عبدالصمد خان کی برسی آج منائی جائیگی
کو ئٹہ:پشتونخوا وطن اور برصغیر پاک وہند کی آزادی کے قافلے کے عظیم سالار، پشتون قومی تحریک کے رہنماء اور قومی آزادی وبرابری، جمہوریت، سماجی انصاف، امن وترقی کے علمبردار خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے شہادت کی 48ویں برسی آج 2دسمبر2021بروز جمعرات پشتونخوا وطن، ملک اور بیرون ملک نہایت عقیدت واحترام سے منائی جائیگی۔مرکزی جلسہ عا م آج دوپہر1بجے ہاکی گراؤنڈ کوئٹہ میں منعقد ہوگا۔ جس سے پارٹی کے چیئرمین ملی مشر محترم محمود خان اچکزئی اور دیگر مرکزی وصوبائی قائدین خطاب فرمائینگے۔ جبکہ اس سلسلے میں مختلف اضلاع وشہروں میں تقاریب، تعزیتی ریفرنسز، سیمینارز و اجتماعات کا انعقاد ہوگا جس میں خان شہید کی قومی سیاسی،جمہوری اور ادبی و صحافتی خدمات اور ان کی قربانیوں وجدوجہد پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نظریات وافکار پر کاربند رہتے ہوئے ان کے متعین کردہ قومی اہداف کے حصول کیلئے جدوجہد تیز تر کرنیکی تجدید عہد کی جائیگی۔ برصغیر پاک وہند اور پشتونخوا وطن کی آزادی کے قافلے کے عظیم سالار خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے شہادت کی 48ویں برسی کے جلسہ عام کی تیاری کے سلسلے میں پارٹی کے مرکزی وصوبائی سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری حامد خان اچکزئی، صوبائی ڈپٹی سیکرٹری رکن صوبائی اسمبلی نصراللہ خان زیرے نے سریاب علاقائی یونٹ کے زیر اہتمام بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس سے علاقائی سیکرٹری عبدالعلی اچکزئی، حاجی ارسلا خان ترہ کئی، عبید اللہ توخئی، حاجی نور گل سلیمانخیل، یار محمد بریال، نور آغا، صابر خان رشتین، سید عبدالخالق آغا، عظیم افغان نے خطاب کیا۔مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ خان شہید عبدالصمد اچکزئی نے ہند اور پشتونخواوطن سے فرنگیوں کو نکال باہر کرنے میں انتہائی اہم اور تاریخی کردار ادا کیا ان کی تاریخ ساز جدوجہد وقربانیوں کی مرہون منت سے پشتونخوا وطن کے عوام میں قومی سیاسی شعور اجاگر ہوا اور انہیں قومی سیاسی جمہوری سیاست کا ایک بہترین پلیٹ فارم حاصل ہوا۔مقررین نے کہا کہ ملک آج آئینی، معاشی، معاشرتی بحرانوں کا شکار ہے، عالمی طور پر یک وتنہا ہے ملک کے عوام تاریخ کے بدترین مہنگائی، بیروزگاری کی اذیت ناک صوررتحال سے گزررہے ہیں اس کے اصل محرکات ملک کو 26سال تک آئین سے محروم رکھنا اور آئینی اداروں کو فروغ نہ دینا، آئینی اداروں کی مضبوطی کی بجائے ملکی معاملات من پسند افراد واشخاص کے مرضی سے چلانے کی روش اختیار کرنا، اداروں کے بے وقعت بنانا اور ملکی آئین بننے کے بعد بھی کئی مرتبہ آئین کو معطل کرنا، عوام کی اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرنا اور ملکی عوام کی مفادات کے خلاف آواز بلند کرنے کی سخت ترین سزائیں ان رہنماؤں و کارکنوں کو دیناہے جو جمہور کی حق حکمرانی کیلئے آواز بلند کرتے رہے ہیں، سیاست میں اداروں کی مداخلت، ملکی امور چلانے کیلئے لیڈر تخلیق کرنا اور اس کو عوام پر مسلط کرنا،نام نہاد آمرانہ حکومتیں قائم کرنا، ملک کی اہم ترین ریاستی تین اہم ستونوں میں پہلی اہم ستون مقننہ یا پارلیمنٹ کو بے وقعت بنانا، ملک کی خارجہ پالیسی پارلیمنٹ سے مرتب کرنے کی بجائے افراد واشخاص سے خارجی ناکام تعلقات استوار کرنے اور اُ س میں وقتاً فوقتاً اتار چڑھاؤ اور ناکامی فطری امر ہے خارجی تعلقات،خارجہ پالیسی کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ مقررین نے تمام عوام سے اپیل کی کہ وہ آج بروز جمعرات2دسمبر کو کوئٹہ کے ہاکی گراؤنڈ میں منعقد ہونیوالے عظیم الشان جلسہ عام میں بھرپور شرکت کریں۔ ؎


