جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ کا جج نامزد کرنے کی سفارش

اسلام آباد:جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس عائشہ ملک کو چار کے مقابلے میں پانچ ووٹوں سے سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج نامزد کرنے کی سفارش کردی ہے۔ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن کااجلاس گزشتہ روز سپریم کورٹ بلڈنگ میں چیئرمین جوڈیشل کمیشن چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں منعقد ہوا اجلاس میں لاہور ہائی کورٹ کی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج نامزد کرنے کاایجنڈا زیر بحث ہونا تھا کمیشن ممبران نے جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج لگانے کیلئے چار کے مقابلے میں پانچ ووٹوں کی برتری سے نامزدگی دے دی ہے واضح رہے کہ ملک بھر کی وکلاء تنظیموں کی طرف سے قبل ازیں اسی ایجنڈے پر بلائے گئے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی تحریک کی کال دی تھی جس پر گزشتہ اجلاس پر جسٹس عائشہ ملک کی بطور سپریم کورٹ جج تقرری کی سفارش نہیں کی جاسکی بعد ازاں چیف جسٹس آف پاکستان نے چھ جنوری کو بلائے گئے اجلاس میں ایک بار پھر جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج لگانے کا معاملے زیر غورلایا گیا۔اس موقع پر بھی وکلاء تنظیموں نے ملک بھر کی عدالتوں سے بائیکاٹ کی کال دے رکھی تھی اور جمعرات کو بھی سپریم کورٹ سمیت دیگر ماتحت عدالتوں میں وکلاء کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔جمعرات دوپہر کو منعقدہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے اختتام کے بعد معتبر ذرائع نے یہ خبر دی ہے کہ اب کمیشن کی طرف سے جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج لگانے کی منظوری دے دی ہے یہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ خاتون جج سپریم کورٹ آف پاکستان میں بطور جج نامزد ہوئیں ہیں جبکہ وکلاء تنظیموں کا موقف ہے کہ جسٹس عائشہ ملک جو سنیارٹی میں چوتھا نمبررکھتی ہیں کی بطور جج سپریم کورٹ نامزدگی خلاف قانون ہے جس کیخلاف پاکستان بار کونسل سمیت تمام وکلاء تنظیمیں سراپا احتجاج ہیں۔وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون کی سپریم کورٹ کے جج کے طور نامزدگی بابت جوڈیشل کمیشن کا فیصلہ تاریخی ہے۔کمیشن اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جسٹس عائشہ ملک کی بطور جج سپریم کورٹ نامزدگی کے لئے 9 میں سے پانچ ووٹ ان کے حق میں آئے۔ چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس ر سرمد جلال عثمانی، وزیر قانون اور اٹارنی جنرل نے حمایت کی۔پاکستان بار کونسل کے سنیارٹی سے متعلق اصول بابت سوال پر وزیر قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے اس حوالے سے موجود ہیں۔سپریم کورٹ قبل ازیں اپنے فیصلوں میں واضح کرچکی ہے کہ ہائیکورٹ کے جج کی سپریم کورٹ میں تقرری پر سنیارٹی اصول مطلق نہیں۔ اگر کسی کو اعتراض ہے تو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نظر ثانی کرائے۔ ایک سوال کے جواب میں فروغ نسیم نے بتایا کہ کمیشن ممبران جنہوں نے جسٹس عائشہ ملک کی مخالفت کی ان کا مقف ہے کہ طریقہ کار وضع کرکے اجلاس بلانا چاہیے۔
دوسراانٹرو
حب (نمائندہ انتخاب)جسٹس عائشہ اے ملک کی سپریم کورٹ تقرری کے معاملے پر پاکستان بار کونسل کی اپیل پروکلا ء نے جمعرات کو ملک گیر عدالتی بائیکاٹ کیا حب میں وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے پاکستان بار کونسل کے مطابق 3 جنوری کو پاکستان بار کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں سپریم کورٹ بار، ہائیکورٹ بارز اور تمام صوبائی بار کونسلز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں وکلا ء نے اتفاق کیا کہ وکلا ملک میں عدلیہ کی آزادی اور حقیقی جمہوریت کے لیے پرعزم ہیں۔وکلا نے اجلاس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ وکلا جوڈیشل کمیشن اور عدلیہ کا مکمل احترام کرتے ہیں تاہم بارز سنیارٹی کے اصول کے بھی ساتھ کھڑے ہیں، عدلیہ کی جانب سے سنیارٹی کے اصول سے انحراف کرنے سے نہ صرف بار اور بینچ کے درمیان فاصلے بڑھیں گے بلکہ یہ عمل عدلیہ میں بھی بے چینی کا باعث بنے گا۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ تقرری کے عمل میں لاہور ہائی کورٹ اور چیف جسٹس کو نظر انداز کرنے کے عمل کو سنجیدگی سے لیتی ہے، خاص طور جب ان ججز کی قابلیت اور اہلیت پر کوئی سوال بھی نہیں۔اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ بارز اعلی عدلیہ میں ججز تقرریوں کے عمل کے لیے قواعد و ضوابط بنانے کے لیے مسلسل زور ڈال رہی ہے، اس عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز جس میں بار اور بینچ شامل ہیں، ان کی مشاورت سے ججز تقرری کے قواعد و ضوابط بننے چاہیے۔اجلاس میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کا اپنا طے کردہ اصول ہے جس کے مطابق ریٹائرمنٹ کے قریب کسی چیف جسٹس کو ججز تقرری کے عمل میں نہیں آنا چاہیے اس لیے چیف جسٹس، جسٹس عائشہ اے ملک کی تقرری کے لیے بلائے گئے اجلاس کو فوری واپس لیں۔دریں اثنا اجلاس میں سپریم کورٹ سے لے کر تمام عدالتوں کے 6 جنوری کے بائیکاٹ کے فیصلے کی روشنی میں حب میں بھی وکلاء نے عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں