بلوچ قوم پرست رہنماء یوسف مستی خان غداری کے الزام میں گرفتار
گوادر(انتخاب نیوز)بلوچ قوم پرست رہنماء یوسف مستی خان کو غداری کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، اطلاعات کے مطابق وہ حق دو تحریک میں شرکت کیلئے گئے تھے، ایف آئی آر میں درج ہے کہ گوادر حق دو تحریک کے سربراہ ہدایت الرحمن بلوچ متحدہ محاذ کے سربراہ یوسف خان مستی کو دھرنے سے خطاب کرنیکی دعوت دی یوسف خان مستی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی ہمت اور طاقت اور یکجہتی سے اداروں کوآپ کے قدموں پر گرنے پر مجبور کرینگے گے پاکستان میں بزور طاقت بلوچستان پر قبضہ کیا، 1947 میں غوث بخش بزنجو نے پاکستان کیساتھ بلوچستان الحاق کو مسترد کر دیا تھا اور گورنمنٹ بلوچوں کو غلام سمجھتی ہے، پاکستان سے میرا کوئی واسطہ نہیں، بلوچستان میری پہچان ہے، اگر میں را کا ایجنٹ ہو تو تم بھی امریکہ کیلئے کام کرتے ہو، ہمارے بچے ڈاکٹر اللہ نذر، بالاچ مری، اور کریمہ کی شکل میں تمہارا مقابلہ کرینگے، پاکستان بلوچستان سے بھاگے گا،جس طرح بنگلہ دیش میں پتلون چھوڑ کر بھاگے تھے، آپ 1953سے ہمارا گیس استعمال کر رہے ہو،اگر بلوچستان آزاد ہوگیا تو تم سے بہتر انداز میں چلائیں گے، ایف آئی آر کے مطابق اس طرح کی پاکستان مخالف تقاریر سے گوادر میں دھرنے کی اصل حقیقت آشکار ہو رہی ہے، جس میں پاکستان مخالف نعرے اور تقاریر ہو رہی ہیں،ایف آئی آر کے مطابق یوسف مستی خان نے اپنی تقریری کے دوران مملکت خداداد پاکستان کے خلاف نفرت آمیز تقاریر کر کے پاکستان کیخلاف، مسلح افوج اور خفیہ اداروں کیخلاف بجرم زیر دفعہ 121-123/A/-A24 34A-153اور حق دوتحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے یوسف مستی خان کودھرنے میں طلب کرکے دھرنے میں تقاریر کرا کر بجرم دفعہ 109ت پ کا مرتکب ہوئے ہیں۔



