2022کیسا گزرے گا؟

دنیااپنی ناکامیوں اور کامیابیوں کا سا ل کے آخر میں جائزہ کیا لیتی ہے۔کھویا کیا پایا پر بحث کی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی ہر شعبے کے ماہرین اپنا تجزیہ پیش کرتے ہیں۔عوام سے بھی رائے مانگی جاتی ہے۔حتیٰ کہ گھریلوں خواتین سے کچن کے مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے۔گزرے سال کی روشنی میں مستقبل کے بارے میں اندازے لگائے جاتے ہیں۔علم نجوم کے ماہرین بھی ستاروں کی چال دیکھ کر مستقبل کی ایک تصویر پیش کرتے مگر باربار یاد دلاتے ہیں کہ وہ ستاروں اثرات کے مطابق پیش گوئی کرتے ہیں،ان کے پاس غیب کا علم نہیں، غیب کا علم صرف اَللہ کے پاس ہے۔ایسا کہہ کر وہ اپنی پیشگوئی غلط ہونے کی گنجائش پیدا کر لیتے ہیں۔لیکن دیگر شعبوں کے ماہرین کی طرح ماہرین علم نجوم بھی کسی ایک رائے پر متفق نہیں۔عوامیمشکلات میں کمی آئے گی یا اضافہ ہوگا؟ اس حوالے سے بھی ایک گروپ کا خیال ہے کمی آئے گی جبکہ دوسرا کہتا ہے اضافہ ہوگا۔اس تناظر میں یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ سب نے فیصلہ عوام پر اور اَللہ پر چھوڑ دیا ہے۔صرف کورونا کے بارے اچھی خبر دی جارہی ہے کہ آئندہ سال اس کا خاتمہ ہو جائے گا اور اس کی حیثیت بھی نزلہ زکام جیسی ہوجائے گی، موجودہ رعب و دبدبہ جاتا رہے گا۔ تاہم اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کورونا نے تاریخ میں اپنا نام درج کرا لیا ہے۔دنیا کی معیشت کو بری طرح متأثر کیا، لوگوں کو گھروں میں قید رہنے پر مجبور کیا، اندرون ملک اور بیرون ملک ٹریفک نہ ہعونے کی سطخ تک آگئی۔حتیٰ کہ سعودی عرب نے حاجیوں اور عمرہ کے لئے آنے والوں کو منع کر دیا۔خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی میں بھی تمام پابندیاں نافذ کر دیں۔لوگ یہ تلخ یادیں دیر تک فراموش نہیں کر سکیں گے۔سال کا اغاز ہوتے ہی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لئے واضح پیغام ہے کہ مہنگائی میں کمی کے امکانات نہیں۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔سانس پر بھی ٹیکس لگانے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے تبصرہ کیا ہے:”حکمران سستے، عوام مہنگے ترین پاکستان میں رہتے ہیں، منی بجٹ سے معاشی گاڑی کا انجن سیز کر دیا ہے۔اسٹیٹ بینک بھی اب پاکستان کا آئی ایم ایف بن گیا ہے۔پی پی پی کی قیادت نے بھی ان سے ملتی جلتی رائے ظاہر کرتے ہو ئے کہا ہے:حکومت نے ساڑھے تین سو ارب کا منی بجٹ لاکر عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرا دیا ہے۔جون میں ایک اور بم گرنے والا ہے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خراب ملکی حالات کے پیش نظر بیرونی دباؤ پر ہر مطالبہ ماننا پڑ سکتا ہے۔ پی پی پی کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے:پی ٹی آئی کی نااہل اور نالائق حکومت کی وجہ سے عوام مشکلات سے دوچار ہیں۔اپوزیشن جب بھی احتجاج کرتی ہے، حکومت خواتین کو آگے کھڑا کر دیتی ہے۔ غالباً ان کا اشارہ قومی اسمبلی میں خواتین ایم این ایز کے درمیان ہونے والی ہاتھا پائی کی جانب تھا۔پی پی پی اپوزیشن کی مشاورت سے جلد ہی اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ دے رہی ہے۔پی ڈی ایم پہلے ہی 23مارچ کو لانگ مارچ کے اسلام آباد پہنچنے اور دھرنا دینے کا اعلان کرچکی ہے۔یہ اعلان بھی کیا ہے کہ دھرنا حکومت کی رخصتی تک جاری رہے گا۔گویا آئندہ سال بھی وہی کچھ کیا جائے گا جو گزشتہ تین ساڑھے تین برس کیا جائے گا۔حکومتی رد عمل بھی سابقہ سے مختلف نہیں۔پی ڈی ایم عملاً ٹوٹ چکا ہے۔پی پی پی اور نون لیگ ایک پیج پر نہیں۔ پی پی پی کا دعویٰ ہے آئندہ وزیر اعظم بلال بھٹو زرداری ہوں گے۔مسلم لیگ نون کو یقین ہے ان کی مقتدر حلقوں سے ڈیل ہو چکی ہے، ڈیل کے مطابق چوتھی بار وزیر اعظم نواز شریف بنیں گے۔خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نتائج سے بعض مبصرین جمیعت علمائے اسلام کی طرف ووٹرزکا جھکاؤ دیکھ کر سمجھ رہے ہیں سیاسی منظر تبدیل ہو رہا ہے۔عام تأثر ہے کہ پاکستان میں سیاست ابھی گھٹنوں کے بل چل رہی ہے۔بلوغت کو نہیں پہنچی،اس کے معنے یہی ہوتے ہیں کہ اس کی نفسیات ایکبچے جیسی ہے،جو ٹافی دکھائے اس کی انگلی تھام لیتی ہے۔وزیراطلاعات کہتے ہیں:”جو لوگ دعویٰ کرتے تھے پی ٹی آئی کے19اراکین ان کے ساتھ ہیں، دیکھ لیں ساری اپوزیشن حکومت کے ساتھ ہے“۔ ایسی غیر یقینی کیفیت کی موجودگی میں عوام کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ انتظار کریں،تیل دیکھیں اور تیل کی دھار دیکھیں۔خطے کے حالات31اگست2021کے بعد کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔چینی افواج لداخ میں نہ صرف موجود ہیں بلکہ اپنی آبادیاں تعمیر کر چکی ہیں،گوگل پر دیکھی جا سکتی ہیں۔افغانستان کی اقتصادی مشکلات حل کرنے کی مذمہ داری اقوام متحدہ کو سونپ دی گئی ہے، ایک ارب ریال سعودی عرب نے دیئے ہیں۔ انسانی المیہ رونما ہونے کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے دفاعی بجٹ میں کئے گئے تازہ اختصاص سے یہی اشارہ ملتا ہے امریکہ نے کابل انخلاء سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ پاکستان کے مشرق میں حکومت اپنے اراکین سے مسلم کشی کے حلف اٹھوا رہی ہے۔ایسے مناظر دیکھ کر پر امن مستقبل کی فوری توقع عقل سے بعید ہے۔یہ بھی یاد رہے کہ خود کشی کرنے کے لئے عقل کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ہٹلر کا مزار نہیں تعمیر ہوا۔مورخین کا خیال ہے اس نے مورچے میں خود کشی کر لی تھی۔مشرقی ہمسایہ حکومت نے ہٹلر کی شاندار اٹھان دیکھی ہے، اس کاعبرت ناک انجام نہیں پڑھا۔اس خطے میں آگ کے شعلے بڑھکانے کی منصوبہ بندی کوئی عقلمند شخص نہیں کر سکتا۔ایک ارب سے زائد آبادی سماجی اور اقصادی مشکلات سے دوچار ہے۔نصف سے زائد کو رفع حاجت کے لئے کھلے آسمان تلے جانا پڑتا ہے۔مہذب انسانوں کے لئے یہ منظر افسوس ناک ہے۔دوسری جانب پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ اور ممبر قومی اسمبلی رمیش کمار وانکوانی یہ خوشخبری سنا رہے ہیں کہ سال نو کے آغاز پر پاکستان اور بھارت میں مذہبی سیاحت کا آغاز ہورہا ہے۔پہلے مرحلے میں 200ہندو یاتری صوبہ خیبر پختونخوا میں واقع شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی/ٹیری مندر کی یاترا کے لئے دبئی سے ایمریٹس ایئر لائن کی پرواز سے پشاور پہنچ رہے ہیں.،اس ضمن میں پی آئی اے سے معاہدہ پر دستخط ہو گئے تھے مگر بعد میں بھارتی حکومت نے پروگرام تبدیل کر اور یاتری واہگہ کے راستے پہنچیں گے۔دریں اثناکہا جا رہا ہے کہ پاکستان ہندو کونسل کی جانب سے یاتریوں کی آمد و رفت کے لئے ایئر انڈیا سے تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔اور اسی طرح پاکستان سے مسلم زائرین بھارت میں واقع درگاہ نظام الدین اولیاء (دہلی)، اور درگاہ خواجہ غریب نواز(اجمیر شریف) جائیں گے۔ اسی طرح ہندو یاتری پاکستان میں واقع دیگر سمادھیوں کی یاترا کر سکیں گے۔یاد رہے برصغیر سمیت خطے کے عوام کوامن، ترقی اور خوشحالی کی ضرورت ہے، مثبت اقدامات کو فروغ دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں