ریکو ڈک کے متعلق جو بھی معاہدہ ہوگا وہ بلوچستان میں ہی ہوگا،وزیراعلیٰ بلوچستان

کو ئٹہ:وزیر اعلیٰ بلو چستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ ریکوڈک کے متعلق جو بھی معاہدہ ہو گا وہ بلو چستان میں ہی ہو گا، دھرنے اب کے نہیں سابقہ دور حکومت کے ہیں گوادر دھر نے کے شرکا ء اور ہما رے مطا لبا ت ایک ہیں جلد غیر قانونی ٹرالنگ کا خاتمہ کریں گے، ہما ری کو شش ہیں کہ سب کے جا ئز مطا لبا ت کو حل کئے جا ئیں، ڈاکٹرز ہمیں وقت دیں ہم ان کے لئے فا ئیٹ کریں گے، ساؤتھ پیکیج پر وزیراعظم کے مشکور ہیں ان سے نارتھ پیکیج کا بھی مطا لبہ کیا ہے،سی ایم آئی ٹی رپورٹس کی روشنی میں بے ضابطگیوں کے مرتکب افراد کو ضرور سزائیں دیں گے،بلو چستان میں بہت سے علا قے ایسے ہیں جہاں ترقیاتی منصوبوں پرکا م کر نا مشکل ہیں اسی لئے ہم نے 180ارب روپے کے ڈیمز اور سڑکوں کے منصو بے ایف ڈبلیو او کے حوالے کر نے کا فیصلہ کیا ہے، گلو بل ٹیچرز کے ساتھ ان کے احتجاج کے دوران جو بدسلوکی کی گئی اس پر ان سے معذرت خواہ ہیں انہیں مستقلی کے آڈرزدینا ان پر احسان نہیں بلکہ انہیں ان کا جا ئز حق دینا ہے۔ان خیا لا ت کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کو ئٹہ میں گلو بل ٹیچرز کو مستقلی کے آرڈرز دینے سے متعلق منعقدہ تقریب کے موقع پر میڈیا نما ئندوں سے با ت چیت کر تے ہو ئے کیا۔اس موقع پر ان کے ہمراہ صو با ئی وزیر تعلیم نصیب اللہ مری،رکن بلو چستان اسمبلی قادر نا ئل و دیگر بھی مو جو دتھے۔وزیر اعلیٰ بلو چستان میر عبدالقدوس بزنجو کا کہنا تھا جب اساتذہ سڑکوں پر احتجاج کر تے تو ہمیں افسوس ہو تا کہ اساتذہ سڑکوں پر ہیں اور ہم ان کے مسائل حل نہیں کر سکتے اس سلسلے میں، میں نے سمبلی اجلاسوں کے دوران رولنگز بھی دئیے کہ حقداروں کو ان کا حق دیا جا ئے آپ نے اپنے حق کی خاطر جدو جہد کی اور اس جدو جہد کے دوران آپ کے ساتھ جو بد سلوکی کی گئی اس پر میں حکومت کی جا نب سے معذرت خواہ ہوں، سڑکوں پر اپنے حقوق کے لئے نکلنے والوں سے با ت چیت ہو نی چا ہئے اور ان کے جا ئز مطا لبا ت حل کئے جا نے چا ہئے، بجا ئے اس کے کہ ہم پولیس اور عوام کو ایک دوسرے کے آمنے سامنے لا کھڑا کرے، ہم نے محسوس کیا کہ یہ چیزیں بلو چستان کی روایات کے خلا ف ہیں جس پر ہم نے حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ کیا اور شاید اللہ تعالیٰ نے ہم سے کچھ کا م لینے تھے اور ہمیں موقع دیا مجھے خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے آج آپ لو گوں کے مسئلے کے حل کا ذریعہ بنایا یہ آپ لو گوں کا حق تھا جسے کو ئی بھی دے سکتا تھا لیکن اللہ نے یہ مو قع مجھے دیامیں نے حلف کے بعد اپنی پہلی تقریر میں آپ لو گوں کا، سی اینڈ ڈبلیو کا اور بی ڈی اے ملازمین کاذکر کیا تھا اگر ہم مزید کچھ نہیں دے سکتے تو جن کے پاس روزگا ر ہیں انہیں بے روزگا ر نہیں کیا جا سکتا آپ لوگوں کے ساتھ تو معاہدہ کیا گیا تھا کہ دو سالوں کے بعد آپ کو مستقل کیا جا ئے گا لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا مجھے خوشی ہے کہ اعلان کے ایک ما ہ کے دوران وزیر تعلیم اور محکمہ تعلیم کے آ فیسران نے آپ کے آرڈرز کا کا م انتہا ئی تیز رفتاری سے مکمل کیا ہم نے کا بینہ سے بھی اس کی منظوری لی ادھر بلا نے کا مقصد یہ تھا کہ جن بہنوں اور بھا ئیوں کے ساتھ احتجاج کے دوران اچھا سلوک نہیں ہوا تھا ان کو عزت اور دلا سہ دے سکے،آرڈرز دینا احسان نہیں بلکہ یہ آپ لوگوں کا حق تھا جو آپ کو ملا اس طرح کے اقدام آئندہ بھی کر تے رہیں گے،میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ سب ٹیچرز مستقبل کے معما روں کو معیا ری تعلیم دیں گے یہ ایک صدقہ جا ریہ ہے مجھے امید ہے کہ تعلیم کے میدان میں ٹیچرز اہم کردار ادا کر تے رہیں گے۔کا بینہ کے اجلاس میں پا رلیمانی سیکرٹریز کی مو جو دگی سے متعلق پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں وزیر اعلیٰ بلو چستان کا کہنا تھا کہ ہم انہیں خصوصی طور پر شرکت کے لئے بلا سکتے ہیں اور ان کی رائے بھی لے سکتے ہیں کیو نکہ ان کے پا س محکمہ جا ت ہیں انہیں وزراتوں کے قلمدان بھی سونپے گئے ہیں،ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دھرنے اب کے نہیں ہیں بلکہ یہ تین سالوں سے جا ری ہیں ہمیں آئے ہو ئے ایک مہینہ ہوا ہے یہ سوال ان سے پوچھا جا ئے جو اس وقت برسر اقتدار تھے ہم دھرنوں کو ختم کر کے عوام کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھا رہے ہیں گوادر کا دھرنا بھی جو لا ئی سے چلا آ رہا ہے گلو بل ٹیچرز کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا وہ افسوسناک تھا ڈاکٹر ز ہو یا کو ئی اور سب سے کہہ دیا ہے کہ جا ئز مطا لبہ ہر ایک کا ما نا جا ئے گا ہما رے دور میں کو ئی نیا دھر نا شروع نہیں ہوا ہم پرانے دھرنے ختم کر کے صو بے کو آ گے کی طرف لے جا نا چا ہتے ہیں، امن و امان کی صورتحال سے متعلق وزیر اعلیٰ بلو چستان میر عبدالقدوس کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تبدیلی آ ئی ہے اس کا ہمیں ضرور یہاں سامنا کر نا پڑتا ہے امن و امان کو تہہ و با لا کر نے والوں کے پیچھے لگے ہیں انہیں ان کے مقام تک پہنچا ئیں گے،ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ بلو چستان کا کہنا تھا کہ دیکھیں گوادر دھر نے والوں کی طرح ہما را مقصد بھی صو بے میں روزگا ر کی فرا ہمی تھی بارڈر کی صورتحال کا سب کو پتہ ہے کہ پہلے بارڈر بند ہو گئے تھے پھر ٹوکن سسٹم اور پھر میسیج سسٹم تھا ہم نے ٹوکن اور میسیج سسٹم کو ختم کر دیا ہے تا کہ لو گوں کا روزگار متاثر نہ ہو اور ان کی بارڈر تک رسائی ہو،180چیک پوسٹوں کو ختم کر دیا گیا جن میں سے اب صرف تین چیک پوسٹیں با قی رہ گئی ہیں جنہیں بھی بعد میں ختم کیا جا ئے گا، عوام کی جا ن و ما ل کا تحفظ ہما ری اولین ذمہ داری ہے جو ہم دیں گے، ٹرالنگ کا خاتمہ دھرنے والوں کے ساتھ ہما را بھی مطا لبہ ہے اسی لئے ہم نے حکومت چینج کی ہم ٹرالنگ کے خا تمہ کے لئے اقدامات کر رہے ہیں انشاء اللہ اس کا سلسلہ جلد ختم ہو جا ئے گا،ہم یہ نہیں کہتے کہ ان کا کو ئی مطا لبہ غلط ہے ہما رے اور ان کے مطا لبا ت ایک جیسے ہیں امید ہے کہ صوبے کی عوام ہمیں کچھ وقت دیں گے تا کہ ہم چیزوں کواسٹریم لا ئن اور بہتر کرے۔ڈاکٹرز کا معاملہ عدالت میں ہے جب کورٹ درمیان میں آ جا تا ہے تو پھر آپ کے ہا تھ باندھے جا تے ہیں اور آپ کچھ نہیں کر سکتے ہو، وزیر صحت ڈاکٹرز کے ساتھ را بطے میں ہے ہم نہیں کہتے کہ ڈاکٹرز کے مطا لبا ت غلط ہیں،ڈاکٹرز پڑھے لکھے اور سمجھدار لو گ ہیں وہ صوبے کے حالات و دیگر کو سمجھتے ہیں با ت چیت میں انیس بیس ضرور ہے ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم ڈاکٹرز کے مطا لبا ت نہیں ما نیں گے ہما ری درخواست یہ تھی کہ ڈاکٹرز دھرنا دینے کی بجا ئے عوام کا علا ج معالجہ کرے، وہ مسیحا ہیں اور ان کے دھر نے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلا ت ہیں میں نے اپنے لئے ٹریفک روٹ نہ لگا نے کی ہدایت کی ہے اگر ٹریفک میں کو ئی ایمبو لنس پھنس جا ئے اور کو ئی مرے تو اس چیز کو میں بر داشت نہیں کر سکتا ہم آئے ہیں لو گوں کے مسائل حل کر نے کے لئے،ڈاکٹرز ہمیں موقع دیں ہم ان کے مسائل حل کریں گے ہمیں کچھ دن ہو ئے ہیں گلو بل ٹیچرز نے مجھے اپروچ نہیں کیا لیکن مجھے ان کے مسئلے کا ادراک تھا بی ڈی اے ملا زمین کا مسئلہ بھی دیکھ رہے ہیں جنہوں نے خرابی کی ہیں ان کو سزا ملنی چا ہئے دس سال بعد کسی کو ملازمت سے نکا لا جا ئے گا تو یہ کیسے ہو گا ہما را حق بنتا ہے کہ ہم ان کے لئے فائیٹ کرے ہم ڈاکٹر ز کے لئے بھی لڑیں گے مگر وہ ہسپتا لوں میں علا ج و معالجہ کی سہولیات کی فرا ہمی ممکن بنا ئے اگر ہڑتال ہی حل ہے تو پھر ہم بھی ان کے پاس جا کر ہڑتال کر لیتے ہیں، ساؤتھ پیکیج پر ہم وزیراعظم عمران خان کے مشکور ہیں اب ہم نے نارتھ پیکیج کا بھی مطا لبہ کیا ہے گزشتہ روز خضدار کچلاک شاہراہ کو دورویہ بنا نے کے حوالے سے پروگرام تھا میرے خیال میں وزیر اعظم جلد کو ئٹہ آئیں گے اور اس منصوبے کا افتتاح کریں گے وزیر اعظم نے صوبے کی ترقی کے لئے ہر ممکن ساتھ دینے کا بھی وعدہ کیا ہے، سی ایم آئی ٹی رپورٹس کی روشنی میں بے ضابطگیوں کے مرتکب افراد کو ضرور سزائیں دیں گے،ریکوڈک اور سیندک کے حوالے سے کو ئی خفیہ معاہدہ نہیں ہو رہا، حال ہی میں میں اسلام آ با د میں ایپیکس کمیٹی کی میٹنگ میں شرکت کے لئے گیا تھا وہاں ہم نے ساؤتھ پیکیج کے حوالے سے بھی تفصیلی غور وغوض کیا بلو چستان میں بہت سے علا قے ایسے ہیں جہاں کا م کر نا مشکل ہیں اسی لئے ہم نے 180ارب روپے کے ڈیمز اور سڑکوں کے منصو بے ایف ڈبلیو او کے حوالے کر نے کا فیصلہ کیا ہے، ریکوڈک واقعی بہت بڑا مسئلہ ہے یہ شروع میں ایک اثاثہ تھا جو آج ہما رے لئے ایک مصیبت بنا ہوا ہے اس کا مقدمہ ہم انٹر نیشنل کورٹ میں ہا ر چکے ہیں ہمیں ما ر چ سے پہلے فیصلہ کر نا ہے اس بابت جو بھی فیصلہ ہو گا وہ بلو چستان اور کو ئٹہ میں سب کے سامنے ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں