الیکشن کمیشن کا الیکٹرانیک ووٹنگ مشینوں کی خریداری کیلئے بین الاقوامی سطح پر ٹینڈرنگ پراسس شروع کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے الیکٹرانیک ووٹنگ مشینوں کی خریداری کیلئے بین الاقوامی سطح پر ٹینڈرنگ پراسس شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،کمیشن نے ای وی ایم سے متعلق تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت شروع کرنے اور ان کے تجرباتی بنیادوں پر استعمال کے حوالے سے بھی اقدامات شروع کردئیے ہیں۔بدھ کے روز الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں منعقد ہوااجلاس میں ممبران الیکشن کمیشن کے علاوہ سیکرٹری الیکشن کمیشن ودیگر سنیئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور اووسیز ووٹنگ کے حوالے سے بنائی گئی تین کمیٹیوں نے اپنی رپورٹس الیکشن کمیشن میں پیش کیں اس موقع پر سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اس بارے میں الیکشن کمیشن کو بریف کیا۔الیکشن کمیشن کو ای وی ایم کی خریداری سے لے کر استعمال تک کے تمام مراحل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔مزیدالیکشن کمیشن کو بتایاگیا کہ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے قیام کی منظوری ہوگئی ہے اور اس سلسلے میں تین افسروں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں جس پر الیکشن کمیشن نے رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیااور فیصلہ کیا کہ پائلٹ پراجیکٹ کے لئے مشینوں کی خریداری کے لئےRFP اور ٹینڈرنگ پراسس کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے او ر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی خریداری سے متعلق تمام قواعد وضوابط و قوانین کو مد نظر رکھاجائے اور تمام پراسس و مراحل کو مد نظر رکھتے ہوئے مشین کی کوالٹی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ عمل مکمل کیا جائے۔ مزید اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ اس سلسلے میں تمام سٹیک ہولڈر ز کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا جائے اور انہیں اعتماد میں لیا جائے گا مزیدمشینوں کی پائلٹ ٹیسٹنگ بھی کی جائے گی۔ اووسیزووٹنگ کے حوالے سے کمیٹی نے الیکشن کمیشن کومزید قانون سازی کی ضرورت کے ساتھ چار تجاویز پیش کیں اس کے علاوہ اووسیز پاکستانیوں کے لئے علیحدہ الیکٹورل کالج کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے الیکشن کمیشن کوبتایا گیا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی خریداری کے مختلف مراحل اور اس پر آنے والے اخراجات سے متعلق تقریباً مبلغ 258ارب روپے ہے مزید انکی سٹوریج اورانتخابات کے دوران پولنگ سٹیشنوں پر ترسیل کے حوالے سے مشکلات اور مراحل پر بریفنگ دی گئی۔ مزید الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سے متعلق مزید قانون سازی کی ضرورت پربھی بریف کیا گیا۔


