لندن ٹارگٹ کلر احمد وقاص گورایا کے گھر گیا، چاقو بھی خریدا، پراسیکیوشن کے دلائل

لندن:محمد گوہر خان نے روٹرڈیم جانے کے لیے کئی کوششیں کیں اور اپنے نیدرلینڈز کے دورے کے دوران جلا وطن بلاگر احمد وقاص گورایا کے گھر اور ان کے مقام کی تلاش کے دوران ایک چاقو بھی خریدا۔میڈیارپورٹس کے مطابق گوہر خان نے مبینہ طور اپنے پاکستان میں موجود مڈل مین سے، جس نے مبینہ طور پر اس کو قتل کے منصوبے کے لیے اجرت پر رکھا تھا، بلاگر کی شناخت اور اس کی رہائش سے متعلق مزید معلومات دینے کا کہا۔ٹرائل کے دوسرے روز جس میں گوہر خان پر قتل کی سازش کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے، پراسیکیوشن نے ایک بار پھر جیوری کے سامنے دلائل دیے کہ مدعا علیہ نے وقاص گورایا کے قتل کی منصوبہ بندی کی۔گوہر خان نے عدالت سے الزامات سے بری کرنے کی درخواست کی اور کہا کہ وہ 80 ہزار پاؤنڈ کی رقم لینا چاہتا تھا لیکن اس کا بلاگر کو قتل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ٹرائل کے دوران گوہر خان کی موبائل فون میسجز کے ذریعے پاکستان میں موجود موڈز، زیڈ یا پاپا نامی مڈل مین سے بات چیت کی لرزہ خیز تفصیلات سامنے آئیں۔پراسیکیوشن کی جانب سے فراہم گئے ثبوت گوہر خان کی صرف ایک تصویر اور پتہ فراہم کرنے پر مایوسی اور مزید رقم کا تقاضا کرنے کو ظاہر کرتے ہیں۔مڈز مزید معلومات فراہم نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ مزید معلومات جمع کرنا ہی کام کا 75 فیصد حصہ ہے۔روٹرڈیم کے دورے کے دوران جب گوہر خان کو اس کے دو رابطہ کار مزید معلومات نہیں دے پائے تو بات چیت کے دوران ایک موقع پر گوہرخان نے بلاگر کے گھر پر ڈکیتی کی کوشش کا ڈرامہ کرنے کی تجویز دی۔ایک اور موقع پر بات چیت کے دوران گوہر خان نے مڈز سے کہا کہ ہمیں کیسے پتا چلا کہ اس پتے پر اگر پاکستانی خاندان رہائش پذیر ہے تو وہ کون ہے؟مڈز نے گوہر خان کو کہا کہ وہ اپنے ایک رابطہ کار، جو کہ وقاص گورایا سے متعلق کافی معلومات رکھتا ہے، اس سے ملے مگر مزید معلومات کی توقع نہ رکھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں