اپوزیشن کا سینیٹ میں نیشنل سیکیورٹی پارلیسی ایوان بالا میں پیش کرنے کامطالبہ

اسلام آباد:اپوزیشن نے سینیٹ میں نیشنل سیکیورٹی پارلیسی ایوان بالا میں پیش کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی پر پارلیمان اورصوبوں کواعتماد میں نہیں لیاگیاغیرمنتخب افراد نے پالیسی مرتب کی ہے۔قائد ایوان سینیٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ نیشنل سیکیورٹی پالیسی پر اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا،نیشنل سیکیورٹی پالیسی ایوان میں پیش کریں گے۔چیئرمین سینیٹ نے پشاور میں قتل ہونے والے عالم عبدالرحیم رحمتی پر آئی جی کے پی کے سے رپورٹ طلب کرلی۔سینیٹ کا اجلاس جمعہ صبح10بج کر 30منٹ تک ملتوی کردیاگیا۔منگل کوسینیٹ کااجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہو۔وقفہ سوالات کے بعد سینیٹ میں مختلف کمیٹیوں کی 9 رپورٹیں ایوان میں پیش کرنے کی مدت میں 60دن کی توسیع کی منظوری دی گئی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمدخان نے ایوان بالا میں سفارتی وقونصلر افسران (حلف وفیس)ترمیمی آرڈیننس2021اور اسلام آبادکیپیٹل ٹیرٹری ٹرسٹ ترمیمی آرڈیننس2021ایوان میں پیش کیا۔عوامی اہمیت کے مسائل پر بات کرتے ہوئے سینیٹرکامران مرتضیٰ نے کہاکہ ژوب میں ریڈیو سٹیشن خراب ہوگیا ہے ٹرانسمیٹر تبدیل نہیں کیا گیا ہے ریڈیو سٹیشن کی زمین پر لوگوں کی نظر ہے وہاں سے ملازمین کو دوسرے علاقوں میں ٹرانسفر کیا جارہاہے۔ اس معاملہ کودیکھاجائے اس کے ساتھ اسلامی یونیورسٹی میں بلوچستان طلبہ کے ساتھ ذیاتی ہورہی ہے دونوں معاملوں کو متعلقہ کمیٹی کو بھیج دیا جائے جس پر چیئرمین سینیٹ نے دونوں معاملوں کومتعلقہ قائمہ کمیٹی کوبھیج دیاگیا۔سینیٹرمشتاق احمد نے کہاکہ پشاور میں عبدالرحیم رحمتی کو شہید کیا گیا پشاور شہر میں قتل ہوئے ہیں معتدل علماء قتل ہورہے ہیں۔ پشاور میں سوگ ہے بتایا جائے یہ قاتل کہاں ہیں اس پر رپورٹ لی جائے جس پر چیئرمین سینیٹ نے آئی جی کے پی کے سے رپورٹ طلب کرلی۔سینیٹرمشتاق احمد نے کہاکہ بلوچستان مسنگ پرسنگ کے پاس حکومت جائے ان کے مسائل حل کئے جائیں پریس کلب کے سامنے دھرنہ دیا ہواہے ان کی آواز سنی جائے۔ساجد میر نے بھی پشاور میں قتل ہونے والے عالم کامعاملہ اٹھایا۔سابق چیئرمین سینیٹ میان رضا ربانی نے کہاکہ پاکستان میں پارلیمانی حکومت قائم ہے نیشنل سیکورٹی پالیسی میں پارلیمان اور صوبوں کو عتماد میں نہیں لیا گیا۔اس کے کچھ نکات پبلک کئے ہیں۔آج تک یہ پالیسی ایوان میں نہیں آئی ہے۔صوبوں کی رائے نہیں ہے سول سوسائٹی کی رائے اس میں شامل نہیں ہے ریاست کو یہ حق نہیں دے سکتے کہ غیر منتخب لوگ نیشنل سیکیورٹی پالیسی مرتب کریں اور پارلیمان کو اعتماد میں نہ لیا جائے نیشنل سیکیورٹی پالیسی کو ایوان میں پیش کیا جائے۔ قائد ایوان سینٹرشہزاد وسیم نے کہاکہ آج تک کسی حکومت نے نیشنل سیکورٹی پالیسی نہیں دی ہے۔ہر قسم کی پالیسی دی گئی مگر سیکورٹی پالیسی نہیں دی گئی یہ عمران خان کو عزاز جاتا ہے۔نیشنل پالیسی بناتے ہوئے سب کو بلایا گیا مگر وہ نہیں آئے اپوزیشن نے بائیکاٹ کیا۔وہ اب پبلک کردی گئی ہے۔دفاع کمیٹی میں بھی اس ہر بات ہوئی ہے پارلیمان کو اہمیت دیتے ہیں دفاعی کمیٹی میں بھی اس کو پیش کریں گے ہم ضرور ایوان میں نیشنل سیکورٹی پالیسی پیش کریں گے۔جس کے بعد اجلاس جمعہ صبح10بج کر 30منٹ تک ملتوی کردیاگیا۔(م۔ا)

اپنا تبصرہ بھیجیں