استعفے فوری، لانگ مارچ منظور، سینئر لیگی رہنماؤں کے نواز شریف کو مشورے

اسلام آباد:پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی کڑی شرائط پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت سرجوڑ کر بیٹھی ہوئی ہے تاہم ن لیگ کے سینئر رہنماؤں نے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرنے اور اسمبلیوں سے استعفوں کو بھی پیپلز پارٹی کے استعفوں سے مشروط کر دیا ہے اور پارٹی قائد میاں نواز شریف سے درخواست کی ہے کہ وہ پی ڈی ایم کے کل پیر کو ہونے والے سربراہی اجلاس میں مولانا فضل الرحمن سے درخواست کریں گے کہ لانگ مارچ بلدیاتی انتخابات کے بعد کیا جائے کیونکہ اگر ن لیگ نے بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہ لیا تو پنجاب میں اس کا صفایا ہو جائیگا، ذرائع کے مطابق قائد ن لیگ نواز شریف کی زیر صدارت سینئر رہنماؤں کے پانچ سے زیادہ ورچوئل اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جس میں مولانا فضل الرحمن کی شرائط کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا گیا ہے،ن لیگ کے رہنماؤں نے میاں نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ کسی صورت بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ نہ کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں تحریک انصاف کو واک اوور مل جائیگا اور ن لیگ کی سیاسی پوزیشن بری طرح متاثر ہوگی اور آئندہ آنے والے انتخابات میں بھی صورت حال ہمارے ہاتھ سے نکل جائیگی۔دوسری طرف مولانا فضل الرحمن ن لیگ سمیت پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کے مخالف ہیں ان کا موقف ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے بجائے حکومت پر عام انتخابات کے لئے دباؤ ڈالا جائے اور اس کے لئے لانگ مارچ ناگزیر ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ن لیگ پیپلز پارٹی کے بغیر اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کو تیار نہیں اس حوالے سے ان کا موقف ہے کہ اگر اسمبلیوں سے ن لیگ مستعفی ہوگئی تو بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بن جائیں گے اور اس کا سیاسی نقصان ن لیگ کو ہی ہوگی لہٰذا اگر اسمبلیوں سے استعفے دینے ہیں تو مولانا فضل الرحمن یا شہباز شریف پیپلز پارٹی کو اس پر آمادہ کرے،ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف سربراہی اجلاس میں اپنی پارٹی کی تجاویز پیش کریں گے جبکہ ن لیگ لاہور جلسہ کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکی۔ذرائع نے بتایا کہ اگر پی ڈی ایم نے نواز شریف کی تجاویز سے اتفاق نہ کیا تو پی ڈی ایم سے ان کے راستے جدا ہو سکتے ہیں،مشاورتی اجلاسوں میں شہبازشریف،حمزہ شہباز،مریم نواز،شاہد خاقان،ایاز صادق،سعد رفیق،احسن اقبال،پرویز رشید،مریم اورنگزیب،رانا ثناء اللہ،مفتاح اسماعیل اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے،،اپوزیشن تمام آئینی سیاسی اور قانونی ہتھیار بروئے کار لائے گی اور قوم کو مایوس نہیں کریں گے، لانگ مارچ کے حوالے سے پی ڈی ایم کے چھ دسمبر کو ہونے والے اجلاس میں بحث ہو گی اور ٹھوس فیصلے ہوں گے، ہمارے پاس ان ہاؤس تبدیلی کا آپشن ہے اور اس پر مشاورت ہو گی اور اس حوالے سے مناسب وقت پر بتائیں گے، ہم مہنگائی مارچ نکالیں گے او رحکومت کو ناکوں چنے چبوائیں گے،حکومت نے معیشت کا کباڑہ کر دیا ہے، ملک جن حالات سے دوچار ہے اسے اس سے نکالنے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے احسن اقبال، مفتاح اسماعیل، مریم اورنگزیب اور دیگر کے ہمراہ پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے ساڑھے تین سالوں میں جو بلنڈرز کئے ہیں ان سے تباہی پھیلی ہے،مہنگائی،افراط زر او ربیروزگار ی کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ کورونا سے پہلے آ جائیں تو اس وقت ان کی کارکردگی کیا تھی؟، مارچ 2020ء سے پہلے ان کی کارکردگی دیکھ لیں وہ بھی قوم کے سامنے ہے، کورونا نے صرف پاکستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں تباہی مچائی ہے، پوری دنیا میں یقینا مہنگائی آئی ہے لیکن آج مہنگائی کے حوالے سے پاکستان دنیا کی فہرست میں تیسر ے نمبر پر ہے، خطے کے ممالک میں ہم سب سے آگے ہیں، خداداد ملک پاکستان اس وقت انتہائی مشکلات میں گھر اہوا ہے، پاکستان تاریخ کے سنگین ترین بحران میں مبتلا ہے او ر اگر جنگی بنیادوں پر کام نہ کیا گیا تو پھر خدانہ کرے ہمیں تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں