گوادر میں کوئی چینی فوجی اڈہ نہیں، وہاں معاشی اڈے ہیں،مشیر قومی سلامتی امور
اسلام آباد/لندن : وزیراعظم مشیر برائے قومی سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف نے کہاہے کہ گوادر میں کوئی چینی فوجی اڈہ نہیں، وہاں اکنامک بیسز (معاشی اڈے)ہیں،پاکستان کی پالیسی فوجی اڈے کی پیشکش نہیں بلکہ معاشی اڈے کی ہے، جس کی پیشکش ہم نے امریکا، روس، مشرق وسطی کو بھی کی ہے، ہمیں معاشی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے،بیجنگ ہمارا بہت دیرینہ دوست ہے،پاکستانی حکمت عملی اور سوچ میں بڑی تبدیلی آئی ہے جس میں اب جیو سٹریٹیجک کے بجائے جیو اکنامک ضروریات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ وزیراعظم مشیر برائے قومی سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں اتار چڑھا ؤ ماضی میں بھی آتا رہا ہے اور ہم بہت قریب آ جاتے ہیں، اتحادی بن جاتے ہیں، بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جب بھی امریکا کا مفاد پاکستان سے پورا ہو جاتا ہے تو پاکستان کو ایک طرف کر دیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب پاکستان،امریکا کے ساتھ برابری اور مستحکم بنیادوں پر اچھے تعلقات چاہتاہے۔امریکا سے تعلقات سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا امریکی صدر کے ٹیلیفون سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں معید یوسف نے کہا کہ امریکی صدر جوبائیڈن کال کرنا چاہیں گے تو کرینگے اور اگر نہیں تو اس بات کا انحصار بھی ان پر ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان بات چیت مثبت انداز میں چل رہی ہے، تاہم افغانستان کے معاملے پر عدم اعتماد تاحال موجود ہے۔پاکستان ہمیشہ کہتا رہا کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں، پاکستان ایک بار پھر خبردار کر رہا ہے کہ اگر مغرب نے افغانستان کے حوالے سے اپنا رویہ نہ بدلا تو وہ ایک اور تباہی کی طرف جا رہا ہے، افغانستان کو بدترین انسانی بحران کا سامنا ہے، جہاں 22.8 ملین افراد کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے، افغانستان کے پاس پیسہ ہے لیکن افغانستان میں بینکنگ چینلز کو چلنے نہیں دیا جا رہا۔نٹرویو میں مشیر قومی سلامتی امورسے پوچھا گیا کہ پاکستان نے چین کو بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے بدلے گوادر کی بندرگاہ دی ہے جو بیجنگ کے لیے علاقائی اہمیت کی حامل ہے اس سوال پر جواب دیتے ہوئے مشیر برائے قومی سلامتی کاکہا کہ گوادر میں کوئی چینی فوجی اڈہ نہیں بلکہ وہاں اکنامک بیسز (معاشی اڈے)ہیں کیونکہ ہماری پالیسی فوجی اڈے کی پیشکش نہیں بلکہ معاشی اڈے کی ہے جس کی پیشکش ہم نے امریکا، روس، مشرق وسطی کو بھی کی ہے۔ ہمیں معاشی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ بیجنگ ہمارا بہت دیرینہ دوست ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستانی حکمت عملی اور سوچ میں بڑی تبدیلی آئی ہے جس میں اب جیو سٹریٹیجک کے بجائے جیو اکنامک ضروریات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جس کے لیے رابطوں کے مسائل کا حل اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے شراکت داری اہم ہوتی ہے۔میزبان کی طرف سے سوال پوچھا گیا کہ پاکستان نے اپنی ترجیحات کا رخ امریکا سے موڑ کر چین کی طرف کر لیا ہے، اس پر جواب دیتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ پاکستان کی اپنی سوچ اور نقطہ نظر میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ ہم جیو سٹرٹیجک کے بجائے جیو اکنامک نظریہ پایا جاتا ہے۔ چاہتے ہیں دنیا سے لوگ پاکستان آئیں اور معاش شراکت داری کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں جب کشمیر کی بات کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں دوسرے ملک کے لوگوں کی نہیں بلکہ اپنے لوگوں کی بات کر رہا ہوں، میں مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضے کی بات کرتا ہوں جسے اقوام متحدہ متنازع قرار دے چکی ہے، ان لوگوں کے لیے بولنا ہمارا حق ہے۔ کشمیری ہمارے اپنے ہیں تو میں بات کروں گا اور کرتا رہوں گا۔ میزبان کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی سے حکومت پاکستان کے مذکرات اور عام معافی سے وزیر اعظم کے بیان سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کالعدم جماعت کی ساری قیادت افغانستان میں ہے اوراس گروہ نے ہزاروں پاکستانیوں کو شہید کیا ہے۔ جبکہ بھارت اور اشرف غنی کے دور حکومت میں اس گروپ کو افغان انٹیلی جنس سپورٹ کرتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کیلئے تمام لوگوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے۔ ہماری پالیسی ہے مذاکرات سے معاملات حل کریں۔ اگر وہ تشدد کا راستہ چھوڑ دیتے ہیں تو ہم ان کی بات سننے کو تیار ہیں۔ معید یوسف نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے قیدیوں سے رہائی سے متعلق ہونے والی باتیں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔


