ڈیرہ مراد جمالی،روڈ ٹھیکیداروں کے پاس مشینری نہیں،کام سست روی کا شکار
ڈیرہ مراد جمالی :نصیرآبادکے سب سے بڑے میگا پراجیکٹ فیض روڈ کے ٹھیکیدار کے پاس بھاری مشینری نہ ہونے کی وجہ سے کام سست روی کا شکار منصوبہ کیلئے وزیراعلی بلوچستان نے خصوصی پیکج ایک ارب 35کروڑ روپے کے فنڈز فراہم کیئے تھے بننے والی ڈیرہ مراد جمالی تا فیض آباد روڈ کے ٹھیکیدار کے پاس انجینئرنگ کونسل کے معیار کے مطابق بھاری ویبٹر مشنین بھاری ڈوز نہ ہونے کی وجہ سے کام کا معیار مواصلات وتعمیرات کی ہدایت پرنہ ہونے کا انکشاف وقت سے پہلے روڈ کے اکھڑنے کا خطرہ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر ریونیو سکندر خان عمرانی اور صوبائی وزیر آبپاشی حاجی محمد خان لہڑی کی کوشیشوں سے سابق وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان نے ڈیرہ مراد جمالی تا فیض آباد روڈ کی تعمیر کیلئے اپنے خصوصی فنڈز سے ارب 35کروڑ روپے جاری کیئے تھے ٹھیکیدار کے پاس انجینئرنگ کونسل کے معیار کے مطابق بھاری مشینری ویبٹر مشنین بھاری ڈوز اور ارتھ ورک کو جمانے کیلئے جدید مشینری اور ماہر انجینئر قابل ٹیم نہ ہونے کی وجہ سے کام کا معیار مواصلات وتعمیرات کی ہدایت کے مطابق نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے چھوٹی مشینری چھوٹے ڈوزروں سے کام کیا جارہا ہے ماہر انجینئروں کے مطابق ڈیرہ مرادجمالی تا فیض آباد کی تعمیر کیلئے جس طرح سے بلوچستان حکومت فنڈز دے رہی ہے کام اس کے مطابق پچاس فیصد بھی معیاری نہیں ہے قومی امکان ہے کہ وقت سے پہلے روڈ کے اکھڑنے کا خطرہ ہے جس سے بلوچستان حکومت کے کروڑوں روپے غیر معیاری کام کے نظر ہونے کا خدشہ ہے نصیرآباد کے عوامی حلقوں نے وزیراعلی بلوچستان چیف سیکریڑی بلوچستان صوبائی وزیر ریونیو سکندر خان عمرانی اور صوبائی وزیر آبپاشی حاجی محمد خان لہڑی سیکریڑی مواصلات وتعمیرات ایکس ای این نصیرآباد بشیراحمد ناصر اور ڈپٹی کمشنر نصیرآباد اظہر شہزاد سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔


