پاکستان میں وبا سے شرح اموات متعدد خطوں سے کئی گنا زیادہ ہے، عالمی اعدادو شمار

اسلام آباد :عالمی اعداد و شمارکے مطابق پاکستان میں وبا سے شرح اموات متعدد خطوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کورونا سے متعلق سائنسی ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ پاکستانیوں کی ہلاکتیں اس لیے ہوئیں کیونکہ انہوں نے کورونا کی وجہ سے نہیں بلکہ اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث ہسپتالوں کا رخ کیا۔انہوں نے ناقص صحت اور تشخیصی سہولیات کو بھی اموات کی زیادہ تعداد کا ذمہ دار ٹھہرایا۔دستیاب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی دستاویز کے مطابق پاکستان میں کورونا سے شرح اموات 2.24 فیصد ہے جو عالمی سطح پر 1.97 فیصد ہے۔دستاویز کے مطابق ملک میں وبا سے 28 ہزار 870 اموات رپورٹ کی گئیں جن میں 61 فیصد مرد اور 39 فیصد خواتین شامل ہیں۔دستاویز سے انکشاف ہوا کہ ملک میں کورونا سے کم سے کم عمر میں جس کا انتقال ہوا وہ دو ماہ کا بچہ تھا جبکہ زیادہ سے زیادہ عمر 100 سال زائد ہے جبکہ انتقال کرنے والوں کی درمیانی عمر 62 سال ہے۔ملک میں وبا سے ہونے والی کْل اموات میں سے 78 فیصد کی عمر 50 سے زائد تھی، 69 فیصد کو پہلے سے صحت کے مسائل تھے جبکہ 91 فیصد ہسپتال داخل تھے جہاں وہ اوسطاً 6.6 روز تک زیر علاج رہے (ایک سے لے کر 173 روز تک)۔اسی طرح ہسپتال میں زیر علاج رہنے والے مریضوں میں سے 45 فیصد اوسطاً 3.2 روز تک وینٹی لیٹرر پر رہے (ایک سے لے کر 42 روز تک)۔دستاویز سے واضح ہوتا ہے کہ صحت کے عملے میں 172 اموات ہوئیں جن میں سے 103 ڈاکٹرز، ایک میڈیکل کا طالب علم، 4 نرسز اور 64 پیرامیڈیکس تھے۔ڈاکٹر جاوید اکرم نے اعتراف کیا کہ پاکستان میں وبا سے جان سے ہاتھ دھونے والے مریضوں کی تعداد عالمی شرح سے کئی گنا زیادہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستان میں لوگ کووِڈ 19 کی وجہ سے ہسپتالوں میں نہیں جاتے بلکہ جب ان میں پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں تو ہسپتال جاتے ہیں، اس کے علاوہ ہمارے پاس جدید ترین صحت اور تشخیصی سہولیات کا فقدان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے انتہائی نگہداشت کے یونٹس دباؤ میں رہے یا ان پر زیادہ بوجھ پڑا جس کی وجہ سے شرح اموات میں اضافہ ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں