کرنے اور نادم ہونے کی بجائے پریس کانفرنسز میں اپنی معصومیت کے دعوے کر رہے ہیں۔ سوسائٹی کبھی بھی طے شدہ پلان کے بغیر شہریوں کو پلاٹ نہیں بیچتی۔نالوں اورسڑکوں کی چوڑائی کا پہلے ہی ذکر درج ہوتا ہے۔اپنی مرضی سے کوئی بلڈر یا افسر اس طے شدہ پیمائش کوتبدیل نہیں کر سکتا۔خریدار بھی اتنے بیوقوف نہیں ہوتے کہ زمینی حقائق کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ رہے ہوں۔ ”چائنا کٹنگ“ کون سی قانونی کتاب میں لکھی ہے۔صوبائی دار الحکومت کراچی”چائنا کٹنگ“ کہہ کر تہس نہس کر دیا گیا۔اس لاقانونیت کا خمیازہ کراچی والے آج بھگت رہے ہیں۔بارشوں کے دنوں میں سیلابی ریلے میں کراچی والے ڈوب کر مرتے ہیں۔اب اگر اصلاحی اقدامات کئے جارہے ہیں تو مجرموں کو بچانے کی کوشش نہ کی جائے۔آئندہ نسلوں پر ترس اور رحم کی ضرورت ہے۔انہیں لا قانونیت کی گہری کھائی میں نہ دھکیلا جائے۔قانون کی حکمرانی کا راستہ نہ روکا جائے۔ کوئی ذی ہوش انسان لاقانونیت کی حمایت نہیں کرسکتا۔ شریف آدمی کے لئے اپنی جان، مال اور آبرو بچانی مشکل ہو جاتی ہے۔سندھ میں ایک بہادر بیٹی نے اپنے والد اوردیگر رشتہ داروں کے قاتل کی گرفتاری کے لئے تاریخی جدجہد کی۔صحافیوں کے بااثر قاتل قانون سے بالا تر ہیں۔بلوچستان میں ٹریفک سارجنٹ کو اپنی تیز رفتارگاڑی کی ٹکر سے قتل کرنے والا بااثر شخص قانون کی بھول بھلیوں سے با آسانی نکل گیا۔پنجاب میں ایک بااثر خاندان قتل کی بھیانک واردات کی سزا سے بچنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے۔ لاقانونیت کی سرکوبی نہ کی گئی تو پاکستان اسی طرح قرضوں کے حصول کے لئے کبھی آئی ایم ایف اور کبھی سعودی عرب کے سامنے سوالی بن کر کھڑا نظرآئے گا۔یاد رہے قرض کوئی بھی دے،کڑی شرائط لکھوانا نہیں بھولتا۔سعودی عرب کی شرائط بھی آئی ایم ایف جیسی بلکہ اس سے بھی زیادہ
سخت ہیں۔ آئی ایم ایف نے 72گھنٹوں میں اربوں ڈالر واپس لینے کی شرط عائد نہیں کی، اطلاعات کے مطابق سعودی معاہدے میں درج ہے۔شرح سود بھی آئی ایم ایف سے زیادہ ہے۔ اسلامی بھائی چارا اور سود لینا حرام ہے والی آیات مالیاتی معاہدے کرتے وقت یاد نہیں رہتیں۔آئی ایم ایف سے معاہدہ کئے بغیر کوئی ملک ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت کوئی ملک قرض نہیں دے سکتا۔پاکستان جیسے ملک کے لئے ایسی شرائط کا عائد کیا جانا ہمیشہ نفع بخش ہوتا ہے مگر کرپٹ حکومتیں اپنی چوری چھپانے کے لئے تمام حدود پار کر لیتی ہیں۔ پی پی پی اور مسلم لیگ نون کی حکومتیں ختم ہوتے ہی پاکستان کے ستر پوشی ناممکن ہو گئی تھی۔عام آدمی اپنے کچن سے معاشیات سیکھتا ہے۔وہ مائیکرو(micro) اور میکرو(macro)جیسی غیرملکی اصطلاحو ں کے بغیر ہی جانتا ہے غیر ملکی قرضے کس نے کھائے ہیں؟19کروڑ پونڈ کی جائیداد لندن میں کس نے؟کس سے؟ کب؟اور کیوں خریدی تھی؟ اور پاکستان میں ان اطلاعات کو خفیہ رکھنے کا معاہدہ موجودہ وزیر اعظم کے کس صادق اور امین مشیر نے کیا تھا؟


