کراچی ملیرپولیس کی چڑھائی، گوٹھ محمد گبول نذر آتش

ملیر (نامہ نگار) پورٹ قاسم انتظامیہ محکمہ ریونیوکے افسران کا پولیس اور رینجرز اہلکاروں کے ہمراہ قدیمی گوٹھ محمد گبول پر دھاوا،مکینوں پر بدترین تشدد،جبری طور پر گھر مسمار کرنے کے بعد پورے گوٹھ کو آگ لگا دی گئی،مزاحمت کرنے پر مرد و خواتین زخمی حالت میں گرفتار،علاقہ مسلسل چار گھنٹے میدان جنگ بنا رہا،اہلکاروں نے صحافیوں کو کوریج سے روکتے ہوئے تشدد اور بدتمیزی کی اور کیمرے چھین لئے،مذکورہ گوٹھ پر کاروائی ہم نے نہیں کی،ڈی سی ملیر کے حکم پر کاروائی کی گئی ہمارے اہلکار صرف موجود تھے،پورٹ قاسم انتظامیہ،صدیوں سے آباد ہیں گوٹھ کی صورتحال پر عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے دستاویزات بھی موجود ہیں زمین فروخت نہیں کی نہ ہی متبادل جگہ ملی ہے مسلسل کاروائیوں کے بعد آج کی کاروائی نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے عورتوں پر تشدد انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے مکینوں کی صحافیوں سے گفتگو تفصیلات کے مطابق نیشنل ہائی وے کے قریب پورٹ قاسم حدود میں واقع قدیمی گوٹھ محمد خان گبول پر گذشتہ روز صبح سویرے پورٹ قاسم انتظامیہ، محکمہ ریونیو کے افسران کا پولیس اور رینجرز اہلکاروں کے ہمراہ اچانک دھاوا اہلکاروں نے پورے گوٹھ کو گھیرے میں لیکر مکینوں جن میں خواتین اور معصوم بچے شامل تھے اندھا دھند فائرنگ اور لاٹھی چارج شروع کردیا جس کے جواب میں مکینوں نے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار اور خواتین سمیت بچے اور بزرگ شدید زخمی ہوکر گر پڑے جنہیں اہلکاروں نے بڑی تعداد میں گرفتار کرکے تھانے منتقل کیا بعد ازاں اہلکاروں نے جبری طور پر مکینوں کو بے دخل کرکے پورے گوٹھ کو آگ لگا دی اس موقع پر عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پورٹ قاسم اور پولیس اہلکار مکینوں کی بکریاں، بھیڑیں و دیگر مویشی گاڑیوں میں ڈال کر لے گئے دوران کاروائی پورا علاقہ مسلسل چار گھنٹے تک میدان جنگ بنا رہا واقع کو کوریج کرنے کے لئے پہنچنے والے منظور سولنگی،سجاد علی شاہ،عنایت شاہ، شہزادو مستوئی و دیگر صحافیوں کو اہلکاروں نے لاٹھیاں ماریں بدتمیزی کی کوریج سے روکنے کے لئے کیمرہ چھین لئے جس پر صحافیوں نے شدید احتجاج کیا اطلاع پر علاقے کے سماجی رہنما خداڈنو شاہ،فیض ھیسبانی و دیگر رہنما پہنچے جنہوں نے کاروائی کے طریقے کار پر شدید احتجاج کرتے ہوئے تنقید کی انہوں نے کہا پولیس کو گھروں میں آگ لگانے اور غریب محنت کشوں کی بھیڑ،بکریاں اٹھانے سے روکا گیا لیکن اہلکاروں نے ایک نہ سنی اس موقع پر جب پورٹ قاسم انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا تو ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ زمین پورٹ قاسم کی ملکیت ہے تاہم آج کی کاروائی ہم نے نہیں کی ڈی سی ملیر کے حکم پر کاروائی کی گئی ہے جب کہ ہمارے اہلکار صرف موجود تھے اس سلسلے میں گوٹھ کے مکینوں محمد خان گبول، حاجی بابو گبول، جانی گبول،خالق گبول،حاجی محمد گبول، ماسی رقیہ،مسمات پندا گبول نے صحافیوں کو بتایا کہ صدیوں سے آباد ہیں گوٹھ کی صورتحال پر عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے دستاویزات بھی موجود ہیں ہم نے زمین فروخت نہیں کی نہ ہی ہمیں متبادل جگہ ملی ہے مسلسل کاروائیوں کے بعد آج کی کاروائی نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے عورتوں پر تشدد انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری،وزیر اعلی سندھ مرادعلیٰ شاہ،ڈی جی رینجرز،آئی جی سندھ و دیگر حکام کو پورٹ قاسم انتظامیہ اور پولیس کی بربریت کے خلاف قانونی کاروائی کرکے ان کے گوٹھ کو بحال کرکے نقصان کا ازالے کی اپیل کی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں