امریکہ روس کے خلاف حالت جنگ میں
امریکہ بڑی تیزی سے روس کے خلاف ایک جنگی محاذ تیار کرنے میں مصروف ہے۔اس مقصد کے لئے اس نے یوکرین کا انتخاب کیا ہے،اس کے ساتھ ہی وہ چین کے خلاف بھی ایک چار رکنی بلاک بنانے کی کوشش کر رہا ہے جس میں اسے تاحال کوئی نمایاں کامیابی نہیں ہوئی۔البتہ آسٹریلیا کوایٹمی آبدوز فروخت کرنے کے معاہدے کی بناء پر اس نے اپنی اتحادی فرانس کو ناراض کرلیا ہے۔اس کے علاوہ جین کی سمندری حدود میں چند روز پہلے اس کی ایک آبدوز ”حادثے“کا شکار ہو کر غرقاب ہوگئی تھی۔ جبکہ ایک روز قبل ایسے ہی ایک ”حادثے“ میں اس کا لڑاکاطیارہ F-35 بھی چہینیسمندری حدود میں پانی کی گہرائی میں جا چکا ہے۔ واضح رہے چین نے امریکہ کو اپنی سمندری یا فضائی حدود میں فوجی نقل و حمل پر زیرو ٹالرنس کی وارننگ پہلے ہی جاری کر رکھی ہے۔چین نے روس پر حملے کو بھی چین پر حملہ قرار دے رکھا ہے۔ادھر یوکرین نے بھی امریکی مداخلت پر ناپسندیدگی کا اظہار کیاہے۔ ادھی میڈیا پر ایسی اطلاعات بھی گردش میں ہیں کہ نیٹو ممالک نے بھی امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ گویا امریکہ کے پرانے اتحادی بھی کسی نئی محاذ آرائی کی صورت میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیں گے۔امریکہ میں بھی ابھی تک کابل سے انخلاء کے دوران کسی منصوبہ بندی کے بغیر ہی بوکھلاہٹ میں پیدا ہونے والے مسائل پر بحث نہیں تھمی ہے۔ابھی ان 80ہزار کے بارے میں پوچھاجا رہا ہے کہ ان کا کیا بنا؟ کس حال میں ہیں؟یاد رہے کہ اس افغان تربیت یافتہ انسداد دہشت گردی اسکواڈ نے امریکی سی آئی اے کی ہدایات کی روشنی میں ایئر پورٹ کی پیٹرولنگ اور اس کے دروازوں کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی تھی۔اور آخری لمحات تک یہیں ڈیوٹی کرتے رہے۔یہ آخری اتحادی تھے جنہیں افغانستان سے نکالا جانا باقی تھا۔تاہم یہ کام ہنوز جاری ہے۔عمومی تأثر یہی ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ اس ضمن میں تسلی بخش جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں۔شایدان پریشان کن حالات میں امریکی تھنک ٹینک ئیہی مناسب سمجھترے ہوں کہ ایک نیا محاذ کھولیں اور اپنے عوام کی توجہ ادھر منتقل کر دیں۔لیکن یہ حربہ امریکی حکومت کے لئے مسائل کا حل دینے کی بجائے ایک نیا اور بھاری بوجھ بن جائے گا۔اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ اس بار امریکہ کا سامنا عراق، شام، لیبیاء اور افغانستان جیسے فوجی اور معاشی لحاظ سے کمزور ملکوں سے نہیں ہو رہا بلکہ چین اور روس جیسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایٹمی قوتوں سے ہوگا،چین اور روس کو دوسری برتری یہ حاصل ہے کہ اس مرتبہ انہیں اپنے فوجی ہزاروں میل دور سے محاذ تک پہنچانے کی مجبوری لاحق نہیں۔ اپنی سرحدوں پر ہی دشمن سے مقابلہ کرنا ہے۔ جبکہ امریکہ کو اپنا ہر فوجی محاذ پر پہنچانے میں ہزاروں میل کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا۔چین اور روس کو مانوس ماحول میسر آئے گا اس کے برعکس امریکہ ایک نئی اور بڑی مصیبت میں پھنس جائے گا۔ یوکرین کے تازہ ترین بیانات سے یہی تأثر ملتا ہے کہ امریکہ کو یہاں مختلف صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ بھی واضح رہے کہ گزشتہ دہائیوں میں امریکہ پے درپے فوجی شکستوں کا بوجھ اٹھانے میں مصروف رہا ہے،اس کی سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کہ عوام کو کیسے سمجھائے کہ امریکی حکمرانوں نے ماضی میں اپنی دانست میں معاشیاور فوجی اعتبار سے کمزور ملکوں کو پتھر کے زمانے میں پہنچانے کے جو بڑے بڑے اعلانات کئے تھے،ان اعلانات سے پہلے اپنا ہوم ورک مکمل نہیں کیا تھا۔ بظاہر ہر ذی شعور شہری یہی کہے گا کہ یہ ایک ایسی سچائی ہے جسے عوام سے دیر تک چھپانا ممکن نہیں۔ آج نہیں تو کل عوام کے روبرو تسلیم کرنا ہوگا کہ ”امریکی حکمرانوں نے زمینی حقائق کو سمجھنے میں غلطی کی“۔اگر اس غلطی کا اعتراف کرنے سے پہلے امریکی تھنک ٹینک ایک بہت بڑی حماقت کرنا ضروری سمجھتے ہیں جسے دیکھ کر امریکی عوام سکتے میں آجائیں اور حکمرانوں کو ماضی کے حوالے سے پوچھنے کی بجائے مستقبل کی تعمیر نو جیسی خوبصورت بحث میں الجھاسکیں،تب بھی انہیں چاہیئے کہ اس آگ کو دہکانے سے پہلے متعد بار سوچیں، ہر پہلو سے باریک بینی سے جائزہ لیں۔ اس دفعہ بھڑکائی جانے والی جنگ میں صرف امریکی فوجی ہی نہیں جل مریں گے،اس آگ میں امریکی معیشت کے ساتھ اس کے جھوٹے بھرم کا بھی جنازہ اٹھے گا جسے امریکہ نے مسلسل پروپیگنڈے کے ذریعے آج تک ایک ہوا (خوفناک شے)بنا کر دنیا کو ڈرایا ہوا ہے۔روس اور چین سے لڑی جانے والی جنگ کی ابتدائی صف بندی سے ہی عیاں کہ امریکی اتحادی اس کے ساتھ نہیں نظر آرہے۔اس لئے کہ انہیں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ امریکہ اپنی سابقہ غلطیوں کا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں، وہ تازہ شکست کا ملبہ کیسے اٹھائے گا؟کہاں لے جائے گا؟فاتحین نے اگر تاوان جنگ مانگ لیا تو ادائیگی کیسے ہوگی؟کون کرے گا؟ہارنے والے کے چہرے کی پھیکی پھیکی رنگت، آنکھوں کی ویرانی،زبان کی لکنت اور لڑکھڑاہٹ خود چغلی کھا رہی ہے،ل کی بے ربط اور بے ہنگم دھڑکن دنیا کو سنارہی ہے۔پہلی اور دوسری عالمی جنگ میں ہارنے والے ملکوں نے تاوان ادا کیا تھا۔جو کچھ ماضی میں (اگست1945سے اگست2021تک)امریکہ نے دنیا کو جس طرح راکھ کا ڈھیر بنایا اس کی قیمت بھی چکانی پڑے گی۔امریکہ نام نہاد جمہوریت کے نام پر کانفرنس بلا کر کچھ حاصل نہیں کر سکا،چین کو تنہا کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا، خود تنہا ہو گیا۔3فروری کو چین میں سرمائی اولمپکس پوری شان اور وقار سے منعقد ہو رہے ہیں۔دو دن بعد دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گی۔امریکی تھنک ٹینک یاد رکھیں دنیاکبھی کسی ناکام کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی،امریکہ سے خود امریکی عوام پوچھیں گے: ”ہماری تباہی و بربادی کا ذمہ دار کون ہے؟“، بہت جلدوہ وقت آنے والا ہے جب امریکی حکمران ایک دوسرے پر بدترین الزامات عائد کر
رہے ہوں گے۔امریکی تھنک ٹینکس نے77سال تک دنیا پر مسلسل بمباری کی ہے۔خلیجی ریاستیں ابھی اپنی پریشانی سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں، افریقی اور لاطینی امریکی ریاست بیک آواز تاوانِ جنگ طلب کریں گی،ایسا سماں ہوگا کہ زبانِ خنجر چپ رہے گی تو آستین کا لہو پکارے گا!امریکی بے حس اور بے رحم حکمرانو! سن لو! تمہیں غریب ممالک سے لوٹی ہوئی ایک ایک پائی کا حساب دینا ہوگا۔غریب بچوں سے کے منہ سے چھینے گئے ہر نوالے کا حساب دینا ہوگا۔ تمہیں آبادیاں راکھ کے ڈھیروں میں تبدیل کرنے کا جواب دینا ہوگا، کیا قصور تھاان قتل ہونے والے معصوم بچوں کا؟نہتے نوجوانوں کا؟بوڑھے ماں باپ کا؟ دیکھ لو، آج تم خود اپنے قدموں سے چل کر مقتل کی طرف بڑھ رہے ہو!!!


