لیویز فورس کے انضمام کے تجربات ناکام ہوچکے ہیں،مولانا عبد الواسع

کوئٹہ:جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبد الواسع نے لیویز فورس کو پولیس میں انضمام کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ لیویز فورس کے انضمام کے تجربات ناکام ہوچکے ہیں زمینی حقائق کے برعکس جابرانہ فیصلوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی اس سے پہلے بھی اس قسم کے غیر معروف اور غیر مقبول فیصلے کے نتائج منفی آئیں گے لیویز پولیس انضمام کو تمام جمہوری جماعتوں نے پہلے بھی مسترد کیا تھا انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے2003ء میں لیویز فورس کے خاتمے اور مختلف اضلاع میں رد وبدل کا فیصلہ کیا جس کے بعد صوبے کی تمام سیاسی و جمہوری جماعتوں نے یک آواز ہوکر احتجاج کیا اور تحریک کا ا?غاز کردیا جس کے بعد حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا اور لیویز فورس بحال ہوگئی اس کی بحالی میں جمعیت علماء اسلام کا اہم کردار رہا اور بعد ازاں 2010ء میں لیویز ایکٹ صوبائی اسمبلی نے متفقہ طورپر منظور کیا اس ایکٹ کے بعد اب حکومت کسی نوٹیفکیشن یا ایگزیکٹیو آرڈر کے ذریعے لیویز فورس کو ختم نہیں کرسکتی انہوں نے کہا کہ لیویز فورس کی کارکردگی پولیس سے حد درجہ بہتر ہے حالانکہ لیویز صوبے کے90فیصد رقبے کو کنٹرول کرتی ہے جبکہ پولیس محض10فیصد رقبے کی سکیورٹی پر مامور ہے پولیس فورسز اور لیویز وفورسز کے بجٹ میں زمین وآسمان کا فرق ہے اور اسی طرح پولیس کا ایک سپاہی 0.86کلو میٹر کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ لیویز کا ایک سپاہی13کلو میٹر کے کنٹرول پر مامور ہے۔ اس کے باوجود جرائم کا تناسب پولیس کی نسبت لیویز کی عملدار ی والے علاقوں میں کم ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے اس سے قبل بھی لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کے تجربے ہوئے لیکن سود مند ثابت نہیں ہوئے جنرل پرویز مشرف کے دور میں لیویز کوپولیس میں ضم کردیا گیا لیکن اس دوران امن وامان کی صورتحال خراب ہوئی انہوں نے کہا سابقہ قرارداد کی روشنی میں موجودہ حکومت انضمام کے فیصلے سے باز رہے ورنہ اس کے منفی نتائج کی ذمہ دار حکومت ہوگی کیونکہ لیویز فورس کی کارکردگی بہتر ہے ان کی حیثیت کے خاتمے سے پہلے کی طرح بدامنی میں میں اضافے کا خدشہ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں