یونیسیف نے افغانستان کے لیے ابتک کی سب سے بڑی 2 ارب امریکی ڈالر امداد کی اپیل کردی
کابل:اقوام متحدہ کے عالمی ادارے، ہنگامی فنڈ برائے اطفال (یونیسیف)نے افغانستان میں انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 2 ارب امریکی ڈالر کی امداد کی اپیل کی ہے۔منگل کو یونیسیف نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے افغانستان میں 2کروڑ40لاکھ سے زیادہ لوگوں، جن میں سے نصف تعداد بچوں کی ہے، کی فوری انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنی اب تک کی سب سے بڑی کسی ایک ملک پر مبنی اپیل کا آغاز کیا ہے،اور یہ کہ اس کی 2ارب ڈالر کی یہ اپیل بچوں اور خاندانوں کے لیے صحت، غذائیت، واش (پانی، صفائی اور حفظان صحت)، تعلیم اور دیگر اہم سماجی خدمات کو لاحق تباہی کے فوری خطرے کو روکنے میں مدد کرے گی۔اگست کے وسط میں طالبان کے اقتدار میں آنے اور 7 ستمبر کو طالبان کی زیرقیادت نگران حکومت کے قیام کے بعد سے ملک کو معاشی مسائل کا سامنا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں انسانی صورتحال بدستور ابتر ہوتی جا رہی ہے، صحت اور غذائیت کی خدمات میں تشویشناک رکاوٹوں،خوراک کے تباہ کن بحران، خشک سالی، خسرہ، اسہال، پولیو اور دیگر قابل علاج بیماریوں کے ساتھ سرد موسم کے خطرات لاحق ہیں۔ یونیسیف کی افغانستان کی نمائندہ ایلس اکونگا کے حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں موجودہ انسانی صورتحال خاص طور پر بچوں کے حوالے سے حالات تشویشناک ہیں۔ موسم سرما شروع ہو چکا ہے، اضافی فنڈنگ کے بغیر یونیسیف اور اس کے شراکت دار ان بچوں اور خاندانوں تک نہیں پہنچ پائیں گے جنہیں مدد کی فوری ضرورت ہے۔


