خضدار کے مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے، آغا شکیل درانی
خضدار(انتخاب نیوز) بلوچستان عوامی پارٹی باپ کے مرکزی رہنماءآغاشکیل احمد درانی نے دیگر پارٹی رہنماو¿ں میر محمد آصف جمالدینی میر فیاض زنگی جوسردار عزیز محمد عمرانی سردار بلند خان غلامانی میراحمد گنگو کے ہمراہ پ±ر ہجوم پر یس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم خضدا رکے عوام کے سیاسی والی وارث ہیں اور عوام کو اس طرح واپڈا اور ضلعی انتظامیہ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے ہیں ہرمشکل مرحلے پر عوام کی رہنمائی اور نمائندگی کرتے ہوئے ان کے بازو بن کر انہیں مشکلات سے نجات دلانے کی آخری حد تک جدوجہد جاری رکھیں گے، خضدار میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ آئے روز جمپر کاٹنے اور بجلی معطل کرکے کیسکو نے عوام کو لاوارث سمجھ کر بے حد اذیت سے دوچار کردیاہے اورکیسکو کسی کے قابو میں نہیں آرہاہے، خضدار میں گزشتہ نصف ماہ کے دوران لینڈ مافیا نے سر اٹھا لیا ہے اور آشیر باد کے تحت سرکاری و عوامی زمینوں پر قبضے کے لئے پرتول رہا ہے جب کہ عوام کے جائز زمینوں پر انہیں تعمیر کی اجازت نہیں ایسا زیادہ دیر نہیں چل سکتا ہے پولیس او رلیویز عوام کو تحفظ دینے میں ناکام رہے ہیں۔عوام اور شہر کو نقصان دینے و ذاتی مفادات کی منصوبہ بندی کہا ں اور کس پیمانے پرکی جاتی ہے اس تما م صورتحال سے ہم با خبر اور اس پر ہماری گہری نظر ہے اصل حقائق کو اگلے پریس کانفرنس میں طشت از بام کردیں گے۔خضدار کے عوام کے ساتھ ہونے والے تمام ظلم و زیادتیوں اور عوام کو دیوار سے لگانے کے خلاف بھر پور اندازمیں تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے کیسکو اور ضلعی انتظامیہ کو 28دسمبر کی تاریخ کی مہلت دیتے ہیں اور مقررہ تاریخ تک مسائل حل نہیں ہوتے ہیں تواس کے بعد ہم اپنے آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کرکے سخت گیر تحریک چلانے کا اعلان کریں گے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آغا شکیل احمد درانی نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی ایک جمہوری و عوامی پارٹی ہے اور ہماری سیاست عوامی مفادات کے تابع ہے۔ہم سیاست کو عبادت سمجھ کر اپنے علاقے کی ترقی اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیئے جمہوری انداز میں آگے بڑھارہے ہیں۔ہم نے ہمیشہ عوام کے اجتماعی مسائل کو اہمیت دی ہے اور ہماری کوشش رہی ہے کہ ہم عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی و مسائل سے نجات دلانے کے لیئے اپنا کردار ادا کریں۔گزشتہ تین سالوں کے دوران تعلیم، صحت، آبنوشی، آمد و رفت، اسپورٹس اور بجلی جیسے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیئے ہم نے اپنی بساط کے مطابق بھر پور جدوجہد اور عملی اقدامات کیئے ہیں ہسپتال کی ادویات کا کوٹہ ڈھائی کررڑ روپے سے بڑھا کر پانچ کروڑ روپے کرادیا۔ آج ہم فخر کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خضدار سٹی سمیت ضلع بھر کے مختلف پسماندہ علاقوں میں اربوں روپے کے ترقیاتی اسکیمات مکمل کیئے جاچکے ہیں جبکہ ہماری تجویز کردہ متعدد اسکیمات اب بھی زیر تکمیل ہیں۔یقینا ان اسکیمات سے عوام کی معیار زندگی میں کسی حد تک بہتری آئی ہے لیکن عوام کو پریشانیوں سے نجات دلانے کے لیئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ہم نے حکومت میں رہ کر دن رات ایک کرکے خضدار ضلع کے عوام کی ترقی کے لیئے کام کیا اور اب بھی ہماری کوششیں جاری ہیں لیکن بطور ایک سیاسی جماعت ہم عوامی مسائل پر جشم پوشی اختیار نہیں کرسکتے۔آپ کے علم میں رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی خضدار کا ایک سینئر باڈی اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں بجلی کے حوالے سے درپیش موجودہ بحران اور اس حوالے سے عوامی مشکلات کا جائزہ لیا گیا۔ہم محسوس کرتے ہیں کہ واپڈا حکام کو خضدار کے عوام کی مشکلات کا احساس ہی نہیں۔ موسم سرما کے شروع ہوتے ہی طویل لوڈ شیڈنگ اور آئے روز جمپر کاٹنے اور بجلی معطل کرنے کے عمل میں اضافہ ہوا ہے جس سے نہ صرف تاجروں کو پریشانی کا سامنا ہے بلکہ گھریلو صارفین بھی اذیتوں سے دوچار ہیں۔ ماضی میں ٹرانسفارمرز کی کمی کی وجہ سے مسائل کا سامنا تھا زیادہ لوڈ کی وجہ سے ٹرانسفامرز بوجھ برداشت نہیں کرسکتے تھے۔گزشتہ تین سالوں میں ہم نے خضدار سٹی اور دیگر تحصیلوں میں ٹرانسفامرز کی کمی دور کرنے کی بھر پور کوشش کی اور کروڑوں روپے کی لاگت سے نئے ٹرانسفامرز کی فراہمی کو یقینی بنایا لیکن افسوس کا مقام ہے کہ واپڈا افسران و عملہ نئے ٹرانسفامرز کی انسٹالمنٹ میں مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں اور ہر قسم کے شرائط پوری کرنے کے باوجود آج بھی وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے کترارہے ہیں یا دانستہ طور پر راہ فرار اختیار کررہے ہیں،اسی طرح اگر امن و امان و جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا جائزہ لیا جائے تو گزشتہ چند ہفتوں سے ضلع بھر میں امان و امان کی صورتحال میں ابتری جبکہ جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر ڈاکہ زنی اور چوریوں کی وارداتوں میں خطرناک حد تک تیزی آئی ہے، گھروں میں گھس کر لوگوں کو ان کے قیمتی سامان سے محروم کیا جارہا ہے۔جرائم پیشہ عناصر کی وجہ سے لوگوں کے راتوں کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں لیکن مجال ہے کسی کو احساس ہو۔ اسی طرح انتظامی افسران کے تبادلے کے ساتھ ہی خضدار میں لینڈ مافیا کی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئی ہے جس پر خضدار کے عوام خاص طور پر بلوچستان عوامی پارٹی کے کارکنوں اور بہی خواہوں کو سخت تشویش ہے۔ سرکاری ہاوسنگ اسکیم ٹاون شپ کے الاٹیز اپنے پلاٹوں سے یا تو محروم کردیئے گئے ہیں یا انہیں تعمیرات شروع کرنے سے بلا جواز روکا جارہا ہے۔جائز و قانونی طریقے سے پلاٹ حاصل کرنے والے تعمیرات کے لیئے این او سی حاصل کرنے سے محروم ہیں لیکن دوسری طرف راتوں رات الاٹ شدہ پلاٹوں اور اسکیم کے لیئے مختص گلیوں و سڑکوں پر قبضہ کرکے بلڈنگیں کھڑی کی جارہی ہیں لیکن انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔اگر بسیمہ تا خضدار تعمیر ہونے والے N-30 کی بات کی جائے تو متاثرہ زمیندار طویل عرصے سے معاوضوں کی ادائیگی کے لیئے احتجاج کر رہے ہیں لیکن انہیں معاوضہ ادا نہیں کیا جارہا ہے۔حالانکہ نیشنل ہائی وے ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے معاوضوں کی ادائیگی کے لیئے ایک ارب روپے سے زائد کی رقم خضدار انتظامیہ کے حوالے کردیا گیا تھا۔ہم عوام میں سے ہیں اور یہ شہر اور یہ ضلع ہمارا ہے ہم اپنے لوگوں کو مشکل حالات میں تنہائ نہیں چھوڑ سکتے اور ہر حال میں عوامی نمائندگی کا حق ادا کرتے رہیں گے۔ہم ضلعی انتظامیہ، پولیس حکام اور واپڈا کے ایکسیئن کو مسائل کے حل اور بلوچستان عوامی پارٹی کے مطالبات پر عملدر آمد کے لیئے 28 دسمبر 2021 کی مہلت دیتے ہیں۔اگر ایک ہفتے کے دوران ہماری جائز مطالبات پر عملدر آمد نہیں کیا گیا تو بطور سیاسی جماعت عوام کی نمائندگی و ترجمانی کا حق ادا کرتے ہوئے ہم احتجاج کی راہ اختیار کریں گے اور عوام کے ساتھ مل کر احتجاج کے تمام پر امن و قانونی زرائع استعمال کریں گے۔


