پالیسی وژن کا فقدان، بلوچستان کے پہاڑ سونے کے ہوجائیں بھی تو ہم فائدہ نہیں اٹھا سکتے، محفوظ علی خان

کوئٹہ:سابق چیف سیکرٹری بلوچستان اور ماہر معیشت محفوظ علی خان نے کہا ہے کہ بلوچستان امیر صوبہ ہے بلوچستان کے سارے پہاڑ سونے کے ہوجائیں اگر ہمارے پاس پالیسی ویژن صلاحیت نہیں ہے تو ہم کبھی بھی استفادہ حاصل نہیں کرسکتے ہیں اس کی بڑی مثال ریکوڈک ہے اس کا معاہدہ ہوا بد قسمتی سے کسی نے نہیں پڑا بلوچستان میں دو لاکھ 70ہزار ملازمین ایسے ہیں جن کو کوئی ٹریننگ اور تربیت نہیں دی گئی ہے سی پیک بلوچستان کیلئے فائدہ اور چیلنج ہے گوادر پورٹ بننے گاہم نے نوجوانوں کو تربیت نہیں دی ہے تو ہم کیسے گوادر پورٹ چلائیں گے گوادر کو سی پیک کاجومر کہتے ہیں وہاں تو پانی اور سڑکیں نہیں ہیں میرے گھر سے گیس نکل رہا ہے مجھے کیا فائدہ ہے گریڈ 17کا آفیسر زکوٰۃ کے مستحق ہیں بلوچستان میں ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن بنانے والے 3بوڑھے ہیں اگر ہو مر گئے تو پنشن نہیں بنے گی بلوچستان میں 90فیصد آفیسران کو (ای سی آر)لکھنے نہیں آتی ہے کیونکہ ہم نے ملازمین کو ان کے شعبے کے متعلق تربیت نہیں دی ہے پی سی ون جو ہر پروجیکٹ کی بنیاد ہے وہ شارع عدالت ایک دکان میں بنا کرتی تھی پاکستان میں 45قسم کی منرلز نکلتی ہے جس میں 38منرلز بلوچستان میں ہیں کولڈ گولڈ تک لیکن پھر بھی ہم غریب ہیں یہ ہمارا مقدر نہیں یہ ہمارا پسند ہے کہ ہم نے اپنے آپ کو غریب رکھا ہے اس سرزمین نے مجھے نام دیا ہے اور میں نے اپنی خدمات بلوچستان کیلئے وقف کر دیا ہے ان خیالات کااظہار محفوظ علی خان نے نجی ڈیجیٹل ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1970میں پہلی دفعہ بلوچستان کابجٹ چند کروڑ تھا جوبیوروکریسی فیڈریشن سے آئے تھے وہ اپنے صوبے اس وقت چلے گئے تھے اس سے بہت بڑا بلوچستان میں خلا پیدا ہوگیا تھا بلوچستان کی نااہلی کی وجہ سے بہت بڑا نقصان اٹھا نا پڑا بینظیر پل 22کروڑ روپے سے شروع ہوا تھا اور تقریباً 4سال میں بنا اور 58کروڑ روپے میں تیار ہوا اسی رقم سے 3پل اور کوئٹہ میں بن سکتے تھے ہمارے پی سی ون میں فلاٹ تھا ہمیں پتہ نہیں تھا کہ ریلوے کی بھی زمین اس پل پر آرہی ہے بلوچستان کے ہر شعبے میں ایک روپے کاکام ہماری نااہلی کی وجہ سے اگر آپ پچھلے پی ایس ڈی پی کاموازنہ کریں تو گزشتہ 15سال میں تقریباً ہم ڈیڈھ سے 200پروجیکٹ آف کمپلیٹ کر کے چھوڑ چکے ہیں اگر وہ اتنے اہم تھے جب پی سی ون بنتا ہے اور ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ پروجیکٹ نہیں بنا تو بلوچستان کا نقصان ہوگا اور ہم نے وہ ڈیڈھ سو پروجیکٹ جس پر اربوں روپے خرچ ہوچکا تھا وہ آج تک استعمال نہیں ہوئے ہیں بلوچستان کے سارے پہاڑ سونے کے ہوجائیں اگر ہمارے پاس مین پاور کی صلاحیت نہیں ہے تو ہم کبھی بھی استفادہ حاصل نہیں کرسکتے ہیں اس کی بڑی مثال ریکوڈک ہے اس کا جب معاہدہ ہوا بدقسمتی سے کسی نے بھی نہیں پڑا اس معاہدے میں اتنے بڑے فلاٹ تھے آخر میں کورٹ جارہے ہیں میں نے کہا کہ آپ کورٹ نہیں جائیں اور فیصلہ آپ کیخلاف آجائے گا میں ڈاکٹر ثمر مبارک سے ملاقات کی ان کو کہا کہ آپ کی بس کی بات نہیں ہے یہ بہت بڑا پروجیکٹ ہے جوآپ کی بجٹ 1لاکھ روپے ہیں اس میں 2اسکویٹر نہیں آسکتے ہیں تو انہوں نے ایک کمپنی بنائی اس میں 1.6ارب روپے خرچ کر کے 6مہینے میں بند کردیا پھر وکیل کو عالمی عدالت بھیجنے کا فیصلہ کیا میں نے انکار کردیا پھر وکیل کو1.3ارب روپے دیئے گئے تو عالمی عدالت نے یہی کہا کہ آپ لوگ آؤٹ آف کورٹ مذاکرات کریں جو میں پہلے کہہ چکا تھا کہ آؤٹ آف کورٹ مذاکرات کریں کاش اس معاہدے کو ٹیکنیکل اور باصلاحیت لوگوں سے پڑوھا یا جاتا تو آج ہمیں اتنا بڑا نقصان نہیں اٹھانا پڑتا تھا ہم جتنے کام کرتے ہیں وہ آف پیڈ کرتے ہیں اس میں اپنے طور پر تمام پہلوؤں پر غور نہیں کرتے ہیں بلوچستان کو ساتویں این ایف سی ایواڑڈ میں فائدہ ہوا بلوچستان میں 2لاکھ 70ہزار ملازمین ہیں بد قسمتی سے یہ واحد صوبہ ہے جس میں کوئی بھی کسی قسم کا ٹریننگ انسٹیٹیوٹ نہیں ہے انہوں نے کہا ہے کہ یہاں پر چھوٹے لیول سے لیکر بڑے لیول پر کسی کے پاس تربیت اور صلاحیت نہیں ہے جب میں سیکرٹری خزانہ تھا اس وقت پنشن کا ٹوٹل اخراجات 88کروڑ روپے تھا آج 26ارب روپے سے زیادہ بڑھ چکا ہے اور اسی طرح 2005-6میں پولیس لیویز کا بجٹ 7ارب روپے تھا آج 38ارب روپے ہوگیا ہے کیونکہ ہمارے اخراجات بڑھ چکے ہیں اور ہماری انکم نہیں ہے بلوچستان میں زیادہ انکم دینے والے مائنز اینڈ منرل اور دیگر شعبوں پر گزشتہ 15سال سے پی ایس ڈی پی دیکھیں اس پر کوئی اخراجات نہیں کئے گئے ہیں دوسرا 740کلو میٹر کا کوسٹ ہے اس میں بھی پچھلے 15سال سے کوئی پیسے نہیں رکھے ہیں توانکم نہیں آئیگی تو اخراجات بڑھے جائینگے اور ہم مقروض ہوجائینگے میں ہر جگہ کہتاہوں سی پیک فائدہ بھی ہے اور چیلنج بھی ہے گوادر پور ٹ بنے گا ہم نے تو اپنے نوجوانوں کو کوئی ٹریننگ بھی ابھی تک نہیں دیا ہم گوادر پورٹ کو کیسے چلائیں گے پنجاب اور سندھ نے ا پنے نوجوانوں کو چائنابھیج کر ٹریننگ دی ہمارے لوگوں کو سی پیک کے حوالے سے تمام تر اکنامکس کا علم ہی نہیں تھا اب اس گورنمنٹ نے اچھا کام کیاکہ یہاں سی پیک سیل قائم کر دیا بلوچستان میں پالیسی اور ویژن کا فقدان ہے لیڈر کے پاس ویژن ہونا چاہیے ہمارے پاس پبلک پالیسی بھی نہیں ہے اگر پالیسی نہیں دیں گے تو یہ نقصانات خطرناک حدتک چلیں جائینگے دنیاتیزی سے آگے جارہی ہے ہم وہی 170میں کھڑے ہیں گوادر کو لوگ کہتے ہیں سی پیک کے ماتھے کا جومر ہے وہاں پانی،سڑک سمیت بنیادی سہولیات نہیں ہیں جب میرے گھر سے گیس نکلے گا مجھے کیافائدہ ہورہا ہے اور نہ ہی اس علاقے کوفائدہ دیا جارہا ہے جہاں سے گیس نکلتا ہے بلوچستان میں ہر شعبے میں ماہرین ہیں مگر وہ بلوچستان میں نہیں ہیں 17گریڈ کاآفیسر زکوٰۃ کے مستحق ہیں لیکن ایک ڈی سی یا کمشنر قرآن بھی اٹھا کر بتائیں کہ میرا تنخواہ اتنی ہے تو کوئی یقین نہیں کرے گا ہم نے تعلیم کی قوانین کو بہتر نہیں کیااور ٹائم اسکیل دیدیا ہم نے جہاں سے ہڑتال یااحتجاج ہوتا ہے ان کو حقوق دیئے ہیں بلوچستان میں پنشن بنانے والے 3بوڑھے لوگ ہیں اگر وہ مرگئے تو پنشن نہیں بنے گی کیونکہ ہم نے کبھی تربیت ہی نہیں دی ہے دیگر ملازمین کو بلوچستان کے 90فیصد آفیسران کو (ای سی آر)لکھنے نہیں آتی ہے کیونکہ ہم نے کبھی بتا یا نہیں ہے کہ کیسی لکھی جاتی ہے پی سی ون جو بنیاد ہے پر وجیکٹ کا وہ شارع عدالت ایک دکان میں بنا کرتی تھی بلوچستان کی ترقی کیلئے تربیت دینا ضروری ہے ہم کرپشن کے پیچھے پڑے ہیں مگر دستخطوں کے ذریعے غلطیاں کرتے ہیں یہ کرپشن سے بھی زیادہ ہیں ہمیں نہیں پتہ کہ ایک دستخط سے کیا اثرات ہونگے ہم سوئے ہوئے تھے 1998میں اب جاکر پتہ چلا کہ کنٹریکٹ غلط ہوگیا ہے بلوچستان امیر صوبہ ہے لیکن موجودہ وسائل اس کے بہت کم ہیں اگر ہم مائنز اینڈ منرل مین پاور پر انسولیٹ کریں تو ہم باقی صوبوں کو پیسے دینے کے قابل ہوسکتے ہیں پاکستان میں 45قسم کی منرلزنکلتی ہیں جس میں 38منرلز صرف بلوچستان میں ہیں کولڈ سے گولڈ تک لیکن پھر بھی ہم غریب ہیں تو یہ ہمارا مقدر نہیں ہے یہ ہمارا پسند ہے کہ ہم نے اپنے آپ کوغریب رکھا ہے اس سرزمین میں مجھے نام دیا ہے اور میں نے اپنی خدمات بلوچستان کیلئے وقف کر دیئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں