گوادر میں اعظیم الشان ریلی، ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے شرکت کی

گوادر:حق دو تحریک بلوچستان کی کال پر گوادر میں تاریخی ریلی،ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے ریلی میں شرکت کی ریلی کے شرکاء میں اندرون بلوچستان سمیت کراچی سے بھی لوگ شامل تھے اس موقع پر تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ اور حکمرانوں کی غاصبانہ رویوں کے خلاف آج گوادر میں لاکھوں کی تعداد میں ناراض بلوچ اکٹھے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم سی پیک کے خلاف نہیں ہیں مگر ہمیں سی پیک سے ہمیں ما سوائے فاقہ اور لاشوں سے اور کچھ نہیں ملا، سی پیک سے ہمیں بنیادی سہولیات، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور ٹیچروں کے بجائے ہزاروں کی تعداد میں فوجیاں اور چیک پوسٹیں ملی ہیں، انہوں نے کہا کہ آج کی حق دو بلوچستان ریلی میں لاکھوں کی تعداد میں خواتین بزرگ اور بچوں سمیت مختلف طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کرکے حق دو بلوچستان کے نعرے لگائے ہیں اس ریلی کو بلوچستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور تاریخی ریلی کہا جارہا ہے، مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ ہم سی پیک کے خلاف نہیں ہیں مگر سی پیک سے اب تک ہمیں کچھ بھی نہیں ملا ماسوائے فاقے اور نوجوانوں کی لاشوں کے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹبلشمنٹ اور حکمرانوں کی غاصبانہ رویوں کے خلاف آج گوادر میں لاکھوں کی تعداد میں ناراض بلوچ اکھٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی ہیک سے ہمیں بنیادی سہولیات، تعلیمی ادارے، ہسپتال اور ٹیچر نہیں ملے مگر ہزاروں کی تعداد میں فوجیاں اور چیک پوسٹیں ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے اہل بلوچستان کو چیک پوسٹیں نہیں بلکہ بنیادی سہولیات سہولتیں،تعلیمی ادارے،پینے کا پانی اور روزگار چاہیے۔ مگر ابتک سی پیک سے نہ ہمیں تعلیمی ادارے ملے اور نہ ہی بلکتی مریضوں کے لیئے کوئی اسپتال ملا بلکہ ٹیچرز، ڈاکٹر اور لیکچرار کی جگہ ہزاروں کی تعداد میں فوجی چیک پوسٹ ملے ہیں انہوں نے کہا کہ فاقہ ملا بیروزگاری ملی، سمندری قزاق ملے لیکن لوگوں کو روزگار نہیں ملا انہوں نے کہا ہم ریاست کے خلاف نہیں ہیں مگر ان قوتوں کے خلاف ہیں جن کے رویے غاصبانہ ہیں چاہے وہ وزرا کی شکل میں ہوں یا جرنیل کی شکل میں ہوں۔ ان غاصبوں کا جب بھی جی چاہے اپنا بنیادی حقوق مانگنے پر ہمیں غدار اور ایجنٹ قرار دیتے ہیں اور جو اصل ایجنٹ ہیں انہیں کلبوشن اور ابی نندن کی شکل میں آئین سازی کرکے وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا جب ہم اپنے بنیادی حقوق مانگتے ہیں تو ہم پر غداری کے مقدمات لگائے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنا بنیادی حقوق آئین پاکستان کے مطابق مانگ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود کہ ہمیں مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہاں لکھا ہیکہ اپنی بنیادی حقوق، منشیات، ٹرالر مافیا سمیت روزگار کے لیئے آواز ااٹھانا جرم اور غداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تیسرے درجے کے شہری نہیں ہیں، ہم کسی کے کالونی نہیں ہیں بلکہ ہم ایک صوبے میں رہتے ہیں جس کے تمام تر شہری اور بنیادی حقوق غضب کیئے جارہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی جی پولیس معصوم لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کریں ورنہ ہم اس کے طاقت کا بھرپور جواب دینگے اور میں گرفتاری ضرور دونگا مگر اپنے ایک لاکھ سے زائد کارکناں مظاہرین سمیت گرفتاری دونگا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ ہم ہیلی کاپٹر کے ذریعے ڈبہ بھروں پولنگ کے خلاف بھی بھرپور احتجاج کرینگے جس کے نتیجے میں نااہل اور غیر سیاسی وزرا کو بلوچستان کے عوام پر تہمت کی جارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں