شمالی کوریا: کم جونگ کی ٹرین سیٹلائٹ سے نظر آ گئی، صحت پر قیاس آرائیاں جاری

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے لیے مخصوص ریل گاڑی گزشتہ ایک ہفتے سے ملک کے مشرقی ساحل پر موجود ہے۔ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے تصاویر سے ریل گاڑی کے اس مقام پر موجود ہونے کی تصدیق ہوئی۔یہ تصاویر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب شمالی کوریا کے سربراہ کی صحت کے حوالے سے کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں تاہم ان تصاویر کے سامنے آنے سے کم جونگ ان کی صحت کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔یہ تصاویر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب شمالی کوریا کے سربراہ کی صحت کے حوالے سے کئی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں تاہم ان تصاویر کے سامنے آنے سے کم جونگ ان کی صحت کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔امریکی خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کی رپورٹ کے مطابق کم جونگ ان کی ریل گاڑی کی تصاویر شمالی کوریا پر نظر رکھنے والی ایک ویب سائٹ ’23 نارتھ’ نے جاری کی ہیں۔دوسری جانب جنوبی کوریا کے خفیہ ادارے کی رپورٹس کے مطابق کم جونگ ان شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں موجود نہیں ہیں۔جنوبی کوریا متواتر اس جانب اشارہ کر رہا ہے کہ یہ تمام غیر معمولی شواہد ہیں جو کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی خراب صحت کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔شمالی کوریا کے سربراہ کے حوالے سے اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب وہ دو ہفتے قبل 15 اپریل کو اپنے دادا اور شمالی کوریا کے بانی کم اِل سونگ کی 108ویں سالگرہ کی تقریب میں نظر نہیں آئے۔کم جونگ ان اپنے خاندان کی تیسری نسل ہے جو کہ شمالی کوریا پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ 2011 میں ملک کا سربراہ بننے کے بعد کبھی بھی وہ اپنے دادا کم اِل سونگ کی سالگرہ کی تقریب سے غیر حاضر نہیں رہے۔شمالی کوریا کے سربراہ کی صحت کا معاملہ اس لیے بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہے کیوں کہ ان کی صحت کی زیادہ خرابی یا موت سے جوہری ہتھیاروں کے حامل ملک میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ کم جونگ ان کو شمالی کوریا میں دیوتا کی طرح مانا جاتا ہے۔’اے پی’ کے مطابق جنوبی کوریا کے کئی ماہرین نے کم جونگ ان کے بہت زیادہ بیمار ہونے کی قیاس آرائیوں کو غیر اہم قرار دیا ہے۔جنوبی کوریا کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر کم جون ان حکمرانی کے قابل نہیں بھی رہتے یا ان کی موت ہو جاتی ہے تو بھی شمالی کوریا کو فوری طور افراتفری کا سامنا نہیں ہوگا کیوں کہ کم جونگ ان کی بہن کم یوو جونگ فوری طور پر تمام معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیں گی۔ تاہم شمالی کوریا کا سیاسی مستقبل کیا ہو سکتا ہے یہ واضح نہیں ہے۔


