سعودی عرب،فرانس میں خطے کی سلامتی کے لئے ایران کی تخریبی سرگرمیوں سے نمٹنے کامعاہدہ

ریاض:سعودی عرب اور فرانس کے درمیان خطے کی سلامتی کے لیے ایران کی تخریبی سرگرمیوں سے نمٹنے،اقتصادی شراکت داری کے فروغ، نجی شعبے کی شرکت اور تجربات کے تبادلے کو مستحکم کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پایاہے۔فریقین نے ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کی ترقی اوراس کے جوہری توانائی کے عالمی ادارے(آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون اور شفافیت کے فقدان پرگہری تشویش کا اظہارکیا اورخطے میں ایران کی تخریبی سرگرمیوں سے نمٹنے کی ضرورت سیاتفاق کیا ہے۔گزشتہ روز جدہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اورفرانسیسی صدرعمانوایل ماکرون کے درمیان ملاقات میں دوطرفہ تعاون اور خطے میں باہمی دلچسپی سے متعلق امورپربات چیت کی ہے۔انھوں نے توانائی، مالیات اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پرتبادلہ خیال کیا ہے۔اس ملاقات کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان میں سعودی عرب اور فرانس کے درمیان اقتصادی تعلقات کی پائیداری کی تعریف کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ”دونوں ممالک کے مفادات کولاحق مشترکہ خطرات اورخطے کے استحکام کا مسلسل جائزہ لیا جارہا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے اور استحکام،خاص طور پر مشرق اوسط اور دنیا میں امن و سلامتی سے متعلق مشترکہ دلچسپی کے امور پراپنے مؤقف میں ہم آہنگی پر زوردیا۔سعودی اور فرانسیسی فریقوں نے اس بات پر زوردیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی مفاہمت کومضبوط بنانے کی ضرورت ہے“۔انھوں نے لبنانی حکومت پر زوردیا کہ وہ جامع اصلاحات کو عملی جامہ پہنائے،بالخصوص معاہدہ طائف کی پاسداری کی جائے۔اس میں لبنان میں قومی اتحاد اور شہری امن اور ریاستی اداروں تک ہتھیاروں کو محدود کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔صدرماکرون نے کہا کہ ”خطے کے استحکام کو ملحوظ رکھے بغیرایران کی جوہری فائل پر توجہ نہیں دی جا سکتی۔ ہم نے علاقائی مذاکرات میں سعودی عرب سمیت اپنے اتحادیوں کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی ہے“۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ”سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے دورے میں، میں نے خطے کے استحکام اور توانائی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرا خلیج کا دورہ مفید رہا اور میں نے بہت سی فائلوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔فرانسیسی صدر نے سعودی ولی عہد سے ملاقات کے حوالے سے کہا ہم نے لبنانی بحران پر تبادلہ خیال کیا اور فرانس لبنان کی صورت حال میں بہتری کے لیے اصلاحات کے ضمن میں پرعزم ہے“۔

اپنا تبصرہ بھیجیں