بلوچستان میں کوئی سٹیٹ لینڈ نہیں ،تمام قبائل کی اراضی ہے ،نواب رئیسانی

کوئٹہ :اراکین صوبائی اسمبلی نواب محمداسلم رئیسانی اور نصراللہ زیرے نے کہاہے کہ قبائل کی اراضی کی الاٹمنٹ اہم معاملہ ہے ایوان کی کمیٹی کی رپورٹ تھی کہ یہاں کوئی اسٹیٹ لینڈ نہیں بلکہ تمام قبائل کی اراضی ہے اگر کسی بھی وفاقی یا صوبائی ادارے کو کسی بھی مقصد کے لئے زمین چاہئے تو وہ قبائل سے بات کرے،میریونس عزیز زہری نے کہاہے کہ اگر خضدار میں50ہزار ایکڑ اراضی بولان مائننگ کمپنی کو الاٹ کی گئی تو شدید احتجاج کیاجائے گا۔گزشتہ روز اجلاس میں جمعیت علماءاسلام کے میر یونس عزیز زہری نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ خضدار میں بولان مائننگ کمپنی جو 1970ءکی دہائی سے کام کررہی ہے معاہدے کی مدت ختم ہونے کے باوجود کمپنی نے اپنا کام جاری رکھا ہوا ہے کمپنی کے سربراہ کا دفتر کوئٹہ میں ہے میں نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ملاقات کی بجائے انہوںنے کہا کہ وہ صرف فون پر بات کرسکتے ہیں جس سے میرا استحقاق مجروح ہوا ہے جس پر میں تحریک استحقاق لاﺅں گا انہوںنے کہا کہ اب خضدار میں صوبائی حکومت کو پچاس ہزار ایکڑا راضی کی الاٹمنٹ لیز کے لئے درخواست دی گئی ہے اور شنید ہے کہ یہ اراضی الاٹ ہونے جارہی ہے انہوںنے کہا کہ خضدار میونسپل ایریا میں پچاس ہزار ایکڑ اراضی اگر الاٹ کی گئی تو پھر شہر کو کہاں لے کر جائیں گے؟ ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے اگر پی پی ایل کو یہ اراضی دی گئی تو اس پر ہم شدید احتجاج کریں گے ۔ سابق وزیراعلیٰ نواب محمد اسلم رئیسانی نے کہا کہ یہ نہایت اہم معاملہ ہے ماضی میں اس ایوان کی ایک کمیٹی بنی تھی جس میں میں اور ملک سکندر خان ایڈووکیٹ بھی شامل تھے جس نے یہ رپورٹ دی تھی کہ یہاں کوئی اسٹیٹ لینڈ نہیں بلکہ تمام قبائل کی اراضی ہے اگر کسی بھی وفاقی یا صوبائی ادارے کو کسی بھی مقصد کے لئے زمین چاہئے تو وہ قبائل سے بات کرے پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے یونس عزیز زہری کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں تمام اراضی صوبے میں آباد قبائل کی ہے مگر گزشتہ دنوں میں زیارت گیا تو وہاں علم ہوا کہ قبائل کی اراضی لوگوں کو الاٹ کی جارہی ہے یہی کچھ کوئٹہ میں مختلف قبائل کی اراضی کے ساتھ کیا جارہا ہے جبکہ انگریز دور میں بھی جب اراضی کی ضرورت پڑتی تھی تو وہ قبائل سے بات کرتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں